گوشہ خواتین

ماں کی عظمت

ازقلم:تسنیم فردوس
بٹلہ ہاوس، جامعہ نگر نئ دہلی۱۱۰۰۲۵

صدقہ بھی دے دیا ہے نظر بھی اتار دی
دولت سکون چین کی سب مجھ پہ وار دی
کل شام میں نے کیا کہا طبیعت خراب ہے
ماں نے تمام رات دعا میں گزار دی

اس روۓ زمین پر اک ایسی مقدس ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت دے کر الله تعالٰی نے ماں کو مقدس اور اعلیٰ مرتبہ پر فائز کردیا ہے۔ ممتا کے جذبے سے سرشار اور وفا کا پیکر اور پر خلوص دعاؤں کے اس روپ کی خوبیوں کو بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ ماں اللّٰہ رب العزت کا ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعمل البدل نہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کا حال بہت جلد جان لیتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کے لئے جیتی ہے اور بچے اسکی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آجاتی ہے
ماں دعا کرتے ہوئے خواب میں آجاتی ہے

ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔” ماں” دنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِ سایہ کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے۔ یہی وہ ہستی ہے جو پتھر دل کو موم کی طرح پگھلا دیتی ہے۔ ایک ماں ہی ہے جو اپنے دامن میں اولاد کی خطاؤں کو چھپا لیتی ہے۔ یقیناً ماں ہی ہے جو زمین وآسمان میں وہ مقدس ہستی ہے جس کو بہت ہی عزت و احترام سے سلام کیا جاتا ہے۔

اے ضیاء ماں کے مقدس ساۓ کی نا قدری نہ کر
دھوپ کاٹے گی بہت جب یہ شجر کٹ جائے گا

یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحرِ بـے کراں کی طرح ہے۔ ماں کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پرویا جا سکتا۔ خلوص وایثار کے اس سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، ہر مذہب اور ہر تہذیب نے ماں کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔ ماں ایک دعا ہے جو ہر وقت ربِ رحیم کے آگے دامن پھیلاۓ رکھتی ہے اولاد کے حق میں دعا کرتی ہے اور قدم قدم پر ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ الله نے اسکے عظیم تر ہونے کی پہچان اس طرح کرائی ہے کہ” اس عظیم ہستی کے قدموں کے تلے جنت رکھ دی ہے ” جس کا جی چاہے وہ اس جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔ اس کی خدمت کرکے، اس سے محبت کرکے اور اسے عزت و احترام دے کر۔ ہر شے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کوئی خود غرضی شامل نہیں ہوتی۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پر خلوص ہے۔
اسکی زندگی کا محور صرف اور صرف اسکی اولاد ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اسکی دعائیں ساۓ کی طرح پیچھا کرتی ہیں۔ اور اس کی دعاؤں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے، ماں بیقرار ہو تو عرش کو ہلا دیتی ہے۔

ابھی زندہ ہے میری ماں
مجھے کچھ نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں
دعا بھی ساتھ چلتی ہے

"ماں ” کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے مگر اپنے اندر کل کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ ماں دنیا کی جتنی زبانیں ہیں جس بھی زبان میں بولا جاۓ "ماں” کے لفظ میں مٹھاس ہے۔ جس عورت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے سوچۓ اس میں کتنی مٹھاس ہوگی، دنیاِ ِکائنات میں ہر چیز کا پیمانہ ہے جیسے سورج ، چاند، دن اور رات حتیٰ کہ زمین وآسمان کے درمیان ناپنے کے لئے ہر چیز کا پیمانہ موجود ہے۔ لیکن ماں کی محبت کا اپنی اولاد کے لئے کوئی پیمانہ نہیں بن سکا۔

سکون ملا تھا جو سر رکھ کے تیرے زانوں پر
گلوں کے سیج پہ سوکر بھی وہ سکون نہیں

ماں ایک پھول ہے جسکی خوشبو کبھی بھی کم نہیں ہوتی بلکہ دن بہ دن نکھرتی رہتی ہے۔ ماں اس ثمر اور درخت کو کہتے ہیں جس کا پھل کبھی کڑوا نہیں ہوتا جس کا پھول کبھی مرجھاتا نہیں۔ ماں راضی ہو تو خدا بھی راضی اور اگر ماں ناراض ہو تو خدا بھی ناراض ہوتا ہے۔ خالقِ کائنات فرما رہے ہیں "اگر تیری ماں تجھ سے ناراض ہے تو یقیناً تو جنت کی چابی گم کر چکا ہے” والدین کی نا فرمانی سخت نقصان دہ ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے۔

مت گستاخی کرنا اس ماں سے
ذرا سی چوٹ لگے تو آنسو بہا دیتی ہے
سکون بھری گود میں ہم کو سلام دیتی ہے
ہم کرتے ہیں خطا تو چٹکی میں بھلا دیتی ہے

جس گھر میں ماں کا حسین سایہ نہیں وہاں کتنی ویرانی ہے۔ جس بچے کی ماں نہیں ہوتی اسکے چہرے پر کتنی اداسی ہوتی ہے۔ ہمیں ماں کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ ماں ہمارے لئے رحمت ہے، دعاؤں کا ذخیرہ ہے۔ عورت ماں کے روپ میں بہت عظیم خزانہ ہے۔ اس لئے ان کی شان میں تعظیمی کلمات ادا کرنا چاہۓ۔ ان کو راضی اور خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنا عمدہ مال ان پر خرچ کرنا چاہۓ۔ ان کی حکم عدولی نہ کرو ان کو کسی قسم کا رنج نہ دو۔

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

اگر آپ کی ماں وفات پا جاۓ تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں صدقات دیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان پر صلہ رحمی رکھو”
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا "سب سے بڑا گناہ اللّہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور اپنے والدین کی نا فرمانی کرنا ہے”
جنت ماں کے قدموں تلے ہے ماں کا منصب اور اس کا حفظ و احترام اسلام ہے۔ مفکرِ ملّت علامہ اقبال فرماتے ہیں "اگر ٹھیک طور پر دیکھو تو ماں کا وجود رحمت ہے”

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمھارے نعمت

اللّه نے ماں کو ایسا رتبہ دیا ہے کہ ماں کو مسکرا کر دیکھنا بھی عبادت ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ دولت اسکے پاس ہے جس کی ماں زندہ ہے۔ ماں گھر میں موجود ہو تو گھر میں برکت رہتی ہے۔ ہمارے والدین خصوصاً ماں کے احسانات اور انعام و اکرام اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ اولاد اپنی ساری زندگی ان کا شکر ادا کرنے پر لگا دے تو بھی کبھی حق ادا نہیں کر سکتا۔ بد نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو زندگی میں ماں کی قدر نہیں کرتے۔ اللّه تعالیٰ ان پر مغفرت کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ماں باپ کا یہ ادب ہے کہ ان کی خدمت جان و مال دونوں طرح سے کرو ایسا نہ ہو کہ خدمت کریں اور ان کو پائی پائی کے لئے ترساۓاور ایسا بھی نہ ہو کہ روپۓ پیسے کی بوچھار کرے اور بات کرنے، خدمت کرنے کا رودار نہ ہو۔ اور یہ ضرور سمجھ لینا چاہۓ کہ ان کو کتنی بھی تکلیف کیوں نہ ہو یہ اُف تک نہیں کریں گے۔

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس اک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

آجکل مدرز ڈے (Mother’s day ) کے نام سے ایک دن ماں کے نام کیا جاتا ہے۔ مدرز ڈے منانا فیشن ہے یا ماں کی انمول محبت کا مذاق۔ ۔۔۔۔؟ماں کی ممتا کو ایک دن سے سمیٹنا ماں کی محبت کی توہین ہے۔ ماں کی لازوال انمول محبت کو ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم کیسے ماؤں کی محبت ، خلوص اور شفقت کو بھول کر سال میں صرف ایک دن اس کے نام کردیں، کون سا کمال ہے۔۔؟
پوری زندگی، پوری زندگی کا ہر سال، سال کا پورا مہینہ، مہینے کا ہر دن دن کا ہر ہر لمحہ ماں کے نام ہونا چاہیے۔ مدرزڈے تو اغیار کی روایت ہے۔ جہاں نہ رشتوں کا تقدس ہے اور نہ ہی کوئی اہمیت ہے۔ جہاں اولاد صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود اپنے ماں باپ کو بے وقعت سمجنے لگتے ہیں اور ماں کی قربانیوں اور پر خلوص محبت کو ٹھوکر مار کر "اولڈ ہاؤس” میں رکھ دیتے ہیں اور سال میں ایک دن اپنی ماں اور باپ کے نام کرکے اپنے فرض سے منہ پھیر لیتے ہیں لیکن بہ حیثیت مسلمان ہماری یہ روایت نہیں۔

ہاۓ اس ذات کی تم قدر گنوا بیٹھے ہو
جس کی آغوش میں نبیوں نے جلا پائی ہے

اللّه ورسول کی طرف سے ماں کی محبت و شفقت کے مجسم روپ کو عزت وتکریم دینے کی تلقین کی گئی ہے اور ماں کی محبتوں اور خلوص کی پاسداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں ماں باپ کے آگے اُف تک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ماں کے لئے برابر دعا کرتے رہیں، ان کے احسانات کو یاد کریں اور رب کے حضور انتھائی دل سوزی اور قلبی جذبات کے ساتھ ان کے لئے رحم و کرم کی درخواست کریں، جب بھی فرصت ملے تو اپنے والدین کے پاس جاکر بیٹھا کریں کیونکہ والدین کے ساتھ گزرا ہوا وقت قیامت کے دن بخشش کا باعث بنے گا۔ اور اسی میں دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی ہے۔آخیر میں اللّه تعالیٰ سے میری یہ دعا ہے کہ

میری عمر بھی مالک
میری ماں کو عطا کرنا
وہ ہوگی دعا دے گی
وہ ہوگی وفا دے گی