حدیث پاک

شراب، شرابی اور اس کے احکام و انجام کے متعلق 40 حدیثیں

ازقلم: خبیب القادری تحسینی ارشدی فیضی مدناپوری
بانی: غریب نواز اکیڈمی مدناپور شیش گڑھ بہیڑی بریلی شریف یوپی بھارت

شراب نوشی ایسی بیماری ہے جو گھروں کا چین و سکون اور خیرو برکت ختم کردیتی ہے۔ ایک طرح سے یہ تمام بیماریوں کی ماں بھی ہے ؛ شرابی نشے کی حالت میں وہ گندے گھنونے کام کرجاتا ہے جس کے بارے میں
سوچنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔
شراب اور شرابی کے متعلق کچھ سوالات مندرجہ ذیل ہیں
1 کیاشرابی کو جوتے سے مارسکتے ہیں؟

2 کیا شرابی کو چھڑی سے مار سکتے ہیں؟

3 کیا شرابی کو کوڑوں سے مار سکتے ہیں ؟

4 کیا شرابی کو سب لوگ مل کر ماریں ؟

5 کیا شرابی کی توبہ قبول ہوگی؟

6 کیا شراب کے برتن کو توڑ نا ثواب ہے؟

7 کیا شرابی جب شراب پیتا ہے اس وقت وہ مسلمان نہیں رہتا؟

8 کیا شرابی کو درخت کی ٹہنیوں سے مارنا ثواب کا کام ہے؟
9 کیا شراب کو دوا کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے؟

10 کیا ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ؟

11 جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اسی حالت میں مرگیا تو۔۔۔؟

12 شراب ؛ جوا وغیرہ کیا یہ شیطان کے گندے کام ہیں ؟

13 وہ کونسے دس لوگ ہیں جن پر شراب کی وجہ سے لعنت ہوتی ہے ؟

14 کیا شرابی کی سزا چالیس جوتے مارنا ہے ؟

15 شرابی کو کب قتل کر نے کا حکم ہے ؟

16 انسان جب شراب پیتا ہے تو اس کی چالیس دن نماز قبول نہیں ہوتی ؟

17 کیا زلزلے آنا صورتیں تبدیل ہونا وغیرہ شراب پینے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ؟

18 کیا جو شراب بیچے اسکو سور کا گوشت بھی کاٹنا چاہیے ؟

19 کیا شراب کا نام بدلنے سے حلال ہو سکتی ہے؟

20 کیا جس نے شراب پی اس نے کفر کیا ؟

21 کیا شراب ہر بیماری کی جڑ ہے ؟
22 وہ کونسا شرابی ہے جو جنت میں کھبی نہیں جائے گا

23 کھلے عام شراب پیتا قیامت کی نشانی ہے ؟

24 کیا شراب کی تجارت کرنا حرام ہے؟

25 کیا جوشخص شراب بینچے اس کے لیے یہ کہناصحیح ہو گا کہ اللہ تعالی ا سے تباہ و برباد کرے ؟

26 اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پی ہوتی تو امت گمراہ ہوجاتی ایسا بولنا کیسا ہے؟

27 شراب پینا کیسا ہے شرابی کا انجام کیا ہوگا ؟ وغیرہ وغیرہ
ان سوالات کے جوابات آپ چاہتے ہیں تو یہ چار آیات قرآنیہ اور 40 حدیثیں سماعت فرمائیں

اولا: آیات قرآنیہ پڑھیں

سورة المائدة – آیت 91
اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ،

سور بقرہ- آیت 219
یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ وَ یَسۡئَلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱۹﴾ۙ
تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں ، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو فاضل بچے اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ،

سورۃ المائدہ- آیت 90
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ،
الانتباء:
عقلی اعتبار سے شراب کے نقصانات کم نہیں۔اس سے مال کا نقصان ہے، ہوش و خرد رخصت ہونے سے انسان اپنی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، ذلت و بے عزتی الگ ہاتھ آتی ہے۔وہ افراد جو دنیا دار ہیں وہ بھی غور کریں تو شراب میں کوئی دنیوی فائدہ نہیں پائیں گے۔ اللہ کریم کا ارشاد ہے: ”اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت؛کے تیر) ناپاک ہی ہیں،شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔”(سورۂ مآئدہ:آیت۹۰؛ترجمہ کنزالایمان) آیت کریمہ کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں: اس آیت میں شراب کی حرمت پر دس دلیلیں ہیں:(۱)شراب کا ذکر جوئے بت اور جوئے کے تیروں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سب حرام ہیں۔(۲) شراب کو ناپاک فرمایا اور ناپاک چیز حرام ہوتی ہے۔(۳)شراب کو عملِ شیطان فرمایا،اور شیطانی عمل حرام ہے۔(۴)شراب سے بچنے کا حکم دیا،اور جس سے بچنا فرض ہو اس کا ارتکاب حرام ہوتا ہے۔(۵)فلاح(کام یابی) کو شراب سے اجتناب(بچنے) پر معلق کیا،اس لیے اجتناب فرض اور ارتکاب حرام ہوا۔(۶)شراب کے سبب سے شیطان آپس میں عداوت میں ڈالتا ہے۔اور عداوت حرام ہے اور جو حرام کا سبب ہو وہ بھی حرام ہے۔(۷)شراب کے سبب سے شیطان بغض ڈالتا ہے اور بغض حرام ہے۔(۸)شراب کے سبب شیطان ؛اللہ کے ذکرسے روکتا ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔(۹)شراب کے سبب شیطان نماز سے روکتا ہے اور جو نماز سے رکاوٹ کا سبب ہو اس کا ارتکاب حرام۔(۱۰)اللہ تعالیٰ نے صیغۂ استفہام کے ساتھ نہی بلیغ کرتے ہوئے فرمایا فَھَل اَنْتُمْ مُنْتَھُوْن تو کیا تم باز آنے والے ہو،اور نہی بلیغ سے بھی حرمت کا پتا چلتا ہے۔(شامی،ج۵،ص۹۷۔۳۹۶؛شراب کے نقصانات،ص۷۔۶) شراب بُرائیوں کی جڑ اور بہت سے مسائل کا سبب ہے

شان نزول:
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام کو دعوت دی اور کھانا کھلانے کے بعد شراب پیش کی تو سب نے شراب پی اور سب کو نشہ آگیا اسی دوران مغرب کا وقت ہوگیا تو سب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آگے بڑھایا اور انھوں نے قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ کی تلاوت کی اور اس سورت میں جتنی جگہ [لا] کا ذکر تھا اس کو حذف کردیا، جس کی وجہ سے معنی بالکل بدل گئے، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو یہ آیت: یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی الخ نازل ہوئی۔

اب چالیس حدیثیں پڑھیں
حدیث نمبر 1
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ ( دینی ) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور ( علانیہ ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔
(بخاری شریف80 ) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 2
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ الْخَمْرِ .
جب سورۃ البقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور ان آیات کی لوگوں کے سامنے تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ شراب کی تجارت حرام ہے۔
(بخاری شریف 459 ) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 3

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا ، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَجَمَلُوهَا ، فَبَاعُوهَا .

عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔
(بخاری شریف 2223) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 4
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ عَنْ آخِرِهَا ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ .
جب سورۃ البقرہ کی تمام آیتیں نازل ہو چکیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے۔
(بخاری شریف 2226) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 5
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي ، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا ، فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 الْآيَةَ .
میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ ( پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا ( یہ سنتے ہی ) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا‏» ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں ( آخر آیت تک ) ۔
(بخاری شریف 2464) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 6
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَعَنْ سَعِيدٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا النُّهْبَةَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا۔ شراب خوار مومن رہتے ہوئے شراب نہیں پی سکتا۔ چور مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا۔ اور کوئی شخص مومن رہتے ہوئے لوٹ اور غارت گری نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں اور وہ لوٹ رہا ہو، سعید اور ابوسلمہ کی بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت ہے۔ البتہ ان کی روایت میں لوٹ کا تذکرہ نہیں ہے۔
(بخاری شریف2475) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر7
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : اصْطَبَحَ نَاسٌ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ ، ثُمَّ قُتِلُوا شُهَدَاءَ ، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ : مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، قَالَ : لَيْسَ هَذَا فِيهِ .
کچھ صحابہ نے جنگ احد کے دن صبح کے وقت شراب پی ( راوی حدیث ) سے پوچھا گیا کیا اسی دن کے آخری حصے میں ( ان کی شہادت ہوئی ) تھی جس دن انہوں نے شراب پی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
(بخاری شریف2815) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 8
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ ، فَقَالَ : اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقِيلَ : أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ( دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے ) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
(بخاری شریف 3394) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 9
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ .

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی خرید و فروخت مطلق حرام قرار دے دی ہے۔
(بخاری شریف4296) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 10
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، وَإِنَّ فِي الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ لَخَمْسَةَ أَشْرِبَةٍ ، مَا فِيهَا شَرَابُ الْعِنَبِ .
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو مدینہ میں اس وقت پانچ قسم کی شراب استعمال ہوتی تھی۔ لیکن انگوری شراب کا استعمال نہیں ہوتا تھا ( بہرحال وہ بھی حرام قرار پائی ) ۔
(بخاری شریف 4616) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 11
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، وَهْيَ مِنْ خَمْسَةٍ : مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ .
میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے فرما رہے تھے۔ امابعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو سے اور شراب ہر وہ پینے کی چیز ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
(بخاری شریف 4619) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 12
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ».
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔ (بخاری شریف 5575) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 13
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ غَيْرِي ، قَالَ : مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَقِلَّ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمُهُنَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ .
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا ( کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔
(بخاری شریف 5577) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 14
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَانِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص ( دن دھاڑے ) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔
(بخاری شریف 5578) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 15
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ .
جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔
(بخاری شریف 5579)

حدیث نمبر 16
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَأَبَا طَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، مِنْ فَضِيخِ زَهْوٍ وَتَمْرٍ ، فَجَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : قُمْ يَا أَنَسُ فَأَهْرِقْهَا ، فَأَهْرَقْتُهَا .
میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔
(بخاری شریف 5582) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 17
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ،حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ ، وَالنِّعَالِ ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔
(بخاری شریف 6773) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر18
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ شَارِبًا ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ ، قَالَ : فَضَرَبُوهُ ، فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ .
نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔
(بخاری شریف 6774) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 19
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُعَيْدِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ بِأَيْدِينَا ، وَنِعَالِنَا ، وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ ، فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے ( اور اسے مارتے ) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو ( 80 ) اسی کوڑے مارے۔
(بخاری شریف 6779) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 20
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“
(بخاری شریف 6810)

حدیث نمبر 21
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِيأَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَهُوَ تَمْرٌ ، فَجَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ ، فَاكْسِرْهَا ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى انْكَسَرَتْ .
میں ابوطلحہ انصاری، ابوعبیدہ بن الجراح اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میں ایک آنے والے شخص نے آ کر خبر دی کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی خبر سنتے ہی کہا: انس! ان مٹکوں کو بڑھ کر سب کو توڑ دے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک ہاون دستہ کی طرف بڑھا جو ہمارے پاس تھا اور میں نے اس کے نچلے حصہ سے ان مٹکوں پر مارا جس سے وہ سب ٹوٹ گئے۔
(بخاری شریف 7253)
یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 22
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: «لَا، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»،
لیث نے ہمیں یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال ، جب آپ مکہ ہی میں تھے ، فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام قرار دی ہے ۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار جانور کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، اس سے کشتیوں ( کے تختے ) کو روغن کیا جاتا ہے اور چمڑوں کو نرم کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، وہ حرام ہے ۔ پھر اسی وقت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے جب ان کے لیے ان جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا ، پھر اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت لے کر کھائی ۔
(مسلم شریف 4048) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 23
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ أَرْبَعِينَ»، قَالَ: وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ، «فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، تو آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریبا چالیس ضربیں لگائیں ۔
کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا ، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا : حدود میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم صادر کر دیا۔
(مسلم 4452) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 24
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ، مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ، حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ، وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ، فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، ثُمَّ قَالَ: «جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ»، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ. زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ
‏‏‏‏ حصین بن منذر سے روایت ہے، میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے انہوں نے صبح کی دو رکعتیں پڑھیں تھیں پھر کہا: میں زیادہ کرتا ہوں تمہارے لیے تو دو آدمیوں نے ولید رضی اللہ عنہ پر گواہی دی۔ ایک تو حمران نے کہ اس نے شراب پی ہے۔ دوسرے نے یہ گواہی دی کہ وہ میرے سامنے قے کر رہا تھا شراب کی۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس نے شراب نہ پی ہوتی تو قے کاہے کو کرتا شراب کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہا: اٹھو اس کو حد لگاؤ۔ (یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عزت اور عظمت بڑھانے کے لیے حکم دیا اور امام کو یہ امر جائز ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے حسن! اٹھ اور اس کو کوڑے لگا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: عثمان خلافت کا سرد لے چکے ہیں تو گرم بھی انہیں پر رکھو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بات پر غصہ ہوئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر اور کہا: اے عبداللہ بن جعفر! اٹھ اور کوڑے لگا ولید رضی اللہ عنہ کو وہ اٹھے اور ولیدرضی اللہ عنہ کو کوڑے لگائے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے جب چالیس کوڑے لگائے پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس ٹھر جا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس لگائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے اور سب سنت ہیں اور میرے نزدیک چالیس لگانا بہتر ہے۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: اسماعیل نے کہا: میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہیں رکھ سکا۔
(مسلم شریف 4457) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 25
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ہر نشہ آور چیز خمرہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا تھا اور اس نے تو بہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا ۔
(مسلم شریف 5218) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 26
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا فَقَالَ لَا
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کو سرکہ بنانے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : نہیں ۔
(مسلم شریف 5140) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ أَوْ كَرِهَ أَنْ يَصْنَعَهَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوا ل کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انھوں نےکہا : میں اس کو دوا کے لئے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔
(مسلم شریف 5141) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 28
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا : ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔
(مسلم شریف 5211) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 29
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، قَالَتْ: زَعَمْتَ أَنَّ اللهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ، وَأَنَا أُمُّكَ، وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا. قَالَ: مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ، فَسَقَاهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي} وَفِيهَا {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15] قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ، فَقَالَ: «رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» فَانْطَلَقْتُ، حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِيهِ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ «رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] قَالَ: وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، قَالَ فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ، قَالَ فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ، قَالَ فَسَكَتَ، فَكَانَ، بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا. قَالَ: وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ، فَقَالُوا: تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ – وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ – فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ، وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ. قَالَ فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ، قَالَ فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ. فَقُلْتُ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي، بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ – يَعْنِي نَفْسَهُ – شَأْنَ الْخَمْرِ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90]

ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نےسماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہا : مجھے مصعب بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، کہا : ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین ( اسلام ) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں ۔ کہا : وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا ایک بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا ۔ ( ہوش میں آکر ) انھوں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعا لیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ما ئی : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم ( درست ہی ) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ کہا : اور ( دوسری آیت اس طرح اتری کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی ۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی ۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کی : ( میرےحصے کے علاوہ ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں ، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر ما یا : اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے ۔ میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی ( کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟ ) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا ۔ میں نے کہا : یہ مجھے عطا کر دیجئے ، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر ما یا : جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو ۔ کہا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر ما یا : یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہا : ( ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ ) میں بیمار ہو گیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا ۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے ۔ میں نے کہا : مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا ( سارا ) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں ۔ کہا : آپ نے انکا ر فر مادیا ۔ میں نے کہا : تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے ، میں نے کہا : تو پھر تیسرا حصہ ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے ۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جا ئز ہو گئی ۔ کہا : اور ( ایک اور موقع بھی آیا ) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا : آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے ۔ کہا : میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا، دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی ۔ میں نے ان کے ساتھ کھا یا ، شراب پی ، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا ۔ میں نے ( شراب کی مستی میں ) کہہ دیا : مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے ( اونٹ کا ) ایک جبڑا پکڑا ، اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ ( ساری ) بات بتا ئی تو اللہ تعا لیٰ نے میرے بارے میں ۔ ۔ ۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی ۔ ۔ ۔ شراب کے متعلق ( یہ آیت ) نازل فر ما ئی : بے شک شراب ، جوا ،بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں ۔

حدیث نمبر 30
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشْرَةً عَاصِرَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمُعْتَصِرَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَشَارِبَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَحَامِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَاقِيَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَبَائِعَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَآكِلَ ثَمَنِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُشْتَرِي لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے ”دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث انس رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے، ۲- اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس، ابن مسعود اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
(ترمزی شریف 1295) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 31
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ مِسْعَرٍ،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ الْحَدَّ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ . قَالَ مِسْعَرٌ:‏‏‏‏ أَظُنُّهُ فِي الْخَمْرِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالسَّائِبِ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی، مسعر راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے شراب کی حد میں ( آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابوہریرہ، سائب، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
(ترمزی شریف 1442) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 32
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَالشَّرِيدِ،‏‏‏‏ وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَجَرِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ،‏‏‏‏ فَضَرَبَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقْتُلْهُ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَرُفِعَ الْقَتْلُ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ رُخْصَةً،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ،‏‏‏‏ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي،‏‏‏‏ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ۱؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہو گیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے ” «محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو“، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۵- چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہو گیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بےشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہو سکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین ( اسلام ) چھوڑنے والا ( مرتد ) ہو“۔
(ترمزی شریف 1444) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 33
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبْ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهْرٌ مِنْ صَدِيدِ أَهْلِ النَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابن عباس کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
(ترمزی شریف 1862) یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 34
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رُمَيْحٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا، ‏‏‏‏‏‏وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہو جائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
(ترمزی شریف 2211)
یہ حدیث ضعیف ہے

حدیث نمبر 35
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا ( اور بیچنا ) چاہیئے ( اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں ) ۔
(ابوداؤد شریف 3489)
یہ حدیث ضعیف ہے

حدیث نمبر 36
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا .
عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ ۔
(ابوداؤد شریف 3688)
یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 37
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ وَقَالَ مَسْرُوقٌ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ
حضرت مسروق نے کہا کہ جب قاضی تحفہ وصول کرے تو اس نے حرام کھایا اور جب رشوت قبول کر لے تو یہ اس کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ۔ اور مسروق نے ( یہ بھی ) کہا کہ جس شخص نے شراب پی ، اس نے کفر کیا ۔ اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔
(نسائی شریف 5668)
یہ حدیث ضعیف ہے

حدیث نمبر 38
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَقُولُ اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا يُوشِكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ۔
حضرت عبدالرحمن بن حارث سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا : شراب سے دور رہو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بڑا عابد شخص تھا ۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا ۔ ( پھر راوی نے حسب سابق روایت بیان کی ) پھر فرمایا : شراب سے دور رہو ۔ اللہ کی قسم ! شراب اور ایمان کسی شخص میں اکٹھے نہیں ہوں گے مگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو نکال باہر کرے گا ۔
(نسائی شریف 5670)
یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 39
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ نُبَيْطٍ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ احسان جتلانے والا ، ماں باپ کا نافرمان اور عادی شراب نوش جنت میں نہیں جائیں گے ۔‘‘
(نسائی شریف 5675)
یہ حدیث صحیح ہے

حدیث نمبر 40
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ: إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے شراب كی قیمت، زانیہ كی كمائی اور كتے كی قیمت لینے سے منع فرمایا ،اور فرمایا كہ جب كوئی شخص تمہارے پاس كےس كی قیمت لینے آئے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو۔۔
(السلسلۃ الصحیحہ 1205) یہ حدیث صحیح ہے۔۔

سوال : کیا دوا کے طور پر شراب استعمال کرنا جائز ہے؟
جواب نہیں شراب کا ایک قطرہ بھی حرام ہے ( راہ شریعت)

اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے