نظم

نظم: رب نے تجھے ہے بخشی فضلیت شبِ برات

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی، مہراجگنج یوپی

رب نے تجھے ہے بخشی فضلیت شبِ برات
ہر شخص تیری کرتا ہے مدحت شب برات

آئی  ہے  لیکے  بارش  رحمت شب برات
ہے عاصیوں کے واسطے راحت شب برات

بخشش کی رات ہے کرو جم کر  عبادتیں
اللہ  کی  ہے  خاص  عنایت  شب   برات

محتاج  وہ  نہ  ہوگا  زمانے میں غیر کا
کرتا  ہے  جو  خدا  کی  عبادت  شب  برات

ہوتا  ہے بالیقیں  وہ گناہوں سے پاک صاف
کرتا ہے  جو بھی رب کی اطاعت شب برات

تف  اس  پہ  جس نے  اپنا یہ  موقع  گنوا دیا
جس کو نہیں ہے سونے سے فرصت شب برات

محروم ہیں وہ نعمت رب قدیر سے
تکیہ کلام جن کا ہے بدعت شب برات

خود کو بچانا دہر  کے گندی ہواؤں سے
دل سے مناؤ کرکے طہارت شب برات

نوری جو مانگنا ہے ذرا دل سے مانگنا
  آواز دے رہی ہے یہ قدرت شب برات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے