اصلاح معاشرہ

خوشی کا سبب بنیں بےچینی کی وجہ نہیں!

ازقلم: کنیز حسین امجدؔی بنت مفتی عبد المالک مصباحی
٢١ ؍ اپریل ٢٠٢٢ء

کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں بھولانا آسان نہیں ہوتا انھیں میں سے ایک وقت وہ ہوتا ہے جب کسی بابا کی شہزادی تین طلاق کا بوجھ اٹھائے ہوئے اپنے ماں _ بابا کے پاس مایوس ہوکر آتی ہے_ یقیناً خون کے آنسو اس وقت بہتے ہیں جب ایک ماں اپنی ممتا کا گلا گھونٹ کر اپنے لخت جگر کو چھوڑ کر مجبوراً اپنے مائکے آجاتی ہے، روح تو اس وقت کانپ سی جاتی ہے جب ایک گھر ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا ایک ایک دانہ بکھر کر چور چور ہوجاتا ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ وہ لڑکیاں جو اپنے مائکے میں رہتی ہیں انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی، انھیں کتنا دکھ ہوتا ہوگا۔ جب اپنے بھائی بہن کے بچوں کو اپنی گود میں کھلاتی ہوں گی انہیں اپنے بچوں کی کتنی یاد آتی ہوگی ۔ ان کے گھر کو آباد دیکھ کر اپنے گھر کی کتنی کمی محسوس ہوتی ہوگی __آہ تکلیف سے ان کا کلیجہ پھٹ جاتا ہوگا؛ واقعی ایسی تکلیف ہوتی ہوگی انھیں جسے کما حقہ ہم محسوس کر ہی نہیں سکتے ۔

لیکن اتنا تو سوچیے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟
١کیا طلاق اس وجہ سے ہوئی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی نافرمان ہے؟ ٢کیا طلاق اس وجہ سے ہوئی ہے کہ ساس کو بہو پسند نہیں؟
٣__ کیا طلاق اس وجہ سے ہوئی ہے کہ وہ جہیز کے سامان سے گھر کو بھر نہیں پائی ؟

اللہ اکبر! اگر یہ بات ہے کہ طلاق شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے ہوئی ہے، تو آخر اسلام نے صلح کرکے زندگی کو خوشگوار بنانے کا طریقہ بھی تو بتایا ہے__ اسلام نے مردوں کو سنجیدگی کے ساتھ عورت سے بات چیت کرکے گھر کو آباد کرنے کا خوبصورت طریقہ بھی تو بتایا ہے۔ تو کیوں نہیں ایک مرد اپنے غصے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی زندگی کو آسان بنا لیتا ہے۔

2_____اگر طلاق ساس _ بہو کے درمیان نا اتفاقی اور نا پسندیدگی کی وجہ سے ہوئی ہے تو بڑے افسوس کی بات ہے ۔

ساس اور بہو کو ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کے لیے سب سے پہلے اپناپن، ممتا، اور پیار کی ضرورت ہے.
اگر ساس اپنی بہو کو بہو نہیں بلکہ بیٹی سمجھے، اسے اپنے گھر کی خوشحالی، گھر کی رونق سمجھے، اسے اپنی بیٹی کی طرح پیار دے تو آپ دیکھیں گی بہو آپ سے کتنی بھی متنفر ہو، آپ کو ماں کا درجہ بالکل نہیں دینا چاہتی ہو پھر بھی آپ سے ضرور متاثر ہوجائے گی۔ وہ بھی آپ کو ساس نہیں بلکہ ایک ماں کا مقام دے گی۔ پھر جہاں آپ کو اپنا گھر بہت تکلیف دہ معلوم ہوتا ہے وہی گھر خوشحال کا مرکز ہوجائے گا۔
(ان شاء اللہ عزوجل ضرور)
__

بہو اپنی ساس کو ساس نہیں بلکہ ایک ماں کا مقام دے. جب اپنےمائکے سے سسرال آئے تو وہ یہ سوچ کر آئے میرا گھر میری فیملی، میری خوشی، میرا غم سب کچھ یہیں ہیں. اپنے آپ کو ایک بناؤٹی دلہن نہیں بلکہ حقیقی دلہن بنا کر لائے۔ اپنی ماں کو چھوڑ کر آنے کا غم بے شک اس کے دل میں درد پیدا کر رہا ہو، اور آنکھوں میں آنسو لارہا ہو، لیکن اپنی ساس کو اپنی ماں مان لے، اپنےسسر کو اپنا بابا مان لے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے دل میں اچھا مقام اور اچھی جگہ دیں۔
تو حقیقت میں شادی کے بعد خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی۔ __

الغرض…… اسلام نے زندگی کے ہر موڑ میں آسانیاں ہی آسانیاں رکھی ہے. بس ضرورت ہے ہمیں ہر صحیح پہلو کو ڈھونڈنے اور قبول کرنے کی۔

اللہ رب العزت ہمیں اپنے بچپن سے ملی گھر سے دور کرتا ہے تو اس کا بدل سسرال کی صورت میں عطا فرماتا ہے۔
تو ضرورت ہے ساس _ بہو کو اپنا مزاج بدلنے کی اور زندگی کو خوش گوار بنانے کی۔

٣ __ اور اگر طلاق جہیز کی وجہ سے ہوئی ہے تو (نعوذبااللہ) والدین اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت دے کر شادی کی صورت میں خریداری کے لیے تیار کرتی ہیں. آج والدین اپنے بچوں کو شادی کے خوشگوار بندھن میں نہیں باندھ رہی ہیں بلکہ بیٹے کو جہیز اور سلامی کے نذر کر رہے ہیں۔ بیٹا کی تعلیم کے مطابق ڈیمانڈ کرتے ہیں. بیٹا انجینئر تو پانچ لاکھ، ڈاکٹر ہے تو دس لاکھ۔ (استغفراللہ) کیا والدین کے پیار کا رشتہ اتنا برا ہو چکا ہے؟ کیا والدین اپنی اولاد کو روپے اور پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں؟

افسوس ہے!!! سماج کا ماحول ایسا نا گفتہ بہ ہو گیا ہے کہ باپ اپنی شہزادی (بیٹی) کو اپنے اوقات کے مطابق جہیز وغیرہ دے کر رخصت کرتے ہیں پھر بھی سسرال والے اسے قبول کرنے کے بجائے بیٹے سے طلاق دلوا کر گھر بھیج دیتے ہیں۔
اللہ اکبر!!! کیا ہمیں بھائی چارگی کا درس نہیں دیا گیا ہے؟ کیا شادی میں ناجائز رسومات سے پرہیز کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے؟ کیا جہیز کے نام پر لڑکی کے گھر والوں کو تکلیف دینے سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ کیا کسی انسان کو اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع نہیں کیا گیا ہے؟
بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے؛ اللہ رب العزت فرماتا ہے :یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘.
ترجمہ :اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا(البقرہ ١٨٥)
مذہب اسلام میں جتنی نرمی ہے اور کسی مذہب میں اتنی نرمی نہیں پھر بھی مسلمان آج اس قدر پریشان کیوں ہے؟
کیا ایک مسلمان نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے؟ شاید نہیں کیا ہوگا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سماجی حالات کو درست کریں- اور بالخصوص نکاح کے بندھن کو مضبوط بنائیں اور اسے نبھانے کی کوشش کریں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے