نظم

یاد فتح مکہ

20 رمضان المبارک یومِ فتح مبین

ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی، مسقط عمان

ملت کے ماتھے کا سہرا ، فتحِ مکہ
اہلِ حق کا عزت نامہ ، فتحِ مکّہ

آؤ ہم سب، اُسکو جانیں، اسکوسمجھیں
اپنا ورثہ ، اپنا شجرہ ، فتح مکہ

"اِنّا فَتَحْنَا” کہکر رب نے بخشا یہ دن
مولیٰ کی نُصرت کا جلوہ ، فَتْحِ مکہ

مایوسی میں امیدوں کا تاباں چاند
بیداری کا زندہ نغمہ ، فتحِ مکہ

فاتح بن کر،مومن لوٹےشہرِحق میں
ہجرت کا لافانی بدلہ فتح مکہ

بُت ٹوٹےاورتکبیروں کے نعرے گونجے
تجدیدِ اَقدارِ کعبہ ، فتحِ مکہ

کیا راحت تھی کیا خوشیاں تھیں اہلِ حق میں
سَدِّ باطل ، حق کا اِجْرَا ، فتح مکہ

پھیلی جس سے،دینِ حق کی، خوشبو ہرسو
عظمت کا آفاقی تحفہ ، فَتْحِ مَکّہ

رَبطِ جماعت،حُسنِ قیادت، دونوں لازم
آقا کی حکمت کا ثَمرہ فتح مکہ

عفو وکرم نے،کانٹوں کوبھی، گُل کرڈالا
حق کی وسعت کا اک رَستہ ، فتح مکہ

یادیں اُسکی، جوش و ہمت اب محشر تک
لَوحِ جہاں پر نقشِ تازہ ، فتحِ مکہ

اِس کے پیچھے لاکھوں صدمے، صدہا پَھندے
تب لائی ہے اوج و غلبہ، فتح مکہ

صبر وتوکُّل، پَامَردی اور بیباکی
مومن کی رفعت کا خاکہ فتح مکہ

اپنی نسلوں کو بتلائیں اُس کی باتیں
تعمیرِ جرأت کا قِصّہ فتح مکہ

جیسے دل کا رشتہ تن سے، اور جیون سے
رکھتی ہے ہم سے وہ رِشتہ فتح مکہ

کوئ پوچھے، غلبےکا دن ؟ شوکت کا دن ؟
کہہ دے فریدی ! فتحِ مکہ ، فتحِ مکہ