تعلیم گوشہ خواتین

مدارس خواتین اور عصری تعلیمات

تحریر: طارق انور مصباحی

موجودہ وقت میں اسکولی یونیفارم کے نام پر اسکول وکالج میں مسلم بچیوں کے حجاب ونقاب کی مخالفت کی جا رہی ہے۔بہت سے اسکول وکالج میں حجاب ونقاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔غیر مسلم لڑکے مسلم لڑکیوں کو اپنی جھوٹی محبت میں پھنسا کر ان سے شادی کر لیتے ہیں,ان کو مرتد بھی بنا دیتے ہیں,پھر ان لڑکیوں کا انجام انتہائی ناقابل بیان ہوتا ہے۔بہت سی لڑکیوں کو قحبہ خانوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔بہتوں پر ایسا ظلم وستم کیا جاتا ہے کہ وہ زندگی پر موت کو ترجیح دیتی ہیں۔خبروں اور اخباروں میں ان حادثات کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔

ایسے حالات میں لازم ہے کہ لڑکیوں کے مدارس میں عصری تعلیم کا نظم ونسق ہو۔اوپن اسکولنگ سسٹم کے ذریعہ ان کے لئے عصری تعلیمات کے امتحانات کا انتظام کیا جائے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسی تعلیم گاہوں کے اخراجات میں خاص حصہ لیں۔تعلیم کے لئے جو خرچ اسکول وکالج میں دیا جاتا ہے۔وہی خرچ مدارس خواتین کو دیئے جائیں,تاکہ مسلم بچیاں محفوظ اور سکون بخش ماحول میں دینی ودنیاوی علوم حاصل کر سکیں۔

مدارس خواتین کے ذمہ داروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے یہاں دینی وعصری تعلیم کا عمدہ انتظام کریں۔محض خانہ پری نہ کریں۔جب صحیح انتظامات ہوں گے تو ان شاء اللہ تعالی دیر یا سویر قوم بھی متوجہ ہو گی۔

سالار قوم وامت شہزادہ فقیہ ملت حضرت مفتی ازہار احمد امجدی زید فضلہ نے فلاح ملت ٹرسٹ کی جانب سے اوجھا گنج ضلع بستی میں بچیوں کے لئے مشترکہ تعلیم کا انتظام فرمایا ہے۔اصحاب ثروت اور ہمدردان ملت اس جانب متوجہ ہوں اور ادارہ کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔عصر حاضر میں ایسے اداروں کی ضرورت وافادیت سے ہر مسلم آگاہ ہے۔بھارتی مسلمانوں کو حالات زمانہ کا لحاظ کرتے ہوئے اقدام کرنا ضروری ہے,کیوں کہ بھارت میں ہر محاذ پر مسلمانوں کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے۔ہمیں سازشوں کو زیر زمین دفن کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