کالمگوشہ خواتین

افسانہ: زندگی یا موت

افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی

رات کا تقریباً دیڑھ بج رہا تھا۔ممبئی کے لوکل ٹرین سٹیشن پر اس وقت بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔لیکن اس روز تو بلکل سناٹا ہو گیا تھا.
میری مطلوبہ ٹرین جو کہ پلیٹ فارم نمبر 4 پر آنے والی تھی۔میں پلیٹ فارم نمبر ایک پر تھا اور سیڑھی کی طرف بڑھا۔ابھی چند سیڑھی ہی چڑھا تھا کہ عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔خیر میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا اور برج پر پہنچ گیا۔لیکن جیسے ہی میں پلیٹ فارم نمبر 4 کی سیڑھیوں سے نیچے اترا۔سینے میں تیز درد محسوس ہوا۔یہ درد اتنا شدید تھا۔جیسے دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو۔میں پسینے سے شرابور تھا۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔وہ آخری لوکل تھی جو دیکھتے دیکھتے ہی گزر گئی۔ اچھی خاصی قد و قامت والا شخص اس قدر بےبس ہو چکا تھا جیسے برسوں سے معذور ہوں۔اب کھڑا ہونا ناممکن تھا تو وہیں سیڑھیوں کے پاس پلیٹ فارم پر بیٹھ گیا۔بمشکل پینٹ کی جیب سے موبائل نکالا لیکن اسکرین پر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔پھر یاد آیا فون کی بیٹری شام ہی ختم ہو گئی تھی۔یعنی مدد کے لئے بھی کسی کو بلا نہیں سکتا تھا۔خیر اب بےبسی کے عالم میں بیٹھا اپنی موت کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔بہت سے واقعات اور حالات ذہن کے پردے سے گزر رہے تھے۔تبھی ایک معصوم سی آواز کانوں میں گونجی۔”ابو آج آتے ہوئے میری ڈول کے لئے نیۓ کپڑے لانا۔میں نے سویرا کے گڈے کے ساتھ اس کی شادی کرنی ہے”۔یہ آواز میری سب سے چھوٹی بیٹی کی تھی۔اسے اپنی گڑیا کی شادی کی اتنی فکر ہے تو مجھے تو اللّه نے تین تین گڑیا دی تھیں۔مجھے بھی تو ان کی شادیا کرنی ہیں۔بس یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے اس جان لیوا درد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔سمجھ تو اب بھی کچھ نہیں آ رہا تھا لیکن اب اگر موت بھی آنی تھی تو اس سے لڑکر ہی مرنا تھا۔بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ میں رینگتے رینگتے سیڑھی چڑھنے لگا۔ دو منٹ کی مسافت میں نے دو گھنٹے میں طے کی اور آج یہ احساس ہوا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ساری آسائشیں اور آرام یہاں تک کہ ہمارا جسم اور اس کے اعضاء بھی ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔مجھے نہیں پتہ کہ میں بچوں گا یا نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اگر مولیٰ نے زندگی دی تو یہ موت کا سفر موت تک کبھی بھول نہیں پاؤں گا۔جیسے تیسے ہمتیں جمع کر کے میں سٹیشن کے باہری گیٹ پر پہنچا۔ سٹیشن سے باہر ہی ایک ہوٹل تھا جس میں کچھ لوگ اندر موجود تھے
میں نے شٹر زور سے بجایا ۔کچھ لوگ باہر آئے۔بس اس کے بعد کچھ یاد نہیں بس ذہن میں آخری بات یہ تھی کہ شاید زندگی اور موت کی اس لڑائی میں جیت کس کی ہوگی۔”زندگی یا پھر موت۔”

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button