نظم

خون کا خون کر گیے مُنصِف

ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908

آہ قاتل سے ڈر گیے مُنصِف
خون کا خون کر گیے مُنصِف

جن سے تھی آبرو عدالت کی
ڈھونڈھیے وہ کدھر گیے مُنصِف

بیٹھے تھے سچ کی پاسبانی کو
جھوٹ بن کر اتر گیے مُنصِف

زخم کو پھول کرنے آئے تھے
اور رکھ کر شرر گیے مُنصِف

گھر میں جوکچھ بچا فساد کے بعد
اُس میں بھی آگ بھر گیے مُنصِف

کر نہ پایا کوئی فسادی جو
کام وہ سارے کر گیے مُنصِف

میر و جعفر سے حوصلہ پاکر
ہم کو دے کر ضرر گیے منصف

رنج و غم کے پہاڑ تھے جن پر
اُن پہ ہی بوجھ دھر گئے منصف

روئے مومن تو خوش ہوئے غدار
قوم پر وار کر گیے منصف

حوصلہ تو فساد نے توڑا
کاٹ کر بال و پر گیے مُنصِف

آئے تھے مسکراہٹیں دینے
سونپ کر چشمِ تر گیے مُنصِف

حاکمِ وقت کی جو خواہش تھی
اُس پہ پورے اتر گیے منصف

سچ جدھر ہے، اُدھر ہی جانا تھا
زَر جدھر ہے، اُدھر گیے مُنصِف

بیچ کر اے فریدی اپنا ضمیر
زندگی میں ہی مر گیے مُنصِف

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com