مذہبی مضامین

واسطہ رمضان کا یارب! ہمیں تو بخش دے

تحریر: محمد مجیب احمد فیضی بلرام پوری
خادم/دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور

رمضان المبارک کا عظیم مہینا ہمارے آپ کے سروں پر سایہ افگن ہے،ماہ رواں کا پہلا عشرہ چل رہا ہے جو حدیث مبارکہ کی رو سے رحمت کا ہے۔اس ماہ کی تقدس، رفعت وعظمت، رحمت ومغفرت، فضیلت واہمیت اور مہینوں سے ممتاز ومنفرد ہے۔حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان المعظم ہی سے اس ماہ کی آمد کا انتظار فرماتے اورآپ خود اور اپنے پیارے صحابہ کو اس ماہ مبارک میں عبادات کے لئے تیار فرمالیتے،جس سے بھی اس کے مہتم باالشان ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ یہی وہ بابرکت ماہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن نازل فرمایا،
اسی میں اللہ نے ایک رات ہمیں آپ کو ایسی بھی عطا کی ہے جس کی ایک رات ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔یہی وہ مقدس اور بابرکت ماہ ہے جس میں کثرت سے دعاء کرنے والوں کی دعائیں،
مانگنے والوں کی مرادیں،سچی توبہ کرنے والوں کی قبول توبہ کثرت کے ساتھ قبول کی جاتی ہیں۔اس کا ایک ایک لحظہ خیروبرکات میں ڈوبا ہوا ہے،
یہی وہ مقدس مہینہ ہے حدیث کے کہنے مطابق جس ماہ میں جنت کے دروزے کھول دئیے جاتے،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے،اور سارے شرکش شیاطین زنجیروں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔
اس کی ایک ایک گھڑی،ایک ایک لمحہ نورو رحمت سے پر ہے۔
اللہ رب العزت کی طرف سےیہ ماہ مبارک اس امت کے لئے ایک خاص انعام اور تحفہ ہے۔ جب ماہ رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔جو بھی بندۂ مومن اس بابرکت ماہ کی کسی بھی رات میں اللہ ک عبادت (نماز) کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے لئے ہرسجدے کے بدلے پندرہ سونیکیوں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے۔ پس جو کوئی اس ماہ مبارک کا روزہ رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں،اور اس کے لئے صبح وشام ستر۷۰/ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ (البیھقی فی شعب الایمان)

رب کامخلوق کی جانب نظر رحمت:

اور ایک روایت میں ہے کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو اللہ جل مجدہ الکریم خلق کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جب رب کسی بندے پر نظر کرم فرمائے تو اس کو کبھی بھی عذاب نہ دے گا اور وہ ہر روز جہنم سے دس لاکھ کو آزاد فرماتا ہے اور جب انتسویں رات آتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کئے ان کے مجموعے کے برابر اس ایک رات میں آزاد فرماتا ہے۔
پھر جب عیدالفطر کی رات آتی ہے ،
ملائکہ خوشی کرتے ہیں اللہ رب العزت اپنے نور پاک کی خاص تجلی فرماتا ہے۔اور فرشتوں سے کہتا ہے:
"اے فرشتوں کی جماعت!
اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کرلیا”؟
فرشتے عرض کرتے ہیں: باری تعالی!
"اس کو پورا پورا اجر دیا جائے”
"اللہ تبارک تعالی ارشاد فرماتا ہے:
"میں تم سب کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا”۔ جمع الجوامع ج/۱ شعر:
عصیاں سے کبھی ہم نے، کنارہ نہ کیا
پر تونے دل آزردہ، ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تجویز
لیکن تری رحمت نے گوارانہ کیا

  ماہ رمضان کی پانچ چیزیں :

حضور اکرم ،نورمجسم، سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میری امت کو ماہ رمضان المبارک میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سےقبل کسی نبی کو نہ ملیں:
۱ جب ماہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ جل مجدہ الکریم ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جس کی طرف رب نظر رحمت فرمائے وہ کبھی اس کو عذاب نہ دے گا۔/ ۲ شام کے وقت روزہ دار کے منہ کی بو اللہ رب العزت کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔ / ۳ فرشتے ان کے لئے ہردن رات دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ /۴ اللہ تعالی جنت کو حکم دیتا ہے:میرے نیک بندوں کے لئے مزین ہوجا!عنقریب وہ دنیا کی مشقت سےبری ہوکر میرے گھر اور کرم میں راحت وسکون پائیں گے۔ / ۵ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرمائے جارہے تھے،تب تک قوم کا ایک آدمی کھڑا ہوکر عرض کرنے لگا:
اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم وہ (آخری رات) کیا لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے۔ (شعب الایمان)
شعر:
بھائیو بہنو، گناہوں سے سبھی توبہ کرو!
خلد کے در کھل گئے ہیں داخلہ آسان ہے

رمضان کی ہرشب بھلائی کی رات ہے:

رمضان الکریم کی ہر رات آسمانوں میں صبح صادق تک اعلان کرنے والا ایک فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے:اے خیر طلب کرنے والے!
اپنا ارداہ پختہ کرلے اور خوش ہوجا،اور اے برائی کا ارداہ رکھنے والے! برائی سے تو باز آجا۔ ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا ! کہ اس کی مغفرت کی طلب پوری کی جائے۔ ہے کوئی توبہ کرنے والا!کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ہے کوئی دعا مانگنے والا !کی اس کی دعا قبول کی جائے۔ہے کوئی سائل !کہ اس کے سوال کو پورا کیا جائے۔اللہ رب العزت رمضان المبارک کی ہر شب میں ساٹھ ہزار گناہ گاروں کو دوزخ سے آزاد فرماتااور عید کے دن سارے مہینے کے برابر گنہ گاروں کی بخشش کی جاتی ہے۔حوالۂ سابق،ج/۳
شعر:
واسطہ رمضان کا یارب!ہمیں تو بخش دے
نیکیوں کا اپنے پلے کچھ نہیں سامان ہے

بےشک اللہ رب العزت نے رمضان کے روزے تم پر فرض کئے اور میں نےتمہارے لئے رمضان کے قیام کو سنت قرار دیا ہے،لہذا جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کی رات میں قیام کرے (تراویح پڑھے)وہ ایسے ہی ہے جیسے اس کو اس کی ماں جنا تھا یعنی اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ (نسائی،ص /۳۶۹)
شعر:
دوجہاں کی نعمتیں ملتی ہیں روزہ دار کو
جو نہیں رکھتا ہے روزہ وہ بڑا نادان ہے

ایک معبود کی بارگاہ میں اپنی جبین نیاز خم کرنے والے مسلمانوں! اس ماہ کا احترام اور قدرکرو،پابندی کے ساتھ ایک ماہ ماہ رواں کا روزہ رکھو،
شب مبارک میں تراویح کا اہتمام کرو، ہوسکے تو اپنے بھائیوں کے لئے افطاری کا انتظام وانصرام کرواور اگر ہوسکے تو غریبوں یتیموں،،،،،،،،،،بیواؤں ،،،،،،،،،،
لاچاروں،،،،،،،بےبسوں،،،حاجت مندوں کی دیکھ بھال کرکے ان کی ضرورتیں پوری کرو،ان کا مالی تعاون کرکے رب کی بارگاہ میں سرخروئی حاصل کریں۔
اپنے خالق ومالک کی بارگاہ میں اپنے چھوٹے بڑے تمام تر گناہوں کی صدق دل سے توبہ کرکے،
اس کے حضور رو رو کر نادم پشیمانی کے ساتھ معافی مانگو،تمہارا اپنے رب سے معافی مانگنا اس کو اتنا پسند آئےگا کہ اس کی دریائے رحمت جوش میں آئےگی اور وہ تمہاری مغفرت فرمادے گا۔

بےسبب بخش دے، نہ پوچھ عمل
نام غفار ہے، تیرا یارب