اصلاح معاشرہ مضامین و مقالات

اسلاف کرام کی تجارت اور ہمارا معاشرہ

تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

مذہب اسلام میں تجارت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی مذہب ونظام نے معیشت و تجارت کو وہ اہمیت نہیں دی جو مقام و حیثیت مذہبِ اسلام نے دیاہے لیکن مذموم ذہنیت کی بنیاد پر بعض پیشوں کو باعث ننگ وعار سمجھنا آج کے دور کی بہت بڑی لعنت ہے تاریخ شاہد ہے کہ انبیاء ومرسلین، صحابہ و تابعین، اور سلف و صالحین نے ہر طرح کی جائز تجارت سے اپنے گھر آنگن کی کفالت کا فریضہ بحسن و خوبی سرانجام دیا ہے حضرت ابوبکر نے کپڑا ، حضرت عمر نے اونٹ ، حضرت عثمان نے چمڑا اور حضرت علی نے خَود اور زر ہیں فروخت کرکے اپنے گھر کو سنبھالا ہے اور حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کھجوروں ، حضرت ابو عبیدہ نے پتھروں ، حضرت سعد نے لکڑی کے برادے ،حضرت امیر معاویہ نے اون ، حضرت سلمان فارسی نے کھجور کی چھال ، حضرت مقداد نے مشکیزوں اور حضرت بلال نے لکڑیوں کے کاروبار سے اپنے گھر کی کفالت فرمائی ہے آج کل اگر کوئی شخص پھیری لگا کر کندھے پر گٹھڑی رکھ کر کپڑا بیچتا ہو تو لوگ اسے کم تر خیال کرتے ہیں حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور بہت سے بزرگوں نے یہ کام کیا ہے اپنے اسلاف کے کاروبار کو دیکھیں تو امام غزالی کتابت کرتے ، حضرت امام بخاری ٹوپیاں بناتے ، امام مسلم عطر بیچتے ، امام نسائی بکریوں کے بچے فروخت کرتے ، ابن ماجہ رکاب اور لگامیں بیچتے اور حضرت ابو صالح سمان روغن زیتون کا کام کیا کرتے تھے ، حضرت امام یونس ، حضرت ابن عبید داؤد ، حضرت ابن ابی ہند، حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت وثیمہ ریشمی پارچہ یعنی کپڑے کاکام کرتے تھے ۔ امام بخاری کے استاد حسن بن ربیع نے کوفی بوریوں کاکاروبار سنبھالا حضرت امام قرطبی نے جبہ فروشی کیا ، حضرت امام ابن جوزی نے تانبا بیچا، اور معروف بزرگ حضرت سری سقطی نے ٹین ڈبے بیچ کر اپنی معیشت کو مضبوط کیا ۔امام احمد بن عمر الخصاف بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد شخص تھےعربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے اس لئے آپ کو خصاف کہا جاتا ہے علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری یہ بھی بہت بڑے فقیہ و عابد شب زندہ دار تھے فقہ میں المختصر القدوری آپ کی عظیم تصنیف ہے جو باضابطہ درس نظامی میں شامل ہے آپ مٹی کے برتن کا کاروبار کرتے تھے اس لئے آپ کو قدوری کہاجاتاہےالقدوری عربی زبان میں مٹی کی ہنڈیا بیچنے والے کو کہتے ہیں علامہ محمود بن احمد الحصیری بھی ایک فقیہ اور بہت ہی جلیل القدر بزرگ تھے آپ چٹائیوں کا کام کرتے تھے عربی میں حصیری اس شخص کو کہتے ہیں جو چٹائی بناتا ہو۔امام ابوبکربن علی الحدادی بہت بڑے عالم تھے آپ نے المختصر القدوری کی شرح لکھی ہے آپ لوہے کا کام کرتے تھے اس لئے آپ کو حدادی کہا جاتا ہے عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے جوتیوں کی مرمت کرنے والےمٹی کے برتن بنانے والےچٹائی بنانے والےاورلوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے اور ٹھیک ٹھاک علاقوں میں رہنے والے افراد ایسے لوگوں سے رشتہ کرنے پر تیار نہیں ہوتے لیکن مسلمانوں کے زریں عہد میں مذکورہ کام کرنے والے دنیا کے امام تھے کیونکہ اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا آج کی طرح کسی پیشہ کوخسیس اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں اب سودی کاروبار کرنے والے، اسمگلنگ کرنے والے،نقلی دوائیں بنا کر بیچنے والے ناجائز اور حرام ذرائع سے مال حاصل کرنے والے کوٹھیوں میں رہنے والے، بینک بیلنس والے عزت دار ہیں ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے