اصلاح معاشرہ مذہبی مضامین

زبان کی اہمیت اور اس کی حفاظت حدیث کی روشنی میں

تحریر: محمد مجیب احمد فیضی ،بلرام پوری
استاذ: دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور
email:faizimujeeb46@gmail.com

اللہ رب العزت نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔اگر ہم اس کی نعمتوں کو شمار کریں تو یہ صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیوں کہ اس کی نعمتیں بے شمار ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے خود ارشاد فرمایا ہے:
"ترجمہ :اگر تم میری نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے” پتہ چلا کہ خالق حقیقی کی اپنے بندوں پر بہت سی نعمتیں ہیں جن کو نہ بندہ شمار کرسکتا ہے اور نہ ان کا کماحقہ شکریہ ادا کرسکتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم سب مل کر بھی اس کی عطا کردہ کسی ایک نعمت کا کماحقہ شکریہ ادا نہیں کر سکتے،یہ رب کا بے پناہ احسان اور اس کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بےشمار مخلوقات میں اشرف المخلوقات پیدا فرمایا ۔
چلنے کے لئے پاؤں عطا کیا،پکڑنے کے لئے ہاتھ،دیکھنے کے لئے آنکھ، سمجھنے کےلئے عقل تاکہ انسان افکارصحیحہ کو افکار فاسدہ سے ممتاز کرلے اور کھانے پینے کے لئے منہ ان تمام نعمتوں میں ایک سب سے اہم نعمت یعنی بولنے کے لئے زبان عطا کی،جو ذہن وفکر کی صحیح ترجمان ہے،کیوں کہ جس کی جیسی فکر ہوتی ہے اس کی ویسی زبان ذہن کی باتیں زبان پر آتی ہیں۔ جس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ۔یہ انسانی جسم کا بظاہر ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن اس کے کرشمے بڑے بڑے ہیں۔کیوں کہ بارہا کا تجربہ شاہد ہے اس پر کہ بنی آدم کو جو تکالیف انسانوں کی زبانوں سے پہونچتی ہے اس کا زخم بظاہر نہ دکھ کر بھی اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اس کے لئے جلدی بھرنا نہیں ہوتا ہے ،تیروں اور تلواروں کا زخم تو دواؤں کے سہارے دھیرے دھیرے بھر جاتا ہے اور مندمل ہو کر ٹھیک ہوجاتا ہے۔عربی کا ایک بڑا مشہور شعر ہے:
جراحات السنان لہا التیام
ولایلتام ماجرح اللسان

زبان کا صحیح استعمال باعث حصول ثواب اور اس کا غلط استعمال باعث وعید ہے۔اس لئے حکماء کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو! مطلب یہ ہے کہ بولنے سے پہلے اس کے نتیجہ پر کئی بار غور وفکر کرو، کیوں تمہارے الفاظ تمہاری تربیت کا صحیح پتا دیتے ہیں۔اور تمہارے الفاظ اسی وقت تک تمہارے تابع ہیں جب تک کہ آپ نے ان کا استعمال نہ کیا ہو اگر آپ نے ان کا استعمال کرلیا تو آپ اس کے تابع ہوگئے نہ کہ وہ آپ کے ۔زبان کی خوبیاں بھی بہت سی ہیں ،اور برائیاں بھی ،چاہے تو انسان اس کا صحیح استعمال کرکے اپنی آخرت آباد کرلے اور چاہے تو برباد بھی کرلے، جو عموما آج کل ہو ہی رہا ہے،
یہی وجہ ہے کہ زیادہ کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔لیکن افسوس !جاہل تو جاہل ہیں ،بڑے بڑے صاحبان جبہ ودستار بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں ذرہ برابر بھی عار نہیں محسوس کرتے ، اللہ بچائے۔
ذراسوچیں!! اگر رب نے اپنے بندوں کو زبان نہ دیا ہوتا اور اگر دیا ہی تھا اور بولنے کی صلاحیت نہ دی ہوتی تو کن کن مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا بیان سے باہر ہے۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اس کا صحیح استعمال کریں تاکہ آخرت میں شرمندگی نہ ہو۔
اللہ فرماتا ہے: "کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں۔اور ایک زبان اور دو ہونٹ۔اور ہم نے اسے دو راستے دکھائے” (سورۃالبلد)
تفسیر روح البیان کے مصنف مفسر قرآن حضرت علامہ شیخ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
"آیت مذکورہ میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ اچھی اور نیک باتوں کے علاوہ انسان کم کلام کیاکرے اور فضول وبے فائدہ کلام نہ کرے ،اللہ تعالی نے جو زبان کو منہ کے اندر رکھا اور اس کے آگے دو ایسےہونٹ بنا دیئے جنہیں کھولے بغیر کلام ممکن نہیں ،اس میں یہی حکمت ہے تاکہ بندہ اپنے ہونٹوں کو بند کرکے ان سے کلام نہ کرسکنے پر مدد حاصل کرے”۔
(روح البیان)

اللہ جل مجدہ الکریم نے انسان کو زبان دی اور اس میں گفتگو کرنے کی صلاحیت بھی رکھ دی ورنہ اگر وہ زبان میں گفتگو کی صلاحیت ودیعت نہ کرتا تو انسان کو اپنے معاملات سر انجام دینے میں کس قدر پریشانی ودشواری ہوتی اس کا اندازہ اس نعمت سے محروم حضرات کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔
اس نعمت عظمی کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انسان زبان ہی کے سہارے کلام کرکے اپنی مافی الضمیر کی کما حقہ ادائے گی کرتا ہے۔اس کے ذریعہ لین دین ،
خرید وفروخت ،نکاح، طلاق قسم ، ہر طرح کے معاملات سر انجام دیتا ہے۔مطعومات ومشروبات کے ذائقے معلوم کرتا ہے۔اس نعمت پر خالق کائنات کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اتنا کم ہے۔

             زبان کی حفاظت

زبان کی حفاظت اور خاموش رہنے کی فضیلت میں حدیث مصطفی بہ کثرت وارد ہیں:
چنانچہ صحابئ رسول حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا:
یارسول اللہ !صلی اللہ علیہ وسلم، نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:” اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور تمہیں تمہارا گھر کافی رہے اور اپنی خطاؤوں پر روؤ "
(ترمذی کتاب الزھد)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جب انسان صبح کرتا تو سارے اعضاء زبان کی خوشامد کرتے ہیں اور کہتے ہیں، کہ” ہمارے بارے میں تو اللہ سے ڈر ہم تیرے ساتھ ہیں، تو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم ٹیڑھے ہوجائیں گے” حوالۂ سابق

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ !صلی اللہ علیہ وسلم، مسلمانوں میں سے افضل کون؟ آپ علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا:”جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں” (بخاری)

ایک اور حدیث شریف میں ہے
نبی نے فرمایا تم میں سے جو ہمیں اپنی دوچیزوں کی ضمانت دے دے میں
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنت کی ضمانت دے دوں اور وہ چیزیں یہ ہیں: شرم گاہ اور زبان”۔کاش !اس حدیث پر بھی ہمارا عمل ہوتا۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی تحفظ پر زور دیا ہے۔اور انسان کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیئے اور زبان کی حفاظت کرنی چاہئیے۔ ایسے بلا وجہ اور بے مقصد بولنے سے ایک انسان شخصیت متاثر ہوتی ہے۔عقل مند انسان کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بولتا ہے بغیر سوچے سمجھے زبان نہیں کھولتا۔واقعی زبان کی حفاظت کرناکوئی ایسا دشوار کن امرنہیں ہےجو انسان کی قوت سے باہر ہو بلکہ انسان اگر کوشش کرے تو زبان کی حفاظت کر سکتا ہے۔جیساکہ بعض اہل علم کو زبان کی حفاظت کرتے ہوئے دیکھا میں نے وہ حضرات اس میدان میں بہت ہی سوچ سمجھ کر قدم رکھتے ہیں ۔لیکن افسوس! کہ آج ہم احتیاط کرنے کے بجائے زبان سے سب وستم، گالی گلوج تک بکنے میں دریغ محسوس نہیں کرتے۔ہمیں اپنے آپ کو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں ڈھالنا ہوگا۔شریعت کو سیکھنا ہوگا، طریقت کو گلے لگانا ہوگا۔دعاء ہے رب تعالی کی بارگاہ میں کہ مالک ومولی امت مسلمہ کے زبان کی اول فول بکنے سب ستم سے حفاظت فرماء۔