تعلیم

علم پھیلائیں، دبائیں نہیں

آپ کے پاس کوئی آئیڈیا ہے تو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔۔۔ کیا معلوم اس آئیڈیا سے کتنے لوگوں کا بھلا ہوجائے۔۔۔
آپ کے پاس کوئی ہنر ہے تو ضروت مندوں کو سکھائیں۔۔۔ آپ کے ہنر سکھانے سے یقیناً بہت سے لوگ برسرِ روزگار ہوسکتے ہیں۔۔۔
آپ کو کسی بزنس یا کام میں تجربہ ہے اور اس کی مزید بہتری جانتے ہیں۔۔۔ آپ دوسروں سے شیئر کریں گے تو آپ کے تجربات سے کتنوں کو خیر ملے گی۔۔۔
آپ کے پاس علم ہے تو اسے تقسیم کریں۔۔۔ کیوں کہ علم کی زکوٰۃ اس کا منتقل کرنا ہے۔۔۔
علم کو سینے میں دفن کرنے سے اپنے ہی قلب و سینہ میں گھٹن ہوگی کیوں کہ علم کی مثال خوشبو کی ہے سات غلافوں میں بھی چھپا لیں تو خوشبو اپنا راستہ بنا لیتی ہے اور اگر خوشبو کو دفن کر دیا جائے تو اس کی توہین اور ناشکری ہوگی۔۔۔
علم اور آئیڈیاز پھیلانے اور شیئرنگ سے علم اور کام میں اضافہ ہی ہوگا خسارہ ممکن ہی نہیں۔۔۔ کیوں کہ ہر انسان اپنے مقدر اور نصیب کا ساتھ لے کر آتا ہے اور اپنا ہی نصیب کھاتا ہے ۔۔۔
تجربہ سے ثابت شدہ ہے جو دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے دوسروں کے لئے فکرمند رہتا ہے۔۔۔ قدرت اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے اور مخلوق کو اس کے لئے فکر مند کر دیتی ہے۔۔۔
دوسروں کے لئے آسانیاں اور خیر بانٹنے والے ہمیشہ کے لئے اَمر ہوجاتے ہیں وہ مر کر بھی سینوں اور عقیدت میں زندہ و جاوید رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ علم پھیلائیں اسے اہنے تک محدود نہ رکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے