گوشہ خواتین

مسلم اپنے گھر کی عورتوں کو روکیں

تحریر: محمد عباس الازہری

ماں نقاب میں ہے اور جوان بیٹی جنس اور شرٹ میں ہے! دلہن اور دولہا دونوں کو اسٹیج پر بیٹھا کر نمائش کی جاتی ہے! دن بھر لڑکی غیر محرم سے بات کرتی ہے گارجین آزادی اور جدت کا نام دیتے ہیں , شادی بیاہ میں رقص کرتی ہیں ,گیت گاتی ہیں ,ناج گانے کی محفل سجتی ہے ,بغیر ڈوپٹے کے عورتیں گھومتی ہیں اس کو روشن خیالی تصور کیا جاتا ہے ! مسلم ,مسلمان کو محمڈن کہتے ہیں!
آج یہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ حجاب کے خلاف فیصلہ آیا !
پہلے اپنے گھر کی عورتوں کو سدھاریں ۔دیوث نہ بنیں ۔کتب میں آیا ہے کہ "جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ "دیوث” ہے۔ ایسے شخص کے بارے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا بھی نہیں۔(ومَن لا يغار على أهله ومحارمه : يُسمَّى : ” ديّوثاً ” ، والدّياثة من الرّذائل الّتي ورد فيها وعيد شديد ، وما ورد فيه وعيد شديد يعدّ من الكبائر عند كثير من علماء الإسلام ، جاء في الحديث : ( ثلاثة لا ينظر اللّه عزّ وجلّ إليهم يوم القيامة : العاقّ لوالديه ، والمرأة المترجّلة ، والدّيّوث )- رواه النسائي)
جب حیااورحجاب الفاظ ذہن میں آتےہیں توایک شرم وحیا کا لبادہ اوڑھےہوئے ، نظریں جھکائے ہوئے باپردہ سی لڑکی کاتصورذہن میں آتا ہے ۔اس سے ہمارا معاشرہ خالی نظر آ رہا ہے ۔اور موڈرن مسلم گھرانوں میں یہ سوچ بن گئی ہے کہ
اسلام پردے کا حکم دے کرعورت کوقید کرتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اسے برائی سےبچانےاوراس کی عزت کی حفاظت کا انتظام کرتا ہے۔ کہاجاتاہے کہ پردہ کرنے سےکیا ہوجاتا ہے، نیت صاف ہونی چاہیے؟لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ جان لیں کہ جب حکم حجاب آیا توان مستورات نے بھی اپنے آپ کوچادروں میں چھپایا جن کے حیااورشرم کی گواہی دینے کیلیے قرآن بول اٹھا تھا۔
ارشادِ ربانی :۔
” اےنبیﷺ اپنی ازواج سے اوراپنی بنات سے اور اہلِ ایمان عورتوں سےفرمادیجیے کہ وہ اپنے اوپرچادروں کےپلو لٹکالیاکریں یہ بہترطریقہ ہےکہ وہ پہچان لی جائیں اورنہ ستائی جائیں “۔

