عقائد و نظریات

معبودان کفار اور شرعی احکام (قسط ہشتم)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط ہفتم میں دوسروں کے کفریہ کلام کو نقل کرنے کی صورتوں اوراحکام کا بیان ہے۔
بحث دواز دہم: کفریہ کلام کی نقل کی صورتیں اوراحکام
کسی نے کفریہ کلام کہا۔اس کی شہادت، اس کے رد وابطال یالوگوں کو اس سے پر ہیز کی تلقین کے واسطے اس کا کفریہ کلام نقل کیا جائے گا۔ ان صورتوں میں اس کفریہ کلام کے عدم قبول اورعدم تحسین کی صراحت ہوتی ہے،یا قرینہ عدم قبول وعدم تحسین کو ظاہر کرتا ہے۔

ایسے ہی مواقع کے لیے کہا جاتا ہے:”نقل کفر،کفر نباشد“۔بعض صورتوں میں کسی کے کفریہ کلام کونقل کرنا ناجائزوحرام ہے۔ تحسین کی صورت میں کفریہ کلام کی نقل کفر ہے۔
بلا تسلیم کفریہ قول کی نقل
بلا تسلیم نقل کفر سے متعلق فتاویٰ رضویہ سے سوال وجواب مندرجہ ذیل ہے۔

مسئلہ:بسم اللہ الرحمن الرحیم::نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسلمانوں کے حق میں جو آریہ سما جوں میں جاکر کاپی نویسی کرتے ہیں،یا پریس میں ہیں،یا ان کے اخبار اور مذہبی پرچے روانہ یا تقسیم کرتے ہیں، حالاں کہ ان پرچوں میں قرآن کریم اور رسول رحیم پر کھلے کھلے اعتراض والزام ہوتے ہیں۔ رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ منہا اور علمائے متقدمین ومتاخرین کو کھلی کھلی گالیاں دیئے جاتے ہیں جس کے شاہد سماجی کتب ترک اسلام، تہذیب الاسلام، آریہ مسافر جالندھر، آریہ مسافر میگزین، مسافر بہرائچ، آریہ پتر بریلی، ستیارتھ پرکاش موجود ہیں۔

نمونے کے طور پر چند الفاظ نقل ذیل ہیں:
………………(ستیارتھ پرکاش، مسافر، بہرائچ)

آیا ان مسلمانوں سے جو سماجوں میں ملازم ہیں،میل جول رکھا جائے اور مسلمان سمجھے جائیں، ایسے مسلمان جو مخالفین اسلام ودشمنان خدا ورسول کی اعانت کرنے والے ہیں، ان کے جنازے کی نماز پڑھنا درست ہے؟اور ان کے ساتھ شراکت ونکاح جائز ہے یا نہیں؟ مفصل بیان فرمائیے۔ اللہ اس کا اجرعظیم عطا فرمائے۔

الجواب:اللہ عزوجل اپنے غضب سے پناہ دے۔ الحمدللہ فقیر نے وہ ناپاک ملعون کلمات نہ دیکھے۔جب سوال کی اس سطر پر آیا جس سے معلوم ہوا کہ آگے کلمات لعینہ ملعونہ منقو ل ہوں گے، ان پر نگاہ نہ کی۔ نیچے کی سطریں جن میں سوال ہے، باحتیاط دیکھیں۔ ایک ہی لفظ اوپر سائل نے نقل کیا اور نادانستگی میں نظر پڑی،وہی مسلمان کے دل پرزخم کو کافی ہے۔ اب یہ کہ جواب لکھ رہاہوں۔ کاغذ تہہ کرلیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملعونات کو نہ دکھائے،نہ سنائے۔
جونام کے مسلمان کاپی نویسی کرتے ہیں اوراللہ عزوجل وقرآن عظیم ومحمدر سول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں ایسے ملعون کلمات، ایسی گالیاں اپنے قلم سے لکھتے چھا پتے ہیں،یا کسی طرح اس میں اعانت کرتے ہیں،ان سب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اترتی ہے۔

وہ اللہ ورسول کے مخالف اور اپنے ایمان کے دشمن ہیں۔ قہر الٰہی کی آگ ان کے لئے بھڑکتی ہے۔صبح کرتے ہیں تو اللہ کے غضب میں اور شام کرتے ہیں تو اللہ کے غضب میں، اور خاص جس وقت ان ملعون کلموں کو آنکھ سے دیکھتے،قلم سے لکھتے، مقابلہ وغیرہ میں زبان سے نکالتے،یا پتھر پر اس کا ہلکا بھرا بناتے ہیں، ہر کلمے پر اللہ عزجل کی سخت لعنتیں، ملائکۃ اللہ کی شدید لعنتیں ان پر اترتی ہیں۔ یہ میں نہیں کہتاہوں، قرآن فرماتاہے:(ان الذین یؤذون اللّٰہ ورسولہ لعنہم اللّٰہ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدھم عذابا مہینا)
بے شک وہ لوگ جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو،ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا وآخرت میں۔ اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب۔

ان ناپاکوں کا یہ گمان کہ گناہ تو اس خبیث کا ہے جو مصنف ہے، ہم تو نقل کردینے یا چھاپ دینے والے ہیں،سخت ملعون ومردود وگمان ہے۔ زید کسی دنیا کی عزت دار کو گالیاں لکھ کر چھپوانا چاہے تو ہر گز نہ چھاپیں گے۔ جانتے ہیں کہ مصنف کے ساتھ چھاپنے والے بھی گرفتار ہوں گے، مگر اللہ واحد قہار کے قہر وعذاب و لعنت وعتاب کی کیا پرواہ۔
یقینا یقینا کاپی لکھنے ولا،پتھر بنانے والا، چھاپنے والا، کَل چلانے والا غرض جان کر کے کہ اس میں یہ کچھ ہے، کسی طرح اس میں اعانت کرنے والا سب ایک رسی میں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں ڈالے جانے کے مستحق ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتاہے:(ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان)گناہ اور حد سے بڑھنے میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:(من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام-رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی صحیح المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)

(جو دانستہ کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے چلا،وہ یقینا اسلام سے نکل گیا۔
امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور ضیا نے صحیح مختارہ میں حضرت اوس بن شرحبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسے روایت کیاہے:ت)

یہ اس ظالم کے لیے ہے جو گرہ بھر زمین یا چار پیسے کسی کے دبالے،یا زید وعمرو کسی کو ناحق سست کہے،اس کے مددگار کو ارشاد ہوا کہ اسلام سے نکل جاتاہے، نہ کہ یہ اشد ظالمین جو اللہ ورسول کو گالیاں دیتے ہیں۔ان باتوں میں ان کا مددگار کیوں کر مسلمان رہ سکتاہے۔

طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
(من آفات الید کتابۃ ما یحرم تلفظہ من شعر المجون والفواحش و القذف والقصص التی فیہا نحو ذٰلک والاھاجی نثرًا ونظمًا والمصنفات المشتملۃ علٰی مذاھب الفرق الضالۃ-فان القلم احدی اللسانین-فکانت الکتابۃ فی معنی الکلام-بل ابلغ منہ لبقاۂا علی صفحات اللیالی والایام -والکلمۃ تذھب فی الہواء ولا تبقی-اھ مختصرا)

(ہاتھ کی آفتوں سے ایک یہ ہے کہ وہ کچھ لکھا جائے جس کا بولنا حرام ہے،یعنی جیسے مذمت کے اشعار، فحش باتیں، گالی گلوج اور وہ واقعات جو اسی قسم کی باتوں پرمشتمل ہوں، اور ہجو کرنا خواہ نثر میں ہو یا نظم میں،اور گمراہ فرقوں کے مذاہب پر مشتمل تصنیفات،اس لیے کہ بولنے والی زبان کی طرح قلم بھی ایک زبان ہے (جس کے ذریعے اظہار خیال ہوتاہے)، لہٰذا لکھنا بولنے ہی کی طرح ہے،بلکہ بولنے سے بھی زیادہ بلیغ ہے، جب کہ (زبان سے ادا ہو نے والے) کلمات ہوا میں (منتشر ہوکر) گم ہوجاتے ہیں، اور باقی نہیں رہتے:مختصرا:ت)
ایسے اشد فاسق فاجر اگر توبہ نہ کریں تو ان سے میل جول ناجائز ہے۔ان کے پاس دوستانہ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے، پھر مناکحت توبڑی چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
(واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین)
(اگر تجھے شیطان (غلط قسم کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا حکم) بھلادے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو:ت)

اور جو ان میں اس ناپاک کبیرہ کو حلال بتائے،اس پر اصرار واستکبارو مقابلہ شرع سے پیش آئے،وہ یقینا کافرہے۔اس کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہے۔ اس کے جنازے کی نماز حرام۔ اسے مسلمانوں کی طرح غسل دینا، کفن دینا،دفن کرنا، اس کے دفن میں شریک ہونا، اس کی قبر پر جانا سب پر حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:(ولا تصل علٰی احد مہنم مات ابدًا ولاتقم علٰی قبرہ) واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
(جب ان کافروں میں سے کوئی مرجائے تو اس پر نماز مت پڑھو،اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم:ت)

فقیر کے یہاں فتاوی مجموعہ پر نقل ہوتے ہیں، میں نے نقل فرمانے والے صاحب سے کہہ دیا ہے کہ ان ملعون الفاظ کی نقل نہ کریں۔ سنا گیا ہے کہ سائل کا قصہ اس فتوے کے چھاپنے کاہے۔میں درخواست کرتاہوں کہ ان ملعونات کو نکال ڈالیں۔ ان کی جگہ دو ایک سطریں خالی صرف نقطے لگا کر چھوڑ دیں کہ مسلمانوں کی آنکھیں ان لعنتی ناپاکوں کے دیکھنے سے باذنہ تعالیٰ محفوظ رہیں۔(فاللّٰہ خیرحافظًا وھو ارحم الراحمین)(اللہ تعالیٰ سب سے بہتر نگہبان ہے،اور وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے: ت)
(فتاویٰ رضویہ:جلد 21:ص136- جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح: کفریہ کلمات کی نقل کی چار صورتیں ہیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ تفصیل رقم کی جائے گی۔رد وانکار اور تقبیح وابطال کے لیے کفریہ اقوال کی نقل جائز ہے۔جو لو گ بلا ضرور ت شرعیہ عدم تسلیم کی صراحت کے ساتھ کفریہ کلمات کو نقل کرتے ہیں، وہ فعل حرام میں مبتلا ہیں، اورجولوگ اس فعل کو جائز بتاتے ہیں،اس کے جوازپر اصرار واستکبار کرتے ہیں، وہ کافر ہیں۔ ان کی بیویاں ان کے نکاح سے نکل گئیں،جیسا کہ منقولہ بالا فتویٰ میں صراحت ہے۔

جب ناقل بلا ضرورت شرعیہ کسی کا کفریہ کلام نقل کرے،اور عدم تسلیم پرقرینہ دلالت کرے،یا ناقل عدم تسلیم کی صراحت کردے،جیسا کہ منقولہ بالا فتویٰ میں ہے، تب حرمت کا حکم ہے۔جب کوئی کسی کا کفریہ کلام تحسین کے طورپرنقل کرے تو ناقل پر بھی حکم کفرہوگا۔

منقولہ بالا فتویٰ میں عدم تسلیم کی صراحت ہے، اسی لیے کفر کا حکم نہیں دیا گیا،بلکہ اس فعل کوحرام قرار دیا گیا۔ عدم تسلیم کی صراحت کا ذکر مندرجہ ذیل اقتباس میں ہے۔

”ان ناپاکوں کا یہ گمان کہ گناہ تو اس خبیث کا ہے جو مصنف ہے، ہم تو نقل کردینے یا چھاپ دینے والے ہیں،سخت ملعون ومردود وگمان ہے۔ زید کسی دنیا کی عزت دار کو گالیاں لکھ کر چھپوانا چاہے تو ہر گز نہ چھاپیں گے۔ جانتے ہیں کہ مصنف کے ساتھ چھاپنے والے بھی گرفتار ہوں گے، مگر اللہ واحد قہار کے قہر وعذاب و لعنت وعتاب کی کیا پرواہ“۔

امام اہل سنت نے رقم فرمایا کہ مذکورہ صورت میں کفریہ کلمات کی نقل حرام ہے۔ اس حرام کو حلال بتانے والا کافر ہے،جیسے دوسرے حرام قطعی کو حلال بتانے والا کافر ہے۔

کتھائی مجلس میں بھی معبودکفار کی توصیف ومدح سرائی کی گئی،اور معبود ان کفار کی مدح وستائش کفر ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں غیروں کے اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ بالفرض یہی مان لیا جائے کہ قائل نے کفار ومشرکین کے اقوال کونقل کیا ہے تو رد وابطال اور تقبیح وانکارکے لیے نقل نہیں کیا،بلکہ معبود کفار کی توصیف بیانی کے بعد قائل نے کہا:
”میں اسی ……کوجانتا ہوں جس نے نفرت کا کوئی سندیش انسانیت کونہیں دیا۔ نفرت کے مقابلے میں محبت کے اس نے بادل برسائے۔انسان کی کھوئی ہوئی عظمت کو واپس کروایا“۔

ان جملوں سے ماقبل میں بیان کردہ توصیفی جملوں کی مزید تاکید ہوگئی۔ اس تاکید سے یہ واضح ہے کہ قائل بھی مذکورہ تعریفی جملوں کو اچھاسمجھتا ہے۔ بصورت تحسین حکم کفر ہوگا،کیوں کہ معبود ان کفار کی مدح وستائش ان کی تعظیم ہے،اور غیرمومن معبودان کفار کی تعظیم کفر ہے۔

بلا ضرورت شرعیہ غیرکے کفریہ کلمات کی نقل جب عدم تسلیم کی صراحت یاعدم تسلیم کے قرینہ کے ساتھ ہو، تب حرام ہے۔شرعی ضرورت وحاجت کے وقت نقل جائز ہے۔

کتھائی مجلس کے بیان میں اقوال غیر کی نقل نہیں،بلکہ ڈاکٹراقبال کے شعر کی تشریح خودقائل نے اپنے الفاظ میں کی ہے۔اس بیان میں جابجا معبود کفار کے لیے متعدد توصیفی جملے ہیں جو خود قائل کے ہیں۔خیرخواہی کا تقاضا یہی ہے کہ مومن بھائیوں کوصحیح حکم شرعی بتا کر ان سے توبہ لی جائے،تاکہ وہ آخرت میں مغفرت وشفاعت کے حقداربن سکیں۔

بلاضرورت شرعیہ کفریہ کلام کا ترجمہ کرنا کفر

کفریہ اقوال کے ترجمہ سے متعلق فتاویٰ رضویہ سے سوال وجواب منقولہ ذیل ہے۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان ممتحن نے زیرنگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کے لیے مرتب کیا جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھے۔

حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی اور توہین کے فقرات استعمال کئے، تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہوکر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی معصوم و مقدس شان میں بدگوئی لکھیں، جو برائے فتویٰ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

”ابن عبدا للہ نے اس قبیلہ میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصلی زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی باموقع سکوت پر عمل کرنے سے تصحیح اور ترقی ہوتی رہی، باوجود اس فصاحت کے محمد ایک ناخواندہ وحشی تھا۔ بچپن میں اسے نوشت وخواند کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔

عام جہالت نے اسے شرم اور ملامت سے مبراکردیا تھا، مگر اس کی زندگی ایک ہستی کے تنگ دائرہ میں محدود تھی اور وہ اس آئینہ سے(جس کے ذریعہ سے ہمارے دلوں پر عقل مندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے) محروم رہا، تاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور انسان کا مشاہدہ کرتا۔ کچھ تمدنی اور فلسفی تو ہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کیے جاتے ہیں،پیدا ہوگئے تھے“۔

جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں ن اس کی نظر ثانی کی، وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شان حضرت جناب رسالت مآب میں کئے گئے،وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے یانہیں اور ان کی کیا سزا ہے،اور ان کی بابت شرع شریف کا کیاحکم ہے،فقط۔راقم: مسلمانان جون پور
(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 37-رضا اکیڈمی ممبئ)

وضاحت:سوال کے ساتھ علمائے جون پورکے تین جوابات ہیں۔بخوف طوالت وہ نقل نہ کیے گئے۔اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کا جواب مندرجہ ذیل ہے۔
الجواب:رب اعوذبک من ھمزات الشیطین-اعوذبک رب ان یحضرون -والذین یؤذون رسول اللّٰہ لھم عذاب الیم-ان الذین یؤذون اللّٰہ و رسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدّلھم عذابا مھینا-الالعنۃ اللّٰہ علی الظٰلمین
ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا، وہ کافر مرتد ہے، جس جس نے اس پر نظر ثانی کرکے بر قرار رکھا، وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا،وہ کافر مرتد، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے،اور انہوں نے بجوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا،اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے، یا اسے ہلکا جانا،یا اسے اپنے نمبر گھٹنے، یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا،وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں خواہ نابالغ۔

ان چاروں فریق میں ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام، نشست وبرخاست حرام، بیمارپڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام اس کی جنازہ اٹھانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنانا حرام، اسے مٹی دینا حرام، اس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام، بلکہ خود کفر قاطع اسلام۔

جب ان میں کوئی مرجائے،اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکم شرع مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لیے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اٹھواکر کسی تنگ گڑھے میں ڈلواکر اوپر سے آگ پتھر جو چاہیں، پھینک پھینک کر پاٹ دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو۔ یہ احکام ان سب کے لئے عام ہیں اور جوجوان میں نکاح کئے ہوئے ہوں، ان سب کی جوروئیں ان کے نکاحوں سے نکل گئیں۔اب اگر قربت ہوگی،حرام حرام حرام وزنائے خالص ہوگی،اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی، ولدالزنا ہوگی۔

