گوشہ خواتین مذہبی مضامین

اسلام میں مسلم عورتوں کےلیے حجاب (پردہ) لازمی وضروری حصہ ہے

تحریر: محمد منصور عالم نوری مصباحی


اس دورِ پرفتن میں لوگ دینی مسائل کے حل کی امید ایسے لوگوں سے رکھتے ہیں جنہیں یا تو دین کی جانکاری ہی نہیں ہوتی یا دین کی جانکاری تو ہوتی ہے لیکن وہ جانکاری فیس بک ، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ہوتی ہے یا برسر تسلیم مطالعہ دینیات سے گہری جانکای ہوتی ہے لیکن وہ کسی کے دباؤ میں یا عصبیت میں یا اکثریت کی رضا و خوشی کے لئےحق وسچ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔ افسوس ! آج یہی لوگ مسلمانوں کے مسائل کا فیصلہ کرنے اور سنانے کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں ۔
اسلام میں عورتوں اور مردوں کے پردے کا ذکر فقہ اسلامی کی ابتدائی کتابوں سے شروع ہوجاتا ہے اور فقہ کی تقریبا ہر کتاب میں اس کا ذکر ضرور ملتا ہے ۔
آج کچھ منصفین جان بوجھ کر فقہ اسلامی کا ذکر اپنے فیصلوں میں نہیں کرتے اور ڈائریکٹ یہ کہ کر اپنی نادانی اور جہالت کا باور کراتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حکم قرآن میں نہیں ہے یا اس کام کو قرآن نے ضروری قرار نہیں دیا ہے ۔ جب کہ کسی بھی دینی کام کا فیصلہ فقہ اسلامی کے حوالہ سے سنانا چاہئے کیونکہ مجتھدین اسلام اور فقہاء کرام نے قرآن شریف اور احادیث کریمہ کا نہایت باریکی و گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے اورنہایت تحقیق وتدقیق کے بعد جو احکام اخذ وشائع کئے ہیں جن پر امت اسلامیہ کو بھی مکمل یقین و وثوق ہے اور ان کا عمل بھی ان پر صدیوں سے جاری ہے اور خصوصیت کے ساتھ مسئلہ حجاب تو ایسا واضح مسئلہ ہے جس پر عہد رسالت ﷺ سے ہی امت اسلامیہ کا عمل جاری وساری ہے تو ایسے مسائل جن کے احکام کو فقہائے کرام اور مجتھدین اسلام نے دلائل و براہین کے ساتھ بہت پہلے ہی واضح و روشن کرچکا ہے ان کے بارے میں وہی احکام بتانا اور بیان کرنا ضروری اور لازمی ہے جو فقہ اسلامی یعنی اسلامی شرعیہ قانون میں موجود ہے ان کے خلاف کوئی نیا حکم بتانا یہ شریعت اسلامیہ میں کھلم کھلا مداخلت ہے ۔ اسی لئے بانئ رضا اکیڈمی جناب حافظ سعید نوری صاحب نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر جو حجاب کے مسئلہ پر آیا ہے کہا ہے کہ” کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مداخلت فی الدین ہے” ۔
حجاب ، نقاب ،برقع اور خمار وغیرہ مسلم عورتوں کا لباس ہے جن سے وہ اپنا پردہ کرتی ہیں اور ان میں وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی سمجھتی ہیں از روئے شریعت مسلم عورتوں کے لئے پردہ کرنا فرض و ضروری ہے ۔ آج میں اس مضمون میں قرآن و احادیث سے کچھ ثبوت پیش کرتاہوں تاکہ وہ لوگ جو کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے تذبذب میں ہیں ان پر روشن ہوجائے کہ اسلام میں مسلم عورتوں کے لیے حجاب یعنی پردہ لازم و ضروری ہے ۔
عورت پردہ کی چیز ہے
اسلام نے عورتوں کو پردہ کا حکم دے کر ان کی عزت و عظمت کو بلند کیا ہے ،ان کا وقار اونچا کیا ہے ،ان کو سربلندی بخشی ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ گھومتی تھیں اس جہالت والی زندگی سے اللہ تعالیٰ نےمسلمان عورتوں کو بچنے کا حکم دیا جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے :
وَقَرنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَاتَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجَاھِلِیَّةِ الاُولیٰ (سورہ احزاب پ۲۲) اور اپنے گھروں میں ٹھری رہو اور بے پردہ نہ رہو اگلی جاہلیت کی بے پردگی ۔ (کنز الایمان)
زمانہ جاہلیت یعنی قبل اسلام عورتیں اتراتی نکلتی تھیں ، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیر مرد دیکھیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضا اچھی طرح نہ ڈھکیں ۔ ( خزائن العرفان )
عورت سراپا پردہ کی چیز ہے سر کے بال سے پیر کے ناخن تک ہر عضوِ بدن عورت ( چھپانے کی چیز) ہے اور پردہ وحجاب کرنا مسلم عورتوں کے لیے ضروری و فرض ہے ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے ۔
وَلَا یُبدِینَ زِینَتَھَنَّ اِلَّا مَاظَھَرَ مِنھَا وَلیَضرِبنَ بِخُمرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوبِھِنَّ ۔ (سورہ نور پ ۱۸)
ترجمہ : اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا ( چہرہ اور پتھیلیاں) خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنی گریبانوں پر ڈالے رہیں ۔
اور چند سطروں کے بعد ارشاد خداوندی ہے : وَلَا یَضرِبنَ بِاَرجُلِھِنَّ لِیُعلَمَ مَایُخفِینَ مِن زِینَتِھِنَّ وَ تُوبُوا اِلَی اللہِ جَمِیعًا اَیُّهَ المُؤمِنُونَ لَعَلَّکُم تُفلِحُونَ ۔ (سورہ نور پ ۱۸ )
ترجمہ : اور زمین پر پاؤں نہ ماریں جس سے ان کا چھپا ہوا سنگار معلوم ہوجائے اور سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرو ۔اے مسلمانوں ! اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔
ان قرآنی عبارتوں سے واضح ہوا کہ اسلام میں عورتوں کے لئے پردہ لازم ، ضروری و فرض ہے جس سے ان کی زینتوں کی نمائش نہ ہو ، غیر محرم ان پر نظر نہ ڈال سکیں ۔اسلام پردہ کے ذریعہ عورت کے محاسن ،اس کی زینت و آرائش جس سے فتنہ کا اندیشہ ہے اور پاؤں سے لے کر سر تک جو بھی مواضع زینت و آرائش ہیں اس کی بر سرعام نمائش اور زمین پر پاؤں مار کرچلنے سے روکتا ہےجس سے زیوروں کی جھنکار سے آواز پیدا ہوتی ہے ۔
چنانچہ شریعت مطھرہ میں عورتوں کے لئے سر کے بالوں کا کوئی حصہ ، بازو ، کلائی ، گلے سے پاؤں کے ٹخنوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصہ غیر محرموں اور کافرہ عورت کے سامنے کھلارکھنا حرام ہے ۔ (یعنی چھپانا ، ان کا حجاب و پردہ کرنا لازم وفرض ہے) ۔۔۔(فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص۱۲۹ بحوالہ پردہ کیا ہےص۲۸)
پردہ کم سے کم کس قدر ؟
دبیز اور گھیر دار کپڑے پہنے ،سر سے پاؤں تک جسم ڈھک کر نکلے کہ منھ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں کے سوا بال ، گلا ، بازو ، کلائی ، پیٹ ،پنڈلی کچھ ظاہر نہ ہو اگر ان میں سے کوئی بھی ظاہر کرکے نکلتی ہیں تو وہ عورتیں فاسقہ اور ان کے مرد دیوث ہیں ایسے لوگوں سے بچنا چاہئے ۔ (فتاویٰ رضویہ دہم بحوالہ کتاب مذکور)

نقاب اگر چہ عورت کا چہرہ ستر عورت میں داخل نہیں مگر جب ضرورتاً باہر نکلنا ہو تو چہرے پر پردہ ڈالنا ضروری ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ قُل لِاَجوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ المُؤمِنِینَ یُدنِینَ عَلَیھِنَّ مِن جَلَابِیھِنَّ ذٰلِکَ اَدنیٰ اَن یُعرَفنَ فَلَایُوذِینَ وَکَانَ اللہُ غَفُورًا رَّحِیمًا ۔ ( سورہ احزاب پ۲۲ع۵)
اے نبی ! اپنی ازواج ، صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنے چہرے پر چادر ڈالی رہیں اس سے وہ پہچانی جائیں گی اور ان کو ایذا نہیں دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
پردہ کس سے کریں
مذکورہ بالا قرآنی ارشادات سے واضح ہوگیا کہ مسلم عورتوں کے لئے اجنبیوں ،غیر محرموں اور کافرہ عورت سے پردہ کرنا لازم و فرض ہے ہاں جو غیر محرم نہیں ان سے پردہ کرنے کے تعلق سے کچھ تفصیل ہے
اس کا ضابطہ کلیہ یہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقا واجب اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرنا واجب اگر کرے گی گنہ گار ہوگی اور محارم غیر نسبی سے جیسے سسرالی رشتے دار ( شوہر کے اصول وفروع ) اور دودھ کے رشتے دار ان سے پردہ کرنا ، نہ کرنا دونوں جائز لیکن حالت اور مصلحت کا لحاظ ہوگا جہاں اندیشۂ فتنہ ہو وہاں پردہ واجب ہوجائے گا ۔
چنانچہ قرآن مجید میں اس کی تفصیل یوں ہے ۔ وَلَایُبدِینَ زِینَتَھُنَّ اِلَّا لِبَعُولَتِھِنَّ اَو اَبَائِھِنَّ اَو اَبَاءِ بُعُولَتِھِنَّ اَو اَبنَائِھِنَّ اَو اَبنَاءِ بُعُولَتِھِنَّ اَو اِخوَانِھِنَّ اَو بَنِی اٍخوَانِھِنَّ اَو بَنِی اَخوَاتِھِنَّ اَو نِسَائِھِنَّ اَو مَامَلَکَت اَیمَانِھِنَّ اَوِ التَّابِعِینَ غَیرِ اُولِی الاِربَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفلِ الَّذِینَ لَم یَظھَرُوا عَلیٰ عَورَاتِ النِّسَاءٍ ۔
(سورة النور ، پ۱۸)
ترجمہ : اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہر یا اپنے باپ دادا یا شوہر کے باپ ،دادا یا اپنے بیٹوں یا شوہر کے بیٹوں ( جو دوسری بیویوں سے ہوں ) یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بہن کے بیٹوں یا اپنے مذہب کی عورتوں یا اپنی نوکرانیوں یا ان بچوں پر جنہیں عورت کی شرم کی چیزوں کی خبر نہ ہو ۔
یونہی دودھ کے رشتے مثلا رضائی باپ ، بھائی وغیرہ کے سوا تمام نا محرموں جن سے عورت کا نکاح جائز ہے مثلا دیور ، جیٹھ ، بہنوی ، خالو، پھوپھا ، اور خالہ زاد بھائی ، چچا زاد بھائی ، پھوپھی زاد بھائی ،دور کے رشتے کے چچا ، دادا وغیرہ سب نامحرم ہیں ان سے پردہ فرض سخت فرض ہے خصوصا ان لوگوں سے جن سے فتنے کا زیادہ اندیشہ ہو جیسے بہنوئی ، دیور ، جیٹھ وغیرہ کہ حدیث میں آیا ہے : الحمو الموت ۔دیور ، جیٹھ موت ہے ۔
(پردہ کیا ہے ص ۳۰)
پیر و استاد سے بھی پردہ فرض ہے ۔ مریدہ کا پیر سے شاگردہ کا استاذ سے نکاح جائز ہے لھذا پردہ بھی فرض ہے ۔
( ملخصا از پردہ کیا ہے ص۳۱)

مقصد لباس اور کتنا لباس فرض ہے
لباس جسم کا پردہ ہے لباس سے زینت و آرائش بھی حاصل ہوتی ہے لیکن لباس کا اصل مقصد ستر پوشی و پردہ ہے ۔ اتنا لباس فرض ہے کہ جس سے ستر ہوجائے اور گرمی و سردی کی تکلیف سے بچے اور اس سے زائد جس سے زینت مقصود ہو ،اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار کیا جائے مستحب ہے ۔ ایسا باریک لباس جس سے جسم کے اعضا جھلکے یا ایسے تنگ و چست لباس جس سے جسم کے نشیب و فراز اور ساخت و بناوٹ ظاہر ہو اور لباس کا مقصد ہی فوت ہو تو ایسا لباس پہننا حرام ہے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں کہ میری بہن اسماء بنت ابوبکر باریک لباس پہن کر آئیں آپ ﷺ نے اپنا رخ مبارک پھیرلیا اور فرمایا اے اسماء جب عورت بلوغ کے قریب پہنچ جائے تو اس کے اور اس کے سوا اس کے بدن کے کسی حصے کا نظر آنا جائز نہیں اور آپ نے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ فرمایا
(مشکوٰة ،سنن ابودؤد بحوالہ کتاب مذکور )
حضرت حفصہ بنت عبد الرحمٰن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے آئیں حضرت عائشہ نے اسے پھاڑ دیا اور موٹے کپڑے کا دوپٹہ اڑھا دیا
(مشکوٰة وسنن ابوداؤد بحوالہ کتاب مذکور)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اپنی کتاب "الاسراء المعراج” میں لکھتے ہیں ” جب معراج کی رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں سے لٹکتی ہوئی عورتیں دیکھیں جن کے دماغ ہانڈی کی طرح ابل رہے تھے تو آپ نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا ؛ یہ کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ بے پردہ عورتیں ہیں جو غیروں کو اپنے بالوں کی نمائش کراتی تھیں ۔ (پردہ کیا ہے ص۵۴)

اہل انصاف سے گزارش !

کیا اب بھی آپ پر یہ بات مخفی رہ سکتی ہے کہ اسلام میں عورتوں کے لئے حجاب و پردہ ضروری نہیں ؟ ۔ اسلام سختی کے ساتھ اپنے ماننے والوں کو ستر پوشی و پردہ داری کا حکم دیتا پے اور اس سے غفلت و لاپرواہی پر سخت عذاب و سزا سے باخبر بھی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام کے باوقار شہزادیاں ہر ہر موقعہ پر حجاب و پردہ کا مکمل خیال رکھتی تھیں ۔
حضرت سیدتنا ام خالد رضی اللہ تعالی عنہا حضور سرکار دوجہان صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چہرے پر نقاب ڈال کر حاضر ہوئیں ۔ان کا بیٹا شہید ہوچکا تھا وہ اسی کے متعلق دریافت کرنے آئی تھیں ۔ایک صحابی نے یہ دیکھ کر تعجب سے کہا ” نقاب اوڑھ کر بیٹے کے بارے میں پوچھنے آئی ہو ! ” یہ سن کر اس خاتون نے جواب دیا ” میرا بیٹا جاتارہا تو کیا ہوا ،میری حیا تو نہیں گئی ہے۔”
(سنن ابوداؤد بحوالہ پردہ کیا ہے۳۵ )
ایک نیک اور شریف عورت کی زندگی کا سب بڑا سرمایہ اس کی عفت و پاکدامنی اور عظمت و شرافت ہوتی ہے وہ کبھی یہ گوارہ نہیں کرسکتی کہ کوئی اجنبی شخص اس کے جسم و پیکر کی بلائیں لے اس کو دیکھے ، مس کرے ۔ اسلئے کہ اگر اس کی عفت و پاکدامنی ، عزت و عظمت کا نیلام ہوگیا تو اس کی زندگی کی کیا اہمیت رہ جائے گی ۔
سرکار دوعالم ﷺ نے ایک بار خاتون جنت حضرت فاطمة الزھرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا : عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے ؟” تو انہوں نے عرض کیا کہ ” نامحرم شخص اسے نہ دیکھے ۔” آپ ﷺ نے اسے گلے سے لگالیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد دہم)
مذہب اسلام ہر موقعہ پر عورت کی عزت و ناموس کا خیال رکھا ہے ، اس کے لئے کیا بہتر ہے اسی کا اس کو مکلف اور ذمہ دار بنایا ہے آج دنیا ترقی اور آزادی کے نام پر عورتوں کی عزت و ناموس کے ساتھ کھیلوار کررہی رہی ہے اور اس کو صرف اور صرف تفریح طبع کی چیز بناکر رکھ دی ہے اور افسوس اسی رنگین دنیا کی پیروی میں عدل و انصاف کے گھروں میں بھی ننگی ناچ شروع ہوگئ ہے اور عوتوں کی عفت و پاک دامنی کو تار تار کرنے کا حکم ان نام نہاد انصاف گاہوں سے صادر ہونے لگا ہے اس لئے سچ کہا ہے جناب راحت اندوری صاحب نے ؂

انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا

اہل انصاف سے گزارش ہے کہ اسلامی شرعیہ قانون میں مداخلت سے باز رہیں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مسلم عورتوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی دیں ۔
اللہ رب العزت مسلم لڑکیوں اور خواتین اسلام کی عفت و پاکدامنی اور عظمت و شان کی حفاظت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