لمحہءِ موجود میں بےوزن سوال اٹھانے والا ہرفرد متوجہ ہو!
کہ اس حکمِ حجاب پراولین عمل کرنے والی عورتیں نبیﷺ کی ازواج مطہرہ، آپ ﷺ کی بنات اور آپ ﷺ کی صحابیات تھیں جنھوں نے اس حکم کوسنا اورمکمل رات / رات کوتا دیران کے دیےجلتے رہے اورانھوں نے اپنے گھروں میں موجود چھوٹے چھوٹے کپڑوں کوسلائی کرکے اپنی چادریں بنالی تھیں تاکہ صبح فجرکی نمازمیں بے پردہ نہ جانا پڑے ۔ کہیں حکمِ رب اکبر اورحکمِ نبی ﷺ میں کمی کوئی کوتاہی نہ ہوجائے۔اگرکسی غیرمحرم سے بات کرنا پڑتی ہے تو قرآن یوں رہنمائی کرتا ہے:
” تم دبی ہوئی آوازمیں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں مرض ہے وہ لالچ کرلے۔ اوراپنے گھروں میں ٹک کررہو۔اوردورجاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو“۔
گھروں میں ٹکنے سے مراد یہ نہیں کہ گھروں میں مقید ہوجاؤ بلکہ اس سےمراد یہ ہےکہ تم بلاوجہ بغیرکسی عذرکے گھرسےنہ نکلو۔اورجاہلیت کی سی سج دھج سےمنع فرمایا۔
جاہلیت کی زینت دوطرح سے ہے:
(1)۔ایامِ جاہلیت میں عورتیں گلے میں گلوبند پہنتی تھیں اورکانوں میں بالیاں پہنتی تھیں پھران کو دکھانے کے لیے دوپٹہ سرکےاوپرلےکرکانوں کے پیچھےسےکمرپرجبکہ سینے پرصرف قمیض ہی ہوتی تھی، اس سےمنع کیاگیاہے ۔
اوردوپٹےکےتین فرائض بتائے گئے ہیں:
1_سرڈھانپنا
2_سینہ ڈھانپنا
3_کمرڈھانپنا

(2)۔امام رازی علیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ
جاہلیت کےوقت میں مرداورعورتوں میں نظامِ مخلوط پرکوئی پابندی نہ تھی۔ مرداورعورتیں اکٹھے بازاروں میں چلا کرتے تھے ۔ اس نظام مخلوط سے منع فرمایا گیا ہے۔
جنت پانےکے لیے عورت کیا کرے؟
فرمان نبویﷺ
عورت نمازِ پنجگانہ اداکرے۔
رمضان کےروزےرکھے۔
اپنےخاوند کی اطاعت وفرمانبرداری کرے ۔
اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے۔
ایسی عورت کوحکم ہوگا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں جس سے چاہے داخل ہوجائے۔
(مشکٰوةشریف)اس حدیث شریف کے مطابق عورت کے لیے جنت پانا مشکل نہیں ہے، بس ! وہ چارافعال احسن طریقے سے انجام دے۔
جن عورتوں کوجنت کی خوشبونہیں ملے گی:
آنحضرت ﷺ نےفرمایا:
” عورتیں لباس پہن کربھی برہنہ ہوتی ہیں۔ خود مائل ہوتی ہیں، دوسروں کواپنے اوپرمائل کرتی اوران کے سربختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں ۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہ ہوسکیں گی اورنہ ہی خوشبوئے جنت کوپاسکیں گی۔ حالانکہ جنتیوں کواس کی خوشبو٥٠٠ میل کی مسافت سے آنے لگے گی ۔
لباس پہن کربرہنہ ہونےکی محدثین نے دووجوہات بیان کی ہیں:
1۔ لباس بہت باریک ہوگا۔
کہ دیکھنےوالےکواس میں ہرعضونظرآئے گا۔
2۔ لباس تنگ ہی اتنا ہوگا کہ دیکھنے والا بندہ سمجھ جائے گا کہ یہ عورت کا فلاں عضو یہ فلاں عضو ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں باریک لباس بھی موجودہے جس کااستعمال عام ہے۔اوربختی اونٹوں کی کوہانوں سےسرکوتشبیہ دینےسےمراد سروں کےجوڑے ہیں جوبہت اونچےاوربڑےبڑے کہ دوپٹہ لےکرنمایاں ہوتے ہیں ۔
اسلام نےعورت کومختلف حیثیتوں سےنوازا ہےاور مختلف طریقے سےدرجات عطا کیے ہیں۔
بیٹی۔ ماں باپ کی نورِ نظر
بہن ۔ بھائیوں کی غیرت
بیوی ۔ شوہرکی عزت
ماں ۔ یہ رتبہ دے کراللہ اپنی جنت بھی عورت کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں ۔
لیکن یاد رہے کہ یہی رشتے ہیں جوعورت کی عزت کےمحافظ ہیں ۔اوراگرعورت بے پردہ وبدچلن ہو اور یہ رشتےاس کی محافظت کاحق ادا نہ کریں تویہ ان سب سے جنت کا داخلہ روک لے گی ۔
بےحجابی کےعلاوہ جوچیزیں مرد کو کشش کرتی ہیں:

1۔عورت کی چال
اگرعورت زمین پردھیمےطریقے سے چلنےکے بجائے جابجا پاؤں مارتے ہوئے چلے توبھی مرد متوجہ ہوتے ہیں اوراس کے چال چلن کاجائزہ لیتے ہیں ۔ اور اگرکوئی چھنکنے والی چیزیعنی چوڑیاں اورگھنگرو لگے ہوں تواس قسم کی جھنکارسے بھی مرد مائل ہوتےہیں۔

2۔خوشبوکااستعمال:۔
عورت کوبالکل ہی خوشبوکےاستعمال سےمنع نہیں کیاگیا بلکہ گھرسے نکلتے وقت عورت اتنی تیزخوشبواستعمال نہیں کرسکتی کہ بازارمیں موجود تمام مرد حضرات اس کی خوشبومحسوس کریں ۔

نبیﷺنےفرمایا:
” جس وقت کوئی عورت خوشبولگا کربازار میں آجاتی ہےاوراس کی خوشبو مرد حضرات محسوس کررہےہیں تو جتنے لوگ اس کے بدن سے آنے والی خوشبو کو محسوس کرتے ہیں اللہ سب کے ساتھ اس عورت کازنا لکھ دیتا ہے “۔
(ترمذی کتاب الترجل)

ایک مرتبہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بازارسے گزر رہے تھے کہ انھوں نے سامنے سے ایک عورت کوآتے دیکھا جب یہ عورت ان کے پاس سے گزری تو انھوں نے اس کے بدن سے آنے والی خوشبو کو محسوس کیا۔
فرمایا: بی بی ٹھہرجا۔
بی بی! کہاں جارہی ہو؟

کہنےلگی: میں مسجد جا رہی ہوں ۔
پوچھا: نماز پڑھنےجارہی ہو؟
بولی : جی ہاں نماز پڑھنےجارہی ہوں ۔
فرمایا: بی بی سن لو
مجھےاس ذات کی قسم جس کےقبضہءِقدرت میں میری جان ہے۔ میں نے اپنے کانوں سےنبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
” جوعورت خوشبولگا کرمسجد میں چلی جائے وہ جب تک واپس پلٹ کرغسلِ جنابت نہ کرے اس وقت تک میراپروردگاراس کی کوئی عبادت قبول ہی نہیں کرتا “۔
(ابوداوٗدشریف)
قرآن ایسےلوگوں کےتذکرے بڑی شان سے بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنی زندگیاں حیا کےدائرے میں رہ کر گزاریں۔
ان لوگوں کےنام درج ذیل ہیں:

1۔ سیدنایوسف علیہ السلام
2۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہ
3۔ سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ وطاہرہ(جن پرتہمت لگی توگواہی خودذاتِ باری تعالٰی نے دی)
4 ۔ سیدناموسٰی علیہ السلام
اورسیدنا شعیب کی نورِ نظر۔
اورسیدنا عثمان ابن عفان ،حدیث میں ذکرہےکہ فرشتےبھی ان سےحیاکیاکرتے تھے۔

قصہ سیدناموسٰی
مدین کےکنویں پرموجود بھوک کےاحساس میں اللہ کوپکاررہےہیں۔ فرمایا: موسٰی پریشان نہ ہو۔اتنےمیں شعیب کی بیٹی آئی ۔
اب یہ لڑکی اپنے گھرسے چلی تواللہ نے قرآن میں تذکرہ کیاکہ وہ کیسےچلی ۔
ترجمہ۔ پس ان دونوں میں سےایک چلی اورحیاکےساتھ چلی ۔( القصص)
وہ حضرت موسٰی ؑ کے پاس آئی اوربولی کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں۔ حضرت موسٰی نے چلنا شروع کردیا۔لڑکی آگے اورموسٰی پیچھے تھے کہ ہوا آئی اوراس لڑکی کی پنڈلی ننگی ہوگئی ۔ موسٰی نےفرمایا بی بی ! تم پیچھے ہوجاؤ میں تمھارے آگے چلنا چاہتا ہوں اور اپنی جھولی میں پتھررکھ لوجدھرکومڑنا ہو پتھر پھینک دینا میں مڑجاؤں گا۔
(ابنِ کثیر)
یہ تقاضا ہے حیا کا موسٰی نبی کا اور شعیب کی نورِ نظرکا جس کا چلنا بھی قرآن نے بتایا۔
یہی توروشن آبگینے تھے جنھوں نے اس قدرحیا کےساتھ زندگیاں بسرکیں کہ تاریخ اپنے اوراق میں ان کے تذکرےکرنا نہیں بھولتی ۔
اب ہم سیدنا موسٰی کےطرزِ عمل کودیکھتے ہوئے اپنےمعاشرے کا جائزہ لیں توہم دیکھتےہیں کہ ہمارے نوجوان مکمل رات میں برہنہ مجرے دیکھتے رہتے ہیں اور زبان سےدعوٰی یہی ہے کہ ہم ہی عاشقِ رسول ہیں۔
خاوند پراپنےاہل پرکڑی نظررکهنا بےحد ضروری ہے اگروہ ایسا نہیں کرتا تو وعیدِ نبویﷺ ہے۔آپ ﷺ نےفرمایا:۔
تین طرح کےلوگ جنہیں کبھی جنت نہ مل سکے گی ۔
1۔دیوث
2۔عورتوں کاحلیہ اپنانےوالا مرد
3۔شراب پرہمیشگی کرنےوالا۔
دیوث کون ہے؟؟؟؟؟؟
جومرداپنےاہل والوں میں بےحیائی دیکھے اورخاموش رہےاوروہ جواپنے اہل والوں کوبےپردہ بازاروں لیے پھرے۔

اس لیے دورِ حاضرکےمردحضرات کوچاہیے کہ وہ اپنے اہل والوں کےحیا وحجاب کا خیال رکھیں۔

کہاں کھوچکی ہیں
امت کی بہنیں اورمائیں
اوڑھ لوسب اپنےاوپر
حیاکی ردائیں
رب عطاکرے گا تم کو
اپنی رضائیں

جوچیزظرف سےباہرہو

1۔ حدوداسلامیہ میں حیاعورت کا ظرف حجاب لباس ہے۔ اگرکوئی عورت اس کو پامال کردے تواس کی مثال اس دودھ کی سی ہے جوابل کرباہرنکل آئے اور گھر والی اسے سنک میں نچوڑدے۔ اس کی قدرنہیں ہے۔ حالانکہ ہےتووہ بھی دودھ لیکن ظرف سےباہرآگیا۔
اسی طرح جوعورت ظرف سےباہرآجائے اس کی بھی معاشرہ قدرنہیں کرتا۔

2۔ اوراق جب تک محفوظ جلد کےاندربند ہوں تب ہی ان کوکتاب کہا جاتا ہے ۔
اسی طرح عورت جب تک حیا کے لبادے میں ہو تو اس کی قدرکی جاتی ہے ورنہ بے پردہ عورت کو زمانے میں کوئی عزت نہیں دیتا۔

احساس کے انداز بدل جاتے ہیں وگرنہ
آنچل بھی اسی تارسے بنتا ہےکفن بھی ( بشکریہ بادبان )