سیاست و حالات حاضرہ

جامعہ اشرفیہ کے احاطے کے اندر بلڈوزر کا پہنچ جانا ہی انتہائی تشویشناک

جامعہ اشرفیہ اہل سنت کی شان ہے، اس کے خلاف یوپی حکومت کا یہ غیر منصفانہ عمل مسلم دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔

ازقلم: روشن رضا مصباحی ازہری

جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی حیثیت ہندوستان کی سرزمین پر ایک ایسے چشمہ صافی کی ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے تشنگان علوم اپنی علمی و فقہی و ادبی پیاس بجھاتے ہیں اور پھر یہاں سے نکل کر آفاق عالم میں منتشر ہوکر لوگوں کے اصلاح احوال کی کوششیں کرتے ہیں، آپ دنیا میں چاہے جہاں چلے جائیں ہر مقام پر آپ کو کوئی نہ کوئی دین کا سپاہی مصباحی ہیرے کی صورت میں ضرور مل جائے گا.
مگر ابھی چند دن پہلے اسی شہرستان علم و فن کے احاطے میں حکومت کی جانب سے، ان حکام و وزراء کے حکم سے بلڈوزر پہنچ گیا جو انتہائی تشویشناک اور حکومت کی تعلیم دشمنی کی واضح دلیل ہے.
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی حیثیت پوری دنیا میں کوئی چھپی ہوئی نہیں ہے، اس لیے حکومت یوپی کی ایسی جسارت کہ بغیر کسی انتباہ و نوٹس کے جامعہ کے احاطے میں بنی ہوئی تیس سالہ قدیم ٹیچرس فیملی کالونی کو مسمار کرنے کے لیے اپنے کارندے بھیجنا ایک دم گھناؤنی اور گری ہوئی حرکت ہے. کسی حال میں ہم اس کو برداشت نہیں کرسکتے.
جیسے ہی یہ خبر نکل کر ہندوستان و دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچی ہر ذی شعور انسان مضطرب ہوگیا اور ہر منصف پسند انسان دست بدنداں ہے کہ اس حکومت میں کیا ہو رہا ہے، کیوں کر رہی ہے یہ حکومت؟ کبھی مسلمانوں کے گھر پر بلڈوزر، کبھی ان کی مسجدوں پر بلڈوزر اور اب تو ان کی جسارت اور بڑھ گئی کہ ہندوستان کا سب سے عظیم ادارہ جو پوری دنیا میں اہل سنت و جماعت کی شناخت ہے اسی کے صحن میں موجود فیملی کالونی جہاں دو تین دہائیوں سے وہاں کے اساتذہ اس میں سکونت پذیر ہیں وہاں بلڈوزر لے کر پہنچ گئی. یقیناً یہ بہت افسوسناک ہے.
یہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور جو آج کئی دہائیوں سے دین اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور پوری دنیا میں اس کے فرزندان دین متین کی خدمات انجام دے رہے ہیں.
مگر حکومت اترپردیش کی نظر میں مدارس اسلامیہ ہمیشہ سے چبھ رہے ہیں اور انہیں ان مدارس اور ان کے پروردہ افراد سے بڑی تکلیف ہے، کبھی وہ اس کو دہشت گردی کا اڈا بتاتے ہیں، کبھی اس کو دہشت گردی کی تعلیم گاہ گردانتے ہیں اور اب تو ساری حدیں پار کر گئے کہ ہندوستان کی سرزمین موجود ایک ایسامذہبی ادارہ جو اپنے آپ میں ایک شہر ہے، یہ ایک مرد قلندر کی کامیابیوں کی جنت ہے، اس کو بام عروج تک پہنچانے کے لیے کیا کیا نہیں کیا انھوں نے. اپنا خون پسینہ بہا کر آپ نے اس کو ترقی کے اعلی مقام پر پہنچایا اور اسی دم یہ ادارہ اپنی بساط کے مطابق دین کی خدمت انجام دے رہا ہے. اسی ادارے کے احاطے میں حکومت نے بلڈوزر بھیجوا دیا تاکہ وہاں توڑ پھوڑ کی جائے.
یہ حکومت ہند اور اتر پردیش کے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ ایسے ایسے گھناؤنے اقدامات کئے جارہے ہیں جو قطعاً ہندوستان کے آئین و دستور کے مطابق نہیں ہیں ،آخر ان کی من مانی کب تک چلے گی، نہیں چلے گی، اگر یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان مدارس کا محافظ کوئی نہیں ہے تو بھول جائیں جس رسول کا گھر ان کو کہاجاتا ہے اسی رسول و حبیب کا پروردگار اس کی حفاظت فرمائے گا اور یہ چند دن حکومت پر بیٹھنے والے کچھ نہیں کرسکتے.
اور ساتھ ہی ہندوستان کے تمام تر ارباب خانقاہ و مدارس سے کہوں گا کہ سب لوگ بیک وقت متحد ہو کر اس کے خلاف آوازہ بلند کریں اور حکومت کی اس من مانی پر سوال کھڑے کریں،یہ نہ سمجھیں کہ یہ مبارک پور والوں کا کام ہے وہ کریں گے، نہیں نہیں. جب ہندوستان کے اتنے بڑے ادارے میں بلڈوزر پہنچ سکتا ہے تو دو دو روم کی عمارتوں کو زمین بوس کرنے میں کتنی دیر لگے گی.
اس لیے خدا کے لیے آگے آئیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ جامعہ ہماری شان ہے، اس کی ایک اینٹ بھی کوئی کھسکانے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا.کیوں کہ. ع

جو ابر یہاں سے اٹھا ہے وہ سارے جہاں پر برسا ہے
جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا

ان شاء اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے