افسانہ

افسانہ: زندگی مسلسل جدو جہد

افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی

زندگی کی ناؤ بہت عرصے سے مسلسل دریا کی موجوں سے لڑتی جھگڑتی آخرکار کنارے پر آ گئی۔ جب بھی کوئی نئی موج کشتی کو دوسری سمت لےجاتی تھی۔ ہر بار سہم جاتی تھی کہ اب ڈوبنے سے نہیں بچ سکتی۔ پر کہتے ہیں نہ کہ جب تک آپ خود ہار نہیں مانتے تب تک دنیا کی کوئی شئے آپ کو ہرا نہیں سکتی۔ لیکن آج جب کنارے پر پہنچنے کے بعد بھی سوچیں منتشر ہیں۔ جیسے کی کچھ اُس کنارے پر چھوٹ گیا ہے۔جیسے زندگی کا مقصد ادھورا رہ گیا ہے۔ ساری تمنائیں اور خواہشیں اپنے ادھورے پن پر ماتم کناں ہیں۔ اور ایک اونچی اڑان بھرنے والا پرندہ اچانک ایک سوکھی شاخ پر آ بیٹھا ہو اور پَر ہونے کے بعد بھی اس کو اڑنے میں کوئی دلچسپی نہ رہی ہو۔ پہلے ان لہروں کے تھپیڑوں سے ہر پل سوچیں منتشر رہتی تھیں۔ اور اب کنارے کا سکوت سوچوں کو منجمد کئے ہوئے ہے۔ دریا میں موجوں کے رحم و کرم پر زندگی کی کشتی تھی اور ساحل پر بے حد تنہائی اور گہری خاموشی ہے۔ آگے گهپ اندھیرا اور گھنا جنگل ہے۔سوچوں کا الجھا ہوا جال ہے۔ انھیں الجھی ہوئی سوچوں سے ایک مثبت سوچ کی تلاش باقی ہے۔تاکہ آگے کی مشکل اور خار دار راہ پر چلنا آسان ہو جاۓ۔اس راہ پر بہت سارے دردناک موڑ آئیں گے۔ پیروں میں خار چبھیں گے۔ جسم لہو لہان ہو جاۓ گا۔ جسم کے زخم روح کو بھی زخمی کر دیں گے۔ لیکن ان سب کے باوجود زندگی مسلسل چلتی رہے گی۔ اور سانسوں کی ڈور ٹوٹنے تک مسلسل کشمکش اور جدوجہد جاری رہے گی۔