رمضان المبارک

فضائل و معمولات رمضان

ازقلم: ارم فاطمہ قادری امجدی بنت مولانا غلام جیلانی قادری، سیتامڑھی(بہار)

رمضان المبارک یہ اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے جسے اللہ عزوجل نے بےانتہابرکتوں،رحمتوں اور خوبیوں کاجامع بنایاہے اوربہت سےخصائص وامتیازات سےمشرف فرمایاہے۔اس کی ہر ساعت اور ہرلمحہ نعمت بھری ہے.اس مہینہ میں نفل کا ثواب فرض کےبرابر،اورفرض کا ثواب ستر گنا زیادہ کردیا جاتا ہے۔اس ماہ میں مرنے والا مومن سوالات قبرسے محفوظ رہتا ہے۔
رمضان المبارک سب سےافضل واشرف اور مقدس مہینہ ہے جیساکہ درج ذیل آیت قرآنی اور حدیث نبوی سےواضح ہوتاہے:
اس ماہ مبارک میں الله تعالیٰ نے قرآن پاک کونازل فرمایا جیساکہ قرآن مجید خودشاہدعدل ہے:” شھررمضان الّذی انزل فیہ القرآن ” (پ:۲،البقرہ،آیت:۱۸۵)
(ماہ رمضان وہ مہینہ ہےجس میں قرآن کانزول ہوا)
” اذا دخل رمضان فتحت ابواب السماء وغلقت ابواب جھنم وسلسلت الشیاطین "(مسلم، کتاب الصوم)
ترجمہ:جب رمضان کامہینہ آتاہےتوآسمان یعنی رحمت کےدروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کےدروازے بندکردیےجاتےہیں اور شیطانوں کو زنجیروں سےجکڑدیاجاتاہے۔
اور بخاری شریف کی ایک روایت میں آیاہے: ” اذا جاء رمضان فتحت ابواب الجنۃ "(بخاری، کتاب الصوم)
ترجمہ: جب رمضان کامہینہ آتاہےتو جنت کےدروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
” شھر رمضان شھراللہ وشھر شعبان شھری شعبان المطھّر ورمضان المکفّر "(کنزالعمال، ج:۸)
ترجمہ:ماہ رمضان الله کامہینہ ہے اور شعبان میرامہینہ ہے، ماہ شعبان(گناہوں سے) پاک کرنےوالاہے اور رمضان کامہینہ(گناہوں کو) ختم کرنے والاہے۔
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےارشادفرما: جنت ابتدائےسال سےآئندہ سال تک رمضان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے، جب رمضان کاپہلادن آتاہے توجنت کےپتوں سےعرش کےنیچے ایک ہوا حورعین پر چلتی ہے۔وہ کہتی ہے:اے رب! تو اپنےبندوں سے ہمارےلیےان کوشوہر بنا جن سےہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سےٹھنڈی ہوں۔(بیہقی)

معمولات رمضان
ماہ رمضان کے بابرکت مہینہ میں گناہوں سے توبہ کرکےبارگاہ رب العزت میں کثرت سے عبادات کریں، فرائض،سنن ونوافل کےساتھ تراویح کی پابندی کریں، قضائے عمری کا اہتمام کریں، نوافل کثرت سےپڑھیں، روزہ مکمل پابندی کے ساتھ مع شرائط رکھیں، تلاوت قرآن مجید خوب خوب کریں، درود و سلام میں اضافہ کریں، علمی مشاغل مزید بڑھالیں، جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی گلوج، لڑائی جھگڑا اور بُرائی وغیرہ سے اجتاب کریں،اپنےاہل وعیال پرخوب فراخ دلی سےخرچ کریں۔کیوں کہ حدیث شریف میں ہے: ماہ رمضان میں گھروالوں پرفراخ دلی سےخرچ کرو۔(جامع الصغیر، ص:۱٦٢)
امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: اس مہینہ کو خوش آمدید کہو جوہمیں پاک کرنے والاہے، پورا رمضان خیرہی خیرہے، دن کاروزہ ہو یا رات کا قیام، اس مہینہ میں خرچ کرناجہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتاہے۔(تنبیہ الغافلین، ص:۱٧٦)

ایک ضروری اپیل!
خواتین میں جو علم سے آراستہ ہوں انہیں چاہیےکہ ان تمام امورکے ساتھ ساتھ کم ازکم ہفتہ وار ایک مختصر محفل منعقد کریں اور اس میں فضائل رمضان، مسائل روزہ، نماز، زکوٰۃ اور دیگر ضروری مسائل بیان کریں۔ ساتھ ہی رمضان المبارک میں چند مقدس خواتین جیسے ۳/رمضان المبارک کو خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا، ۱۰/کو ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور ۱۷/کو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھن کےوصال کی تاریخ ہے۔ان دنوں میں ان کےنام سےفاتحہ اوردعا کی مجلس کاانعقادکریں اور اس میں خواتین کو ان کی حیات و سوانح، سیرت، علم، اخلاق، خوف خدا، محبت رسول اور دیگر معمولات زندگی سےروشناس کرائیں۔
الله تعالیٰ ہمیں اورجملہ خواتین کو رمضان المبارک کے برکات کےحصول اور مذکورہ معمولات پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یارب العٰلمین بجاہ النبی الامین افضل الصلات والتسلیم۔

بشکریہ: خانقاہ قادریہ راہ سلوک، قادری نگر، سوتیہاراٹولہ، سیتامڑھی(بہار)