غزل گوشہ خواتین

غزل: ڈوبنے کے بعد پھر کشتی نہیں ملی

خیال آرائی: خوشنما حیات ایڈوکیٹ
بلندشہر اُتر پردیش بھارت

اس طرح سے مٹ گٸ ہستی نہیں ملی
ڈوبنے کے بعد پھر کشتی نہیں ملی

درد و غم تقدیر نے دی ہے بہت مگر
زندگی میں دو گھڑی مستی نہیں ملی

نفرتوں کا شہر ہم نے ہر جگہ دیکھا مگر
چاہتوں کی ایک بھی بستی نہیں ملی

آرزو جس کی ہمیں برسوں تلاش تھی
کر کے ہم نے دیکھ لی گشتی نہیں ملی

بڑھ گٸ ہے مہنگائی اس قدر بازار میں
چیز کوئی خوشنما سستی نہیں ملی

خوشنما حیات ایڈوکیٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے