مذہبی مضامین

زکوٰۃ کے اسرار اور فائدے

تحریر: مظہر قادری (کوڈرما) جھارکھنڈ

ہمارے پاس عام طور پر دو قسم کے مال ہوتے ہیں ۔ کچھ حرام اور کچھ حلال ، راہ خدا میں وہ مال خرچ کرو جو نہایت طیب اور حلال ہو – چونکہ حرام مال اسکی بارگاہ میں قبول نہیں ۔ تیسرا یہ کہ ہمارے مالوں میں بعض ردی ہوتے ہیں ، اور بعض کھرے اللہ کی راہ میں کھرا مال خرچ کرو ۔ (وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ) رزق کے لغت میں دو معنی ہیں ۔ عطا یعنی دی ہوئ چیز ، حصہ (وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ) اس آیت میں رزق حصہ کے معنی میں استعمال ہوا ۔ اصطلاح میں رزق وہ ہے جس سے کوئ جاندار چیز نفع حاصل کرے ۔ لہذا ہوا ، پانی ، لباس، غزائیں ، زمین ، اولاد وغیرہ غرضکہ دنیا کی ہر نعمت رزق ہے ۔ تو اب اس آیت کے معنی یہ ہوئے کہ ہر نعمت میں سے ہماری راہ میں خرچ کریں ۔ لیکن ہر چیز کا خرچ کرنا اس کے موافق ہوگا ۔ مثلا ہوا سے سانس لیتے ہیں تو کچھ سانس اللہ کے ذکر میں خرچ کرو ۔ یہ سانسوں کی زکوٰۃ ہوئ ۔ اگر اولاد آپ کو ملی ہے تو جس طرح چند بچوں کو دنیاوی کاروبار میں ماہر بناتے ہو ان میں سے کم از کم ایک کو حافظ قرآن یا عالم دین بھی بناؤ یہ اولاد کی زکوٰۃ ہے ۔۔ وغیرہ
اسی طرح اگر تمہارے پاس مال ہے تو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو یہ مال کی زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کی بہت قسمیں ہیں جیسے چاندی سونے کی زکوٰۃ ، جانوروں کی زکوٰۃ ، زمینی پیداواروں کی زکوٰۃ وغیرہ وغیرہ ۔۔
صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ (مما رزقنھم ینفقون ) یہ آیت کریمہ جس طرح ظاہری نعمتوں کے خرچ کو شامل ہے اسی طرح باطنی نعمتوں کا خرچ بھی اس میں شامل ہے ۔ لہذا غنی اپنے مال سے خرچ کرے ۔ علماء اپنے علم سے خرچ کریں کہ لوگوں کو سیکھائیں بتائیں ۔ جاہدین اپنی جان خرچ کریں کہ حق تعالیٰ کی اطاعت میں کوتاہی نہ کریں ۔ اور عابدین اپنے دل کو خرچ کریں کہ اس کو دنیا کی گندگیوں کا گھوڑا نہ بنائیں دنیوی فکرو کو قلب میں نہ آنے دیں ۔ اور گھر کو یار کے لئے صاف رکھیں ۔ گندے گھر میں بادشاہ نہیں آتا اور دنیوی مصیبتوں سے دل کو اس طرح باہر رکھیں جیسے کشتی سے دریا کا پانی _

چند نکات پہ غور فرمائیں!!!

(۱) یہ قدرتی بات ہے کہ خرچ کرنے سے چیز پڑھتی ہے ۔ اگر عالم اپنا علم خرچ نہ کرے تو اس سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ اگر کنویں سے پانی خرچ نہ کیا جائے تو پانی گندہ ہو جائے گا ۔ اگر درختوں کی کچھ شاخیں نہ کاٹی جائیں تو ان میں آئندہ پھل کم آئیں گے ۔ اسی طرح اگر مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے تو اس مال کی ترقی رک جائے گی ۔

( ۲) قدرت نے ہر چیز سے زکوٰۃ لی ہے ۔ بیماری تندرستی کی زکوٰۃ ہے ۔ نیند بیداری کی زکوٰۃ ، تکلیف راحتوں کی زکوٰۃ ، کھیتوں میں کچھ غلے کا برباد ہو جانا اور پرندوں کا کھا جانا یہ پیداوار کی قدرتی زکوٰۃ ہے ۔
اگر اپنے مال سے زکوٰۃ نہیں نکالتے تو قانون قدرت کے خلاف کرتے ہیں ۔
(۳) اگر کسی کو کوئ چیز ضرورت سے زیادہ بچ جائے تو وہ اور جگہ بھی خرچ ہونی چاہیے ۔ کتے وغیرہ کے پستان میں اتنا ہی دودھ ہے جتنا اسکے بچے پی سکیں ۔ لیکن بھینس،گائے کو اس کے بچے کی ضرورت سے زیادہ دودھ دیا گیا ہے ۔ اس معلوم ہوا اس میں اوروں کا بھی حق ہے ۔ اگر قدرت نے آپ کو آپکی ضرورت سے زیادہ مال دیا ہے ۔ تو یقیناً اس میں فقراء و مساکین کا بھی حصہ ہے ۔
زائد چیزوں کا علیحدہ کرنا ہی ضروری ہے ۔ آپ نے بڑھے ہوئے ناخن اور بال ، لبیں وغیرہ علیحدہ ہونی چاہیئے ۔ اسی طرح پیٹ کا فضلہ بھی خارج ہونا چاہئیے کیونکہ اس کا رہنا بیماری ہے ۔ اس طرح زکوٰۃ کا پیسہ بھی علیحدہ ہونا چاہئیے کیونکہ۔ اس کا رہنا بیماری ہے ۔۔
(۴) جس طرح آپ کے مال سے حکومت ٹیکس لیتی ہے کہ بغیر ادا کئے آپ حکومت کے باغی قرار پاتے ہیں اور وہ یہ کہتی ہے کہ جب ہم تمہارے ہر طرح خدمت کرتے ہیں اور تمہاری آرام کے لئے ہر قسم کے محکمے بنا دئیے ہیں تو کیا ہمارا اتنا بھی حق نہیں کہ تمہارے مال سے ہم کچھ لیں ۔ اسی طرح جب رب تعالیٰ نے ہماری ہر قسم کی پرورش فرمائ ۔ ہمارے آرام کے لئے ہزاروں ملائکہ وغیرہ کے محکمے مقرر فرمائے تو کیا اس کا اتنا بھی حق نہیں کہ ہمارے مال میں سے کچھ طلب فرمائے ۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ یہ مال بھی اسی کا ہے اور ہم بھی اسی کے یہ اسکا کرم ہے کہ اس نے ہم کو مال دیا اور خود ہم سے لیکر ہم کو ثواب عطا فرما دیا ۔
انسان کی فطرت میں محبت ہے مگر بعض محبتیں مفید ہیں ، بعض بیکار ، بعض نقصان دہ ۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی محبت مفید ہے ۔ دنیا کی ہر چیزوں کی محبت بیکار ہے ۔ اور شیطانی چیزوں سے محبت نقصان دہ ہے ۔
اسلام نے پہلی محبت بڑھانے کے لیے عبادات رکھیں کہ جس کا چرچہ جس کی اطاعت زیادہ ہو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ آخری دو محبتیں گھٹانے کے لئے بہت سے ذریعے قائم کیے جیسے ۔ زیارت قبور کرو تاکہ دنیاوی محبت کم ہو وغیرہ ۔ انہیں اسباب میں سے ایک سبب زکوٰۃ و خیرات ہے کہ انسان اپنی کمائی اپنے ہاتھ سے اللہ کے نام پر دے تاکہ محبت مال دل میں نہ آ جائے ۔
زکوٰۃ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مال بربادی وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے ۔ اور اسمیں ہمیشہ برکت رہتی ہے ۔ زکوٰۃ دینے سے بظاہر جیب کھالی ہوتی ہے لیکن حقیقت میں بھرتی ہے ۔۔
زکوٰۃ کے متعلق کچھ اعتراضات اور انکے جوابات ۔۔
۱) اعتراض ۔۔۔ زکوٰۃ قوم کو ترقی سے روکتی ہے زکوٰۃ دینے سے غریبی آتی ہے اسی لئے مسلمان دوسرے قوموں سے زیادہ غریب ہیں ۔
جــواب ۔۔۔۔ زکوٰۃ قوم کی ترقی کا اصل راز ہے اگر صحیح معنی میں زکوٰۃ دی اور لی جائے تو قوم میں کوئ غریب نہیں رہ سکتا ہے ۔ مسلمان جب تک زکوٰۃ دیتے رہے بہت مالدار رہے جب سے زکوٰۃ دینے میں۔ کمی کی غریبی آئ ۔ اس وقت مسلمانوں کی غربت کی وجہ یہ ہے کہ یہ بیکاری پسند کرنے میں صدمہ بازیوں اور شادی بیاہ کی ناجائز رسموں اور عیاشیوں میں خود کو تباہ کرتے ہیں ۔ ایسی مثال کہیں نہیں مل سکتی کہ کوئ شخص زکوٰۃ دینے سے غریب ہو گیا ہو ۔۔۔
۲) اعتراض ۔۔۔ زکوٰۃ کے قانون سے مسلم قوم میں بیکاری اور بھیک مانگنے کی عادت پڑ گئ ہے کیونکہ جب انہیں معلوم ہے کہ زکوٰۃ کا پیسہ مالداروں سے مل جائے گا تو پھر وہ محنت کیوں کریں ؟
جـــواب ۔۔۔ یہ زکوٰۃ کی خرابی نہیں بلکہ زکوٰۃ کے غلط استعمال کی خرابی ہے اسلام نے جس طرح مالداروں کو زکوٰۃ دینے کی ترغیب دی ہے اسی طرح فقراء ، مساکین کو کما کر کھانے کا اور بھیک سے بچنے کا سخت حکم دیا جس کے متعلق قرآن پاک اور احادیث مبارکہ بکثرت موجود ہیں ۔ زکوٰۃ لینا تو سخت مجبوری کے وقت ہے ۔ اگر کوئ شخص کسی اچھی چیز اور غلط استعمال کرے تو یہ اس کے استعمال کی خرابی ہے نہ کہ اس چیز کی ، کوئ شخص ریل سے خود کشی کر لے تو اس سے ریل بری نہیں ہوگی اس کے یہ حرکت بری ہوئ ۔۔ اور اگر زکوٰۃ سے بیکاری بڑھتی ہے تو ہندؤں میں سادھو اور بھیکاری کی جماعتیں کیوں موجود ہیں ۔۔۔
۳) اعتراض ۔۔۔ رب کو راضی کرنے کے لئے صرف ایک نیک عمل کی ضرورت ہے صدہا قسم کے اعمال شریعت نے کیوں بتائے ؟
جـــواب ۔۔۔ جس طرح زندہ رہنے کے لئے ہزارہا چیزوں کی ضرورت ہے ۔ غذا، پانی، ہوا، لباس، مکان ، دوا، وغیرہ کہ ان کے بغیر زندگی ناممکن ہے اگر کوئ شخص کہے کہ زندگی کے لئے صرف ہوا کافی ہے ۔ غذا وغیرہ کی کیا ضرورت ہے وہ شخص دیوانہ ہی تو ہے ۔
اسی طرح دنیا میں انسان کا تعلق بہت سی چیزوں سے ہے اور ہر تعلق میں انسان صدہا گناہ کر لیتا ہے تو ضرورت تھی کہ ہر تعلق میں کوئ نہ کوئ عبادت بھی رکھی جائے تاکہ اس سے یہ چیزیں پاک ہوتی رہیں ۔ چونکہ انسان کا تعلق مال سے بھی ہے اور اس مال میں بہت سی بے احتیاطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ اس میں ایک مالی عبادت رکھی جائے ۔ اسی کا نام زکــوٰۃ ہے ۔۔۔۔۔