سیاست و حالات حاضرہ

ایم۔آئی۔ایم۔ اور فرقہ پرست پارٹیاں

تحریر: طارق انور مصباحی

مجلس اتحاد المسلمین پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کے سبب فرقہ پرست قوتیں قوم ہنود کو متحد کر لیتی ہیں,حالاں کہ جب مجلس ملک بھر میں نہ مشہور تھی,نہ وہ اپنے امیدوار اپنی ریاست کے باہر نامزد کرتی تھی,تب بھی فرقہ پرست قوتیں قوم ہنود کو متحد کر کے سیاہ کارنامے انجام دے چکی تھیں۔

مجلس نے پہلی بار اکتوبر 2014 کے اسمبلی الیکشن میں اپنی ریاست سے باہر مہاراشٹر میں اپنے چند امیدوار نامزد کئے اور دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔جب کہ مئی 2014 میں مرکزی حکومت پر بی جے پی کا قبضہ ہو چکا تھا۔اس سے پہلے بھی کئی بار بی جے پی مرکز میں مسند اقتدار پر قابض ہو چکی تھی۔1999 سے 2004 تک مرکز میں بی جے پی کی حکومت رہی۔اس سے قبل بھی 1996 میں 13 دن اور 1998-1999میں 11 ماہ تک بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار رہی۔فرقہ پرست قوتوں نے متعصب ہنود کو ورغلا کر 06:دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کر دیا۔

مجلس اتحاد المسلمین کو چند سالوں سے شہرت حاصل ہوئی ہے۔فرقہ پرست قوتیں اس کی شہرت سے قبل بھی قوم ہنود کو متحد کرتی رہی ہیں۔ہاں,مجلس کو بھی اپنے اسلوب خطاب میں تبدیلی لانا لازم ہے,تاکہ لوگوں کو غلط فہمی نہ ہو,اور فرقہ پرستوں کو بھی کوئی موقع فراہم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے