خانوادۂ رضا منقبت

میں کرنے دل کو منور بریلی جا پہنچا

بفضل خالقِ اکبر بریلی جا پہنچا
میں کرنے دل کو منور بریلی جا پہنچا

جہاں بھی ذکر ہوا میرے اعلیٰ حضرت کا
پرندہ فکر کا اُڑکر بریلی جا پہنچا

شبیہِ مفتیٔ اعظم کا فیض لینے کو
کرم کی آس لگا کر بریلی جا پہنچا

میں اپنے محسن و مرشد کا دیکھنے روضہ
ادب کا سُرمہ لگاکر بریلی جا پہنچا

چمن شگفتہ رہے میرے اعلیٰ حضرت کا
دعائیں مانگتا اَحقر بریلی جا پہنچا

رضا کے مرقد انور کے واسطے اشرفؔ
لئے گلاب کی چادر بریلی جا پہنچا

نتیجۂ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادری
مدیر اعلیٰ سہ ماہی امین شریعت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے