مضامین و مقالات

تجارت کے پانچ بنیادی اصول

از قلم: محمد شہروز کٹیہاری، موہنا ،چوکی ،کدوا،کٹیہار

(1) تجربہ:- سلائی ،کڑھائی،رنگائی پوتائی،راج مستری،کاٹھ مستری ،وغیرہ دنیا کے ہر چھوٹے بڑے کام میں تجربہ کی اہمیت مسلم ہے _ تجربہ کار ہی زیادہ تر کامیاب ہوتے ہیں _ غیر تجربہ کار کی  کامیابی اگر نا ممکن نہیں تو دشوار گزار ضرور ہے _تجارت بھی ایک اہم کام ہے _بلکہ زراعت کے بعد معیشت کا دوسرا لازمی عنصر تجارت ہے _ نفع کے اعتبار سے تو اسے اولیت حاصل ہے _ پھر بھلا بلاتجربہ کے صرف روپے پیسے کے بل بوتے پر اس میں کامیابی کی بہت زیادہ امیدیں کیسے وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ _تجارت سے قبل تجارت کار کو کم از کم کسی بڑے کاروباری سے چند سال کا تجربہ ضرور حاصل کر لینا چاہیے۔

(2)صداقت:- دکان دار خام اور ردی مال فریب اورچرب زبانی کے سہارے وقتی طور پر بیچ کر بہت خوش ہو جاتا ہے اور اس فریب دہی کواپنی فنی مہارت تصور کرنے لگتا ہے _ شایدوہ بھول بیٹھا ہے کہ اس کو دکان ایک دودن کے لئے نہیں تاحیات چلانی ہے _ وہ فریب خوردہ گراہک بیچارہ خود اگرچہ فریب کھا لیا مگر مستقبل کے لئے اپنے دوست احباب میں سے دسیوں کو اس دکان سے باز رکھ دےگا _ کئی کپڑے کی دکانیں ناچیز راقم کے  سامنے چل پڑیں مگراب کساد بازاری کا شکار ہیں _سچ کہا جس نے کہا "سچ ہی کی جیت ہوتی ہے” اس لیے تاجر کے اندر صداقت ضرور ہونی چاہیے۔

(3)تحمل:-تحمل بڑی عظیم شئ ہے  _ گراہک جسمانی امراض کی طرح مختلف اقسام کے ہوتے ہیں ,انہیں برادشت کرنا ہنر مندی سے کم نہیں _ جس دکاندار میں قوت برداشت جتنی مضبوط ہو گی اتنا ہی وہ کامیاب ہے _ دکان دار کو چاہیئے کہ گراہک کو اپنا حاکم تصور کرلے _ جس طرح سرکاری وہ نیم سرکاری ملازمین کے حاکم ملازمین کو ہلکی سی کوتاہی پر ڈانٹ پلاتا ہے،بلکہ بسا اوقات حکام کی اپنی کوتاہیوں کی سزا  بھی بے چارے ملازمین کو بھگتنی پڑتی ہے _ ملازمین بھی  آسانی سے اسے برداشت کرلیتے ہیں _ شاید اسی لیئےکہ بہ ظاہر ان کی روزی اسی حاکم کے نوک قلم سےجڑی ہے  _ دکاندار کی روزی بھی  بہ ظاہر گراہک کی جیب سے جڑی ہے، تو پھر ان کے سردو گرم کو براشت کرنا دکان دارکی مجبوری ہونی چاہیئے۔

(4)زبان:- کہا جاتا ہے کہ جھگڑے کے تین بنیادی اسباب ہیں زر(روپیہ پیسہ),زمین ,زن  (عورت )،مگر ان  مین ایک کا اضافہ اور  ہونا چاہیئے، وہ ہے "زبان”_ کتنے جھگڑے ایسے ملیں گے جن کا تعلق زر,زمین,اور زن میں سے کسی سے نہ ہو بلکہ صرف زبان کی وجہ سے آپس میں لڑ پڑتے ہیں  _ زبان مٹھائی بھی کھلا سکتی ہے اور لات جوتا بھی کھلاتی ہے _ دکان دار کی زبان خوش انداز ہونی چاہئے _ ایک گراہک پوری دکان کاسامان دیکھ لینے کے بعد نا پسند یدگی کا اظہار کرتا ہے تو عموما دکاندار کا پارہ چڑھ جاتا ہے اور دکان دار گراہک کو جھلاہٹ دکھا تا ہے_ ایسےوقت میں بھی مسکراہٹ دکھانا کامیاب دکاندار کی پہچان ہے _ اگراس وقت گراہک سےیوں کہے کہ "میں آپ کو آپ کے پسند کا سامان نہیں دکھا سکا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں آئندہ بدھ (کوئی بھی دن) کو نیا مال آنے والا ہے اس دن آپ تشریف لائیں شاید آپ کو پسند آجائے” تو وہ گراہک سامان چاہے لے یا نہ لے مگر اس دکان کے پر چار کا کام ضرور کرے گا اور آئند پہلےاسی دکان کا رخ کرے گا۔

(5)قناعت:- حرص اور چند دنو میں مالدار ہوجانے کا خواب بھی کسی شیطانی وسوسہ سے کم نہیں _ اس کے نشے میں تاجر دونی تے گونی قیمت وصول بسا اوقات کر تو لیتا ہے مگر اس انٹر نیٹ اور شوشل میڈیا کے زمانے میں تاجر کو بہت جلد منہ کی کھانی پڑتی ہے _ اس لیے اچیت دام پر ہی سامان فروخت کرنے میں  لمبے عرصہ تک کاروبار چلتے رہنے کا امکان زیادہ رہتا ہے_اللہ تعالی جلمہ مسلمانو کے کاروبار میں ترقی عطا فرمائے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

ایک تبصرہ

جواب دیں

Back to top button