غزل

غزل: دلکشی، بے رخی نے مار دیا

خیال آرائی: فرید عالم اشرفی فریدی

تیری اک سادگی نے مارا ہے
دلکشی بے رخی نے مارا ہے

حادثاتِ جہاں نہ فرقت نے
بس تیری برہمی نے ماراہے

جسکی چاہت میں بن گیامجنوں
مجھکو اس عاشقی نےماراہے

مجھ میں طاقت نہیں ہےاٹھنےکی
اتــنا اب لاغــری نــے مارا ہے

تم کو ماراتھا زلفِ لیلیٰ نے
کہتے ہو بے بسی نے مارا ہے

جس کو پہلی نظر ہی دیکھا تھا
مجھکو اس اجنبی نے مارا ہے

اے فریدی نظر میں رکھا کر
عشق میں جس کسی نے مارا ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button