ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
آہ قاتل سے ڈر گیے مُنصِف
خون کا خون کر گیے مُنصِف
جن سے تھی آبرو عدالت کی
ڈھونڈھیے وہ کدھر گیے مُنصِف
بیٹھے تھے سچ کی پاسبانی کو
جھوٹ بن کر اتر گیے مُنصِف
زخم کو پھول کرنے آئے تھے
اور رکھ کر شرر گیے مُنصِف
گھر میں جوکچھ بچا فساد کے بعد
اُس میں بھی آگ بھر گیے مُنصِف
کر نہ پایا کوئی فسادی جو
کام وہ سارے کر گیے مُنصِف
میر و جعفر سے حوصلہ پاکر
ہم کو دے کر ضرر گیے منصف
رنج و غم کے پہاڑ تھے جن پر
اُن پہ ہی بوجھ دھر گئے منصف
روئے مومن تو خوش ہوئے غدار
قوم پر وار کر گیے منصف
حوصلہ تو فساد نے توڑا
کاٹ کر بال و پر گیے مُنصِف
آئے تھے مسکراہٹیں دینے
سونپ کر چشمِ تر گیے مُنصِف
حاکمِ وقت کی جو خواہش تھی
اُس پہ پورے اتر گیے منصف
سچ جدھر ہے، اُدھر ہی جانا تھا
زَر جدھر ہے، اُدھر گیے مُنصِف
بیچ کر اے فریدی اپنا ضمیر
زندگی میں ہی مر گیے مُنصِف