ازقلم: خلیل احمد فیضانی
مضمون نویسی کےلیے سب سے پہلے آپ ان پانچ باتوں کو ذہن میں رکھیں-
(1)صحت کلمات:ہمیں اتنی شد بد اور اردو کا اتنا مطالعہ ہونا چاہیے کہ ہم سیاق و سباق سے اردو عبارت کو درست طریقے سے پڑھ سکیں…جیسے لفظ گل ہے
یہ لفظ دو طریقے سے پڑھا جاتا ہے-
پہلے طریقے کی مثال,گل و گلزار ہے…یعنی گاف کے ضمہ کے ساتھ-
اور دوسرے طریقے کی مثال…آب و گل ہے یعنی پانی و مٹی….یہ گل,گاف کے کسرہ کے ساتھ ہے-
یہ صرف ایک مثال ہے-اس طرح کے الفاظ و کلمات کی اردو ادب میں بھرمار ہے جن کی تمیز آپ کو کرنی ہے –
اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے:
نفیس مطالعہ-
(2)املا:
میں(خلیل احمد فیضانی) املا کو درست مضمون نگاری کے لیے ریڑھ کی ہڈی تصور کرتا ہوں- آپ کا املا درست ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ آپ محظوظ کو محضوض اور مخصوص کو مخثوس لکھیں گے اور اس چیز سے لامحالہ آپ کا معیار گرے گا-
(3)مطالعہ:
ویسے بھی ایک عالم دین کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے لیکن مضمون نویسی وغیرہ سے جڑے حضرات کے لیے تو مطالعہ سے کہیں مفر نہیں ہے-آپ بغیر مطالعہ کے اس میدان میں ناقہ بے زمام کی طرح ہیں;جس کے لیے حدود اربعہ جیسی کوئی قید نہیں ہوتی ہے اور یہی عدم تقیید کسی بھی صاحب قلم کو منزل آشنا نہیں ہونے دیتی;لہذا مطالعہ زیادہ سے زیادہ کریں-
(4)رموز و اوقاف:
رموز و اوقاف کے حوالے سے ایک بات عرض ہے کہ آپ یہاں افراط و تفریط کے شکار نہ ہوں یعنی متوزان مقدار میں ان رموز کا استعمال کریں…کہ :”خیر الامور اوسطھا”-بعض لوگ حد سے زیادہ ان کا استعمال کرتے ہیں تو بعض لوگ بالکل استعمال نہیں کرتے,آپ درمیانہ چال چلیں-
(5)جدید تراکیب و تعبیرات:
اردو محاروں وجدید وقدیم تعبیرات زیادہ سے زیادہ استعمال کریں-اس کے لیے ایک بنیادی چیز یاد رکھیں کہ کسی بھی صاحب قلم کا مضمون یا کتاب نہایت گہرائی کے ساتھ پڑھیں,اس قلمکار نے جملوں کو کس طرح استعمال کیا ہے,تعبیر کو کس انداز میں پیش کیا ہے ,اسے ذہن نشیں کریں بلکہ لکھ لیں-
ابھی ان باتوں کو دھیان میں رکھیں ان شاء اللہ تعالی فائدہ ہوگا۔
نوٹ:ہمارا ایک گروپ ہے "مضمون نگاری سیکھیے” اس گروپ میں مضمون نگاری کے تعلق سے آپ کے ہر سوال کا جواب, نیز آپ کے مضامین کی چیکنگ ,اس حوالے سے آپ کی رہنمائی وغیرہ,بہت کچھ سکھایا جارہا ہے اگر آپ شامل ہونا چاہتے ہیں تو اس نمبر پر رابطہ فرمائیں!
9549924148