خواجہ غریب نوازگوشہ خواتین

کردار خواجہ غریب نواز کے تابندہ نقوش (قسط دوم)

از قلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

گزشتہ سے پیوستہ۔۔ـــ جوانی کی قربانی:
آپ رحمتہ اللہ علیہ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے یوں ہی بے علم جنگل میں گوشتہ نشین نہیں ہو گئے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ رحمۃ اللہ نے اپنی جوانی کے محض ظاہری علوم : تفسیر، فقہ اور حدیث کی تحصیل میں تقریباً 35/سال صرف فرمائے .{تذکرۃ المعین فی ذکر کاملین، ص: ٢، مطبع معینیہ اجمیر} اس کے علاوہ باطنی علوم کی تحصیل کے لیے اپنے پیر و مرشد خواجہ عثمان ہرونی – رحمة الله عليه – کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی دولت سے سرفراز ہوئے – سیر الاقطاب مترجم تذکرہ خواجگان چشت {ص ١٣٨} کے مطابق بیس (20) سال اور دلیل العارفین نیز دیگر کتب کے اعتبار سے آٹھ (8) برس خدمت مرشد میں مشغول رہے – آپ کے ملفوظات میں درج ہے کہ خود آپ – رحمة الله عليه – فرماتے ہیں : ”میں آٹھ سال اپنے مرشد کی خدمت میں مصروف رہا – ایک لمحہ بھی آرام نہیں کیا – میں نے نہ رات دیکھی نہ دن ہمیشہ ان کے سفر میں رہا – ان کے کپڑے بستر اور دیگر سامان سفر سر پر رکھ کر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا – جب انھوں نے مجھ درویش کی خدمت دیکھا تو مجھے وہ نعمت ابدی عطا فرمائی جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ انتہا“ – {دلیل العارفین،ص ١٦، مطبع ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور}
الغرض اس دم تک بارگاہ مرشد کے خادم بنے رہے یہاں تک کہ کامیابی حاصل کر کے منزل مقصود تک پہنچ گئے – حتی کہ سند کے طور مرشد کامل نے ارشاد فرمایا : ”معین الدین محبوب خدا است و مرا فخر است بر مریدی او،، ہمارا معین الدین اللہ کا محبوب ہے، ہمیں اپنے مرید پر فخر ہے“ – {مرآة الأسرار، ص٥٩٥، سیر الاقطاب ص١٠٣}
_ان مختصر اشارات سے بخوبی واضح ہو گیا کہ خواجہ غریب نواز – رحمة الله عليه – نے اپنی جوانی کو حصول علم اور خدا طلبی میں گذار دیا جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے اپنے فضل خاص سے بلند سے بلند ترین مقام تک پہنچایا –

❸ ولایت ہند یوں ہی عطا نہ ہوئی :
اتنی عظیم بزرگی کہ زیارت حرمین طیبین کے موقع پر مکہ مکرمہ میں غیب سے ندا آئی کہ ”معین الدین میرا دوست ہے، میں نے اس کو اپنے مقبول اور برگذیدہ بندوں میں شامل کیا“ – اور پھر جب مدینہ منورہ میں روضہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ و سلم پر حاضری دی اور ادب و احترام کے ساتھ سلام پیش کیا تو جوابا روضہ اقدس سے ”وعلیکم السلام یا قطب المشائخ“ کی صدا آئی- {مخلصاً سیر الاقطاب مترجم تذکرہ خواجگان چشت، ص ١٣٨،مطبع نفیس اکیڈمی کراچی} اور نائب رسول بنا کر ہند کی ولایت سپرد کی گئی- اس بلند مقام و مرتبت پر فائز ہونے والے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ کا مجاہدہ بھی ذرا ملاحظہ کریں :

❹ مجاہدات خواجہ غریب نواز :
1__ تلاوت قرآن اور شب بیداری: حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز – رحمة الله عليه – کا معمول تھا کہ ساری ساری رات عبادت الٰہی میں مصروف رہتے، حتی کہ عشاء کے وضو سے نماز فجر ادا کرتے اور تلاوت قرآن سے اس قدر شغف تھا کہ دن میں دو قرآن پاک ختم فرما لیا کرتے، دوران سفر بھی قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی۔ {مرآۃ الاسرار، ص ۵۹۵ بحوالہ فیضان غریب نواز١٢}
2__کم کھانے کی عادت: دیگر بزرگان دین اور اولیائے کاملین رحمھم اللہ کی طرح آپ بھی زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی بجا لانے کی خاطر بہت ہی کم کھانا تناول فرماتے تا کہ کھانے کی کثرت کی وجہ سے سستی، نیند یا غنودگی عبادت میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے، چنانچہ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ :
سات (7) روز بعد دو ڈھائی تولہ وزن کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر کھایا کرتے ۔ {ایضاً}
یہ تھی خواجہ غریب نواز کے مجاہدات کی ہلکی سی جھلکیاں جن سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو گیا مقبولیت بارگاہ الہی کی ایک وجہ آپ کا ترک دنیا اور مجاہدات شاقہ بھی تھی؛ اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ – رحمة الله عليه – کو دنیا والوں میں بھی مقبولیت تامہ ملی اس کی کیا وجوہات تھی؟

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button