ائمہ کرام

امام الائمہ حضرت سرکار سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ اور علم حدیث

تحریر: اے۔ رضویہ
جامعہ نظامیہ صالحات کرلا ممبئی

حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ۔۔ علمِ شریعت میں ابو حنیفہ سب سے آگے ہیں۔ خدا انھیں ہر ایک سے بڑھکر دیتا ہے کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور پہنچے بھی کیسے کہ۔۔ خدا نے انہیں فہم و ادراک کی جو انمول قوت بخشی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ جبھی تو ابن شبرمہ کو لوگوں نے بھری مجلس میں دیکھا کہ۔۔ بے ساختہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ذہانت پر یوں ناز کرنے لگے: عجزت النساء ان یلدن مثلک سیر کعا ما علیک فی العلم کلفہ
یعنی اے ابو حنیفہ عورتوں کی کوکھ اب تجھ سا کوئی ذھین اور تزفکر جنم نہ دے سکے گی علم تجھ پر بے ساختہ برستا ہے۔ سبحان اللہ
دیکھیۓ ابن شہرمہ

مجتہد کے مقام پر فائض ہونے کے لئے علمِ حدیث میں ماہر ہونا ایک شرط ہے. اس بات سے اندازہ لگائیں کہ..
ایک شخص نے امام احمد بن حمبل سے پوچھا کے ایک لاکھ حدیثیں جِسے یاد ہوں کیا وہ فقیہ ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں. کیا دو لاکھ؟ فرمایا نہیں. کیا تین لاکھ؟ فرمایا نہیں. کیا چار لاکھ؟ آپ نے اپنے ہاتھوں کو پھیلاکر اشارہ کیا (ہاں).
امامِ اعظم ابو حنیفہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ہمارے آقا ﷺ کی تمام حدیثیں یاد تھیں. یعنی امامِ اعظم استخارہ اللہ تعالی عنہ🌹مجتہدِ مطلق🌹 کے منصب پر فائز تھے. اور اِسی لیے اُنکے علم حدیث پر کوئی سوال نہیں اُٹھتا. کیوں کہ آپ کو حدیث میں مہارت حاصل تھی.
حضرت امامِ اعظم کی پیدائش کے وقت کوفہ شہر علم کے مرکز کی حیثیت سے معروف تھا. مشہور صحابی حضرت قَتادہ بن دمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے 1050 صحابہء کرام رضوان اللہِ تعالیٰ مقیم ہوئے جن میں 24 بدری صحابہ تھے. اِن سے جو حدیث روایت ہوئی وہ مختلف استاذہ کے ذریعہ امامِ اعظم تک پہنچی.
یہ بات بھی قابلِ غور ھیکہ حدیثوں کے مرکز میں پیدا ہونے کے باوجود امامِ اعظم کو حدیث کا علم نہ ہو.
امام المعیاد الموافق فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے 4000 شیوخ سے علم حاصل کیا. اور اُن شیخوں کے علمِ حدیث کا مقام یہ تھا کہ جو ڈائریکٹ صحابہء کرام سے حدیث روایت کرتے. اِن میں سے آپ کے استاد امامِ شعبی ہیں جنھوں نے 500 صحابہء کرام رضوان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی. وہ امامِ اعظم کے کبیر شیخوں میں سے تھے. آپ کے اک استاد کے علمی وسعت کا یہ مقام ہے تو امامِ اعظم نے اپنے تمام شیوخ سے کتنی احادیث سماعت کی ہوں گی.
سبحان الله…!!!!!