غزل

غزل: تم نے شاید مجھے بھی دیکھا ہو

خیال آرائی: فیضان علی فیضان

سچ کہوں گا میری شنا سا ہو
تم نے شاید مجھے بھی دیکھا ہو

اپنی حالت بیان کیسے کروں
ذہن جب الجھنوں میں الجھا ہو

بات اپنی رکھوں تیرے آگے
تو مقابل جو آ کے بیٹھا ہو

میرے دل کو سکون دیتا ہے
زخم الفت کا جتنا گہرا ہو

تپتے صحرا میں جیسے چھاؤں ملے
پاس میرے اگر وہ ٹھہرا ہو

ہمسفر ہم کو کوئی تم سا ملے
سوچئے کیا سفر سہانا ہو

کیسے فیضان ہوں ملاقاتیں
روز ملنے کو اک بہانا ہو

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com