غزل

غزل: دلکشی، بے رخی نے مار دیا

خیال آرائی: فرید عالم اشرفی فریدی

تیری اک سادگی نے مارا ہے
دلکشی بے رخی نے مارا ہے

حادثاتِ جہاں نہ فرقت نے
بس تیری برہمی نے ماراہے

جسکی چاہت میں بن گیامجنوں
مجھکو اس عاشقی نےماراہے

مجھ میں طاقت نہیں ہےاٹھنےکی
اتــنا اب لاغــری نــے مارا ہے

تم کو ماراتھا زلفِ لیلیٰ نے
کہتے ہو بے بسی نے مارا ہے

جس کو پہلی نظر ہی دیکھا تھا
مجھکو اس اجنبی نے مارا ہے

اے فریدی نظر میں رکھا کر
عشق میں جس کسی نے مارا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے