اصلاح معاشرہ

حسد کی تباہ کاریاں اور ہمارا معاشرہ

محمد مجیب احمد فیضی بلرام پوری
استاذ/دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور
email:faizimjeeb46@gmail.com

آج ہمارا سماج ،ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں کا گہوارہ اور مرکز بنا ہوا ہے۔
شاید ہی کوئی ایسی برائی ہو جو ہمارے معاشرے میں نہ پائی جاتی ہو۔
جھوٹ ،دغا، ظلم ،خیانت ،فتنہ وفساد ، حسد ،کینہ ،بغض جیسی مہلک برائیاں اب ہمارے معاشرے کا مقدر بن چکی ہیں۔سماج میں بڑھتی ہوئی فحاشی ، بے حیائی، نظروں کو خیرہ کرنے والے پر فریب مناظر،فحش لٹریچر،عریاں تصویریں، گھناونے پوسٹرس کی فروانی،
مخرب اخلاق فلموں،افسانوں اور ناولوں کی روز بہ روز زیادتی،وغیرہ عموما اصلاحی کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہیں، جس سے ہمارا پاک اور ستھرا معاشرہ دن بہ دن تنزلی اور پستی کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوان تو نوجوان قوم کے معمر خواتین وحضرات بھی ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے گریز نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے آج ہمارا پاکیزہ اورمستحکم معاشرہ اندر سے کھوکھلا اور گندہ ہوتا نظر آرہا ہے۔
متذکرہ بالا برائیوں میں ایک سب سے بھیانک اورمضر بیماری حسد کی ہے جس سے انسان آئے دن اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلتا چلا جاتا ہے اور سوائے ذلت ورسوائی اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔جب ہم اپنے سماج کے احوال پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ان برائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔اور اس کی تمام وجوہات میں سے ایک سب سے خاص وجہ ہے دین داری سے دوری کی ہم اخلاقیات سے اپنے آپ کو دور کر چکے ہیں ۔حالاں کہ زمانہ شاہد ہے کہ اخلاقیات ہی سے قومی بنتی اور بگڑتی ہیں۔کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا
دشمن سے لیا ظلم کا بدلہ نہ کسی وقت
مارا بھی تو اخلاق کی تلوار سے مارا

حسد کسے کہتے ؟اس کی صحیح تعریف کیا ہے؟ حضرت مولانا جلال الدین احمد امجدی نے اپنی کتاب انوار الحدیث میں اس کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے،
وہ فرماتے ہیں کہ” کسی شخص میں کوئی خوبی دیکھ کر یہ آرزو کرنا کہ وہ خوبی اس سے زائل ہو کر میرے پاس آجائے اس کو حسد کہتے ہیں” جو شریعت مطہرہ کے نزدیک حرام ہے۔ اور اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھ میں بھی آجائے تو یہ رشک ہے جو بلاشبہ جائز ہے۔
(انوارالحدیث)

عزیزو!! حسد ایک ایسی لاعلاج بیماری ہے، جس سے معاشرہ کو تباہ وبرباد ہونے میں وقت نہیں لگتا ہے۔ایک حاسد حسد کے ذریعہ ہی سماج کے صاف ستھرے ماحول کو پراگندہ کرنے میں رول ادا کرتا ہے۔منافرت، عدواتیں اور رنجشیں جیسی برائیاں جلد ازجلد جنم لیتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پورا معاشرہ اس میں ڈوب کر لعنت وملامت کا طوق ڈال کر غضب خداوندی میں گرفتار ہوجاتا ہے۔کہاجاتا ہے کہ جس معاشرہ میں یہ برائی عام ہوجاتی ہے اس سماج میں امن اماں غارت ہوجاتا ہے،بد امنی واضطرابی اس کی مقدر بن جاتی ہے۔جس طرح جسمانی اعضاء کو بیماری لگنے سے درد وکرب ہوتا ہے اسی طرح روح انسانی جب بیمار ہوجاتی ہے تو وہ مجروح ،بے سکون وبےقرار ہوجایا کرتی ہے۔ حسد ایک مہلک مرض اور بڑا گناہ ہے۔اسی لئے دین فطرت اس کی تباہ کاریوں کوبتا کر اس سے بچنے کی تاکید فرماتا ہے اور ساتھ ہی آپسی بھائی چارگی الفت ومحبت کا محبوب اور نرالا پیغام دیتا ہے تاکہ سماج میں پانی کی طرح پھیلنے والے ان برائیوں کا خاتمہ ہو کرامن امان قائم ہو سکے۔
جب کہ اس کی مذمت میں آیات واحادیث کریمہ بہ کثرت وارد ہیں ۔سارے جہان کا مالک نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک کو حسد سےپناہ مانگنے کے متعلق حکم فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:
ومن شر "حاسد اذاحسد "ترجمہ:اے نبی!! آپ فرمادو کہ میں اس کی پناہ لیتاہوں)حسد کرنے والے سے جب وہ حسد کرے۔اور اسی طرح منکرین رسالت گستاخ رسول یہودیوں کے متعلق باری تعالی نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا”
مذکورہ بالا آیت قرآنیہ میں اللہ جل مجدہ الکریم نے یہودیوں کی پرزور مذمت کی حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نبوت عطا فرمائی اور ان کے ساتھ ان کے غلاموں کو جو فتح ونصرت، غلبہ، عزت وغیرہ نعمتیں عطا فرمائی ان پر یہ لوگ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان سے حسد کرتے ہیں حالاں کہ یہودیوں کا یہ فعل سراسر جہالت وحلماقت ہے۔ ( صراط الجنان)

احادیث مبارکہ میں حسد کی مذمت

صحابئ رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ سرکار دوجہاں علیۃ التحیۃ والثناء نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:آپس میں بغض وحسد نہ رکھو، ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، اور( اسلامی اصول کے مطابق بھائی چارگی کے رشتے کو مضبوط رکھتے ہوئے) رب کریم کے صحیح بندے بن جاؤ۔
(بخاری)
ایک اور حدیث میں اس کی پرزور مذمت وارد ہے۔چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے کہا کہ حضور بنئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی ہے اور وہ بیماری بغض وحسد ہے جو مونڈنے والی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ دین مونڈتی ہے۔
(احمد)
اور ایک مقام پر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
حسد سے اپنے آپ کو بچاؤ اس لئے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (ابوداؤد)
متذکرہ بالا آیات وآحادیث سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حسد ایک ایسا سنگین جرم ہے جس سے خود اور اپنے معاشرے کو بچنے بچانے کی تاکید ہمیں دی گئی ہے۔کتاب اللہ اور سنت رسول میں بے شمار مقامات پر اس کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔لیکن افسوس صد افسوس اس میں جاہل تو جاہل ہیں علماءحضرات کی قدآور شخصیتں بھی سر فہرست شامل ہیں،اور اس سے خود کو بچانے کی چنداں فکر نہیں کرتے اور اس کی زد سے بالکل نہیں بچتے، جب کہ حسد ایک شیطانی کام ہے امت مسلمہ کو اس سے حتی الامکان بچنا چاہئیے۔ یاد رکھو کہ حسد دنیا کا سب سے پہلا گناہ ہے۔حسد کرنے والا نعمت خداوندی کا دشمن ہوتا ہے۔
جب تمام ملائکہ کو خالق اکبر نے حضرت آدم علیہ السلام کے سجدہ کا حکم فرمایا تو ابلیس لعیں کو حسد ہی نے اکسایا اور وہ سجدۂ آدم کا انکار کر بیٹھا
غیر معمولی قربت اور معلم الملکوت ہونے کے باوجود حسد کی وجہ سے رب کا ایک حکم نہ مان کر مردود بارگاہ ہوا۔ اب اگر آج کوئی بغض وحسد کو اپنے تئیں پالتا ہے یا اسے بڑھاوا دیتا ہے تو آپ خود احتسابی کریں کہ وہ رحمان کے راستے پر چل رہا ہے یا شیطان کے ۔آج ہمارے معاشرے کے افراد کا اتنا براحال ہے کہ تھوڑی تھوڑی سی بات کو لے کر سالہا سال تک ناراضگی رہتی ہے ۔کئی کئی سالوں تک لوگ آپس میں بات چیت کھان پان بند کردیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔دین اسلام کے سنہرے اصول المسلم خواالمسلم کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ جب کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ کسی بندہ مومن کے لئے یہ رواں نہیں کہ بغیر کسی خاص شرعی عذر کے وہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔
حاسد صحیح معنوں نعمت ذوالجلال کا دشمن، اس کے مستحکم فیصلے پر ناراض اور اس کی اس تقیسیم پر راضی نہیں ہوتا ہے جس کو رب نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کیا ہے۔
اس کا خاتمہ کیسے ہو؟ اسے مٹایا کیسے جائے؟ یہ ایک بہت ہی بڑا اور اصل سوال ہے،جس کے متعلق معاشرہ کے ہر فرد کو اپنے تئیں فکر کرکے اس کے صحیح حل کی کوشش کرنی چاہئیے۔ کیا صرف ایک آدمی کی کوشش سے ناثور کے مانند معاشرہ سے اس برائی کا خاتمہ ممکن ہے؟نہیں ہرگز نہیں ، سماج کا ہر فرد اس کا ضمہ دار ہے کہ ہمیں اپنےمعاشرے سے اس برائی کو کیسے دور کرنا چاہیئے۔ اسلام ایک نظام عدل اور آفاقی مذہب ہے جس پاک مذہب میں ان جیسی خطرناک برائیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔اسلام کا تصور ان جیسی برائیوں کو مٹانے کا حکم دیتا ہے بڑھاوا نہیں اس آفاقی مذہب کے اصول وقوانین پر عمل پیرا ہوکر فرزندان توحید کو اس برائی کو مٹانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئیے۔ گھروں میں دینی ماحول پیدا کریں،شریعت وطریقت کو گلے لگائیں، ائمہ مساجد اور خطباء اپنی اپنی تقریروں اور دینی ومذہبی انجمنوں میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی مذمت اور تباہ کاریوں پر بھر پور روشنی ڈالیں،اس کے نقصانات سے قوم کو مکمل آگاہ کریں۔حسد سے پہلے خود کو بچائیں پھر قوم وملت کو اس سے بچنے کی تلقین وتاکید کریں ۔آہستہ آہستہ یہ برائی ہم سے ہمارے معاشرہ سے ختم ہوجائیں گی اور ہم ایک صاف ستھرا سماج میں امن واماں اور چین وسکون کی زندگی بسر کر پائیں گے ۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولائے حسد سے ہمارے سماج اورمعاشرے کی حفاظت فرمائے،بالخصوص علماء کو اس سے نجات دے۔