غزل

غزل: کیا جوانی کی تقدیر تھی

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی

میری شیدائی اک ہیر تھی
کیا جوانی کی تقدیر تھی

کیسے جاتے کسی اور سمت
پاؤں میں تیری زنجیر تھی

کوئی چہرہ میں کیوں دیکھتا
آنکھوں میں تیری تصویر تھی

میری غزلوں کے معیار میں
حسنِ جاناں کی تاثیر تھی

بن گئی اس کی تصویر کیوں
میں نے لکھّی تو تحریر تھی

ہنستے ہنستے وہ رونا مرا
حالتِ دل کی تفسیر تھی

ہر نظر اس کی تھی سحر کن
آنکھ میں کیسی تاثیر تھی

اف رے اس کی ضیا پاشیاں
اس کے رخ پر جو تنویر تھی