عورتوں کو شرعاً اختیار ہے کہ عدت گزرجانے پر جس سے چاہیں، نکاح کرلیں۔ان میں سے جسے ہدایت ہو، اور توبہ کرے، اور اپنے کفر کا اقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو،اس وقت یہ احکام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گے، اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی،جب بھی باقی رہے گی،یہاں تک کہ اس کے حال سے صدق ندامت وخلوص توبہ وصحت اسلام ظاہر وروشن ہو، مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں آسکتیں۔انہیں اب بھی اختیار ہوگا کہ چاہیں د،وسرے سے نکاح کرلیں،یا کسی سے نہ کریں۔ ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا۔ہاں، ان کی مرضی ہوتو بعداسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 39-38-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح:منقولہ بالا فتویٰ میں ہے کہ چاروں فریق کافر ہیں، کیوں کہ تین فریق یعنی امتحان کا پرچہ لکھنے والا، جس کی نگرانی میں لکھا گیا،اور جس نے نظر ثانی کی،یہ تینوں فریق اس پرچہ کو صحیح ماننے والے ہیں جس میں کفریہ کلمات مرقوم ہیں۔ کفریہ کلمات کو صحیح ماننا کفر ہے۔

طلبہ نے ان کفریہ کلمات کا ترجمہ اپنی خوشی سے کیا۔وہ اکراہ شرعی میں مبتلا نہیں تھے، لہٰذا وہ بھی کافر ہوئے۔وہ ناقل نہیں مانے جائیں گے،بلکہ اپنی خوشی سے کفریہ کلمات کے مترجم مانے جائیں گے۔ جب ان لوگوں نے عربی زبان میں ان کفریہ کلمات کا ترجمہ کیا تو امتحانی پرچہ کی روشنی میں عربی زبان میں ازخود کفریہ کلمات لکھنے والے قرار پائے۔جس طرح اکراہ شرعی کے بغیر کفریہ کلمات زبان سے بولنا کفر ہے۔

اسی طرح کفریہ کلمات لکھنا بھی کفر ہے،جیسے اشخاص اربعہ اورقادیانی نے اپنی کتابوں میں کفریہ کلمات لکھے اور کفر کا تمغہ پائے۔

نقل یہ ہے کہ دوسرے نے جوکچھ کہا،یا لکھا ہے،زبان یا قلم سے اس کو نقل کردیا جائے۔مذکورہ بالا صورت میں نقل نہیں ہے،بلکہ طلبہ نے ان کلمات کے عربی تراجم خود سے کیے ہیں۔یہ خودسے کفریہ کلام کہنا قرار پائے گا۔ عرف میں بھی ترجمہ کونقل نہیں کہا جاتا ہے۔

نقل کفر کی صورتیں اوراحکام

نقل کفر کی بھی چار صورتیں ہیں۔اگر رد وانکار اور تقبیح وابطال کے لیے نقل کیا جائے تو کفر نہیں۔اگر اسے صحیح مان کر نقل کیا یا اچھا سمجھ کر نقل کیاتو حکم کفرہے۔

نقل کی صورت اول و دوم

قاضی عیاض مالکی قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:(الوجہ السادس أن یقول القائل ذلک حاکیا عن غیرہ وآثرا لہ عن سواہ-فہذا ینظر فی صورۃ حکایتہ وقرینۃ مقالتہ-ویختلف الحکم باختلاف ذلک علٰی أربعۃ وجوہ:
الوجوب،والندب،والکراہۃ،والتحریم۔

فإن کان أخبر بہ علٰی وجہ الشہادۃ والتعریف بقائلہ والإنکار والإعلام بقولہ والتنفیر منہ والتجریح لہ-فہذا مما ینبغی امتثالہ ویحمد فاعلہ-وکذلک إن حکاہ فی کتاب أو فی مجلس علٰی طریق الرد لہ والنقض علٰی قائلہ والفتیا بما یلزمہ-وہذا منہ ما یجب ومنہ ما یستحب بحسب حالات الحاکی لذلک والمحکی عنہ۔

فإن کان القائل لذلک ممن تصدی لأن یؤخذ عنہ العلم أو روایۃ الحدیث أو یقطع بحکمہ أو شہادتہ أو فتیاہ فی الحقوق،وجب علٰی سامعہ الإشادۃ بما سمع منہ والتنفیر للناس عنہ والشہادۃ علیہ بما قالہ:

ووجب علی من بلغہ ذلک من أئمۃ المسلمین إنکارہ وبیان کفرہ وفساد قولہ لقطع ضررہ عن المسلمین وقیاما بحق سید المرسلین۔

وکذلک إن کان ممن یعظ العامۃ أو یؤدب الصبیان فإن من ہذہ سریرتہ لا یؤمن علی إلقاء ذلک فی قلوبہم فیتأکد فی ہؤلاء الإیجاب لحق النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولحق شریعتہ۔
وإن لم یکن القائل بہذہ السبیل فالقیام بحق النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجب وحمایۃ عرضہ متعین ونصرتہ علی الأذی حیا ومیتا مستحق علی کل مؤمن-لکنہ إذا قام بہذا من ظہر بہ الحق وفصلت بہ القضیۃ وبان بہ الأمر،سقط عن الباقی الفرض وبقی الاستحباب فی تکثیر الشہادۃ علیہ وعضد التحذیر منہ-وقد أجمع السلف علی بیان حال المتہم فی الحدیث فکیف بمثل ہذا)(الشفا:ص998-997-دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:چھٹی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے غیر سے حکایت کرے،اور اپنے غیر کا قول نقل کرے،پس اس کی صورت حکایت اور اس کے قر ینہ کلام کودیکھا جائے گا، اور صورت حکایت وقرینہ مقالیہ کے اختلاف کے سبب حکم کی چار صورتیں ہوں گی۔وجوب، استحباب، کراہت اور حرمت۔
اگر ناقل نے گواہی دینے اور اس کے قائل کی پہچان کرانے،اورا س کے قول کے انکار اوراس کی اطلاع دینے،اوراس سے نفرت دلانے اور اس پرجرح کرنے کے واسطے قول کو نقل کیاتواس نقل کو قبول کیا جائے گااور ناقل قابل تعریف ہے۔یہی حکم ہے اگر اس قول کوکسی کتاب یا کسی مجلس میں اس قول کو رد کرنے اور اس کے قائل پر اعتراض کرنے اور اس پر لازم آنے والے حکم شرعی کو بیان کرنے کے لیے نقل کیا،اور اس کے ناقل اوراس کے قائل کے حالات کے اعتبارسے کبھی یہ نقل واجب ہے اور کبھی مستحب ہے۔
پس اگراس قول کا قائل اس منصب پر خودکورکھاہو کہ اس سے علم دین یا حدیث کی روایت لی جاتی ہو،یااس کے حکم یا اس کی شہادت یا حقوق سے متعلق اس کے فتویٰ کو لیا جاتا ہے تو اس کے سامع پر اس سے سنی ہوئی بات کی اشاعت،اور لوگوں کواس سے نفرت دلانا اوراس کے قول کی شہادت دینا ضروری ہے۔

اور ائمہ مسلمین میں سے جن کے پاس یہ قول پہنچے،ان پر اس قول کا انکار کرنا، اور اس کے کفر اوراس کے قول کے بطلان کا بیان کرنا ضروری ہے، مسلمانوں سے ضرردورکرنے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق کی پاسداری کے لیے۔

یہی حکم ہے،اگر وہ قائل لوگوں کووعظ کرنے والوں میں سے ہو، یابچوں کو تعلیم دیتا ہو، اس لیے کہ جس کی یہ عادت ہو، وہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈالنے سے محفوظ نہیں رہے گا،پس حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق اورشریعت اسلامیہ کے حق کے سبب ان لوگوں (بے ادبی کرنے والے خاص لوگ)کے بارے حکم وجوب مؤکد ہوجائے گا۔

اور اگر قائل اس منصب کا نہ ہوتو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق کی پاس داری ضروری ہے،اور آپ کی عزت کا تحفظ لازم ہے،اورہر مومن پر بے ادبی کے برخلاف حیات ظاہر ی میں اور حیات ظاہر ی کے بعد حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حمایت ونصرت لازم ہے،لیکن جب کوئی شخص یہ فریضہ انجام دے دے جس سے حق ظاہر ہوجائے، فیصلہ ہوجائے اور معاملہ واضح ہوجائے تو باقی لوگوں سے فرض ساقط ہوجائے گا، اور اس کے برخلاف شہادت کے اضافے اور اس سے (لوگوں کو)ڈرانے کا استحباب باقی رہے گا، اور حدیث میں متہم راوی کے حال کے بیان پرحضرات اسلاف کرام علیہم الرحمۃوالرضوان کا اجماع ہے تو ایسے شخص (حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بے ادب)کا حال کیا ہوگا۔

توضیح:کفریہ قول نقل کرنے کی صرف دو جائز صورتیں ہیں۔(۱)قائل کے خلاف شہادت وگواہی دینے کے واسطے اس کی نقل جائز ہے۔(۲)اس کفریہ قول کے رد وابطال کے لیے اس کی نقل جائز ہے۔ ان دوصورتوں کے علاوہ جواز کی کوئی صورت نہیں۔

کتھائی مجلس میں معبود کفار کی مدح وستائش پر مشتمل جملے خو د قائل کے ہیں۔بالفرض نقل بھی مانی جائے تو بطور استحسان نقل ہے جس کے سبب حکم کفرعائد ہوگا۔ ایسے موقع پرخیر خواہی یہی ہے کہ اپنے مومن بھائیوں کی مدد کی جائے۔ان کو توبہ کی جانب راغب کیا جائے۔ ان کو توبہ ورجوع کی منزل سے گزار کران کے حسن آخرت کی کوشش کی جائے۔

صورت اول ودوم کے علاوہ کوئی جائزصورت نہیں

(وأما الإباحۃ لحکایۃ قولہ لغیر ہذین المقصدین فلا أری لہا مدخلا فی ہذا الباب فلیس التفکہ بعرض رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم والتمضمض بسوء ذکرہ لأحد لا ذاکرا ولا آثرا لغیر غرض شرعی بمباح
وأما للأغراض المتقدمۃ فمتردد بین الإیجاب والاستحباب-وقد حکی اللّٰہ تعالی مقالات المفترین علیہ وعلی رسلہ فی کتابہ علٰی وجہ الإنکار لقولہم والتحذیر من کفرہم والوعید علیہ والرد علیہم بما تلاہ اللّٰہ علینا فی محکم کتابہ-وکذلک وقع من أمثالہ فی أحادیث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الصحیحۃ علی الوجوہ المتقدمۃ۔

وأجمع السلف والخلف من أئمۃ الہدی علی حکایات مقالات الکفرۃ والملحدین فی کتبہم ومجالسہم لیبینوہا للناس وینقضوا شبہہا علیہم)(کتاب الشفا:ص1000-999-دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:لیکن ان دومقاصدکے علاوہ کسی مقصد کے واسطے اس قول(بے ادبی پر مشتمل کلام) کو نقل کر نے کا جواز، پس اس باب میں مجھے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی،اس لیے کہ بلا ضرورت شرعیہ کسی کے لیے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں بے ہودہ کلام کرنا،اور زبان پرلاناجائز نہیں،نہ یاد کرتے ہوئے،نہ غیر سے نقل کرتے ہوئے۔

لیکن گزشتہ مقاصدکے واسطے (غیر کے قول کونقل کرنا)تو وجوب واستحباب کے درمیان دائر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے مر سلین علیہم الصلوٰۃوالتسلیم پر افتراکرنے والوں کے اقوال کواپنی کتاب قرآن مجید میں ان کے اقوال کے انکار، ان کے کفرسے اور اس کے عذاب سے ڈرانے اور ان کے رد ابطال کے لیے بیان فرمایا،اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی محکم آیات طیبہ میں ہمارے لیے بیان فرمایا۔ اسباب سابقہ کی بنیادپر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں بھی اس کے امثال ونظائر وارد ہوئے۔

اپنی کتابوں اور اپنی مجلسوں میں کفار وملحدین کے اقوال کی نقل وحکایت پر سلف و خلف ائمہ ہدایت کا اجماع ہے،تاکہ وہ اقوال لوگوں کوبتائیں اور ان کے شبہات کودور کریں۔

نقل کی صورت سوم

(وہذہ الوجوہ الشائعۃ الحکایۃ عنہا-فأما ذکرہا علی غیر ہذا من حکایۃ سبہ والإزراء بمنصبہ علی وجہ الحکایات والأسمار والطرف وأحادیث الناس ومقالاتہم فی الغث والسمین ومضاحک المجان ونوادر السخفاء والخوض فی قیل وقال وما لا یعنی فکل ہذا ممنوع-وبعضہ أشد فی المنع والعقوبۃ من بعض۔

فما کان من قائلہ الحاکی لہ علی غیر قصد أو معرفۃ بمقدار ما حکاہ أو لم تکن عادتہ أو لم یکن الکلام من البشاعۃ حیث ہو ولم یظہر علی حاکیہ استحسانہ واستصوابہ،زجر عن ذلک ونہی عن العودۃ إلیہ وإن قوم ببعض الأدب فہو مستوجب لہ-وإن کان لفظہ من البشاعۃ حیث ہوکان الأدب أشد۔

وقد حکی أن رجلا سأل مالکا عمن یقول:القرآن مخلوق فقال مالک:کافر فاقتلوہ-فقال إنما حکیتہ عن غیری فقال مالک:إنما سمعناہ منک-وہذا من مالک رحمہ اللّٰہ علٰی طریق الزجر والتغلیظ بدلیل أنہ لم ینفذ قتلہ)(کتاب الشفا:ص1001-1000-دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:کفریہ کلمات کونقل کرنے کی یہ جائز صورتیں ہیں،لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی (پر مشتمل کلام)اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے منصب کی تنقیص (پرمشتمل کلام)کوقصہ،کہانی،عوام کی رطب ویابس بات چیت،بے ہودہ لوگوں کی ہنسی مذاق،بے وقوفوں کی عجیب وغریب باتوں،اور بے مطلب کی باتوں میں غور وفکر کے طرزپر نقل کرے تو یہ تمام صورتیں ممنوع ہیں،اور ان میں سے بعض ممانعت اور تعزیر میں بعض (دوسرے)سے سخت ہے۔

پس قائل کے اس قول کو(تنقیص نبوی کے) قصدکے بغیر نقل کرے، یا اس کی شناعت کو جانے بغیر نقل کرے، یا (اس طرح کے کلام کونقل کرنا)اس کی عادت نہ ہو، یا کلام بہت قبیح نہ ہو، اور ناقل کی حالت سے اس کو اچھا سمجھنا اور اس کو صحیح سمجھنا ظاہر نہ ہو،تو اس پراس کو زجر وتوبیخ کی جائے گی، اور دوبارہ اسے بیان کرنے سے روکا جائے گا، اور اگر اسے کچھ تعزیرکی جائے تو وہ اس کا مستحق ہے،اور اگر اس کا (نقل کردہ قول) حددرجہ قبیح ہوتو اس کی تعزیر سخت ہے۔

مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا جو قرآن کومخلوق کہتا ہے تو حضرت امام مالک علیہ الرحمۃوالرضوان نے فرمایا کہ یہ کافر ہے،اسے قتل کر دو،پس اس نے عرض کیا کہ میں نے یہ قول اپنے غیر سے نقل کیا ہے توحضرت امام مالک علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا کہ میں نے تم سے سنا۔یہ (کلام) حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے زجرو تشدید کے طورپر تھا،اس دلیل سے کہ آپ نے اس کے قتل کا حکم نافذنہیں فرمایا۔

نقل کی صورت چہارم

(وإن اتہم ہذا الحاکی فیما حکاہ أنہ اختلقہ ونسبہ إلٰی غیرہ-أو کانت تلک عادۃ لہ-أو ظہر استحسانہ لذلک-أوکان مولعا بمثلہ والاستخفاف لہ-أو التحفظ لمثلہ وطلبہ وروایۃ أشعار ہجوہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسبہ-فحکم ہذا حکم الساب نفسہ یؤاخذ بقولہ-ولا تنفعہ نسبتہ إلٰی غیرہ فیبادر بقتلہ ویعجل إلی الہاویۃ أمہ)
(کتاب الشفا:ص1002-1001-دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:اگر وہ ناقل اپنے نقل کردہ قول میں اس بات کا تہمت زدہ ہوکہ اس نے یہ قول خود گڑھ لیا اور اپنے غیر کی طرف منسوب کردیا، یا یہ اس کی عادت ہو،یا اس کااس کلام کو اچھا سمجھنا ظاہر ہو، یا و ہ اس قسم کی باتوں کا شوقین ہو، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تخفیف شان،یا اس قسم کے کلمات کو محفوظ کرنے،اسے تلاش کرنے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہجوکے اشعار کی روایت کرنے کا شیدائی ہوتواس کا وہی حکم ہے جوشاتم رسول کا حکم ہے۔اس کے قول پرمواخذہ ہوگا، اور غیر کی طرف اس کلام کی نسبت کرنا اسے فائدہ نہیں دے گا،پس اس کے قتل میں جلد بازی کی جائے گی،اوراسے اس کے ٹھکانہ جہنم کی طرف جلد بھیجا جائے گا۔

توضیح:چوتھی صورت میں متعددوجوہ کا بیان ہے۔ مذکورہ بالاطریقے پر غیر کا کفریہ کلام نقل کیا جائے تو ناقل پر بھی حکم کفر وارد ہوگا۔ نقل کفر، کفر نباشد کا دائرہ محدود ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:28:ستمبر2021

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے