نبی کریمﷺ

ذکر مصطفیٰﷺ کہاں نہیں؟

ازقلم: خلیل احمد فیضانی

ہو نہ یہ پُھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

ایسی کوئی جگہ نہیں,جہاں ذکر مصطفیٰﷺ نہیں….ایسا کوئی لمحہ نہیں,جس میں ذکر مصطفیٰﷺ نہیں… ہر سو ذکر مصطفیٰﷺ کی گونج گونج ہے…ہر وقت رفعت مصطفیٰﷺ کے تذکرے ہیں…بلبلیں ان کے ذکر میں زمزمہ خوانی کررہی ہیں…کلیاں ان کے ذکر کی حلاوت سے چٹخ رہی ہیں….مور و ملخ ان کی یاد میں رقصاں ہیں…وحوش و طیور ان کی آمد پر فرحاں ہیں….گویا ہر اک ذکر مصطفی…تذکرہ مصطفی….اور یاد مصطفی کے پربہار چمنستان کی فضاؤں سے لطف اندوز ہورہا ہے….تو پھر میں کیوں نہ کہوں…

سب سے اولی و اعلی ہمارا نبیﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبیﷺ

ان کے عروج کی کوئی حد نہیں ہے…جہاں عروج کی معراج ہوتی ہے وہاں سے مصطفیٰﷺ کی معراج شروع ہوتی ہے…-ذکر مصطفیٰﷺ کی رفعتیں قرآن نے بیان کیں…رخ انور کی قسمیں خود قرآن نے اٹھائیں…. زلف عنبریں کے پرنور تذکرے قرآن نے کیے…موج نور میں غوطہ زنی کرتی ان کی شب و روز کی ادائیں قرآن نے بیان کیں….اب بھلا ان کا ذکر پاک کیسے مٹایا جاسکتا ہے….
بقول امام عاشقاں:

مٹ گئے,مٹتے ہیں ,مٹ جائیں گے اعدا تیرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

ان کا چرچا آسمانوں میں ہے…ان کا ذکر خلد بریں کی بلندیوں پر ہے…ان کے چرچے,ان کا ذکر کہاں کہاں نہیں…
ڈاکٹر مسعود احمد مجددی نقش بندی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

ذکر مصطفیٰ (ﷺ)کہاں نہیں؟… کوئی جگہ نہیں، جہاں نہیں… اللہ اللہ … اُن کے کرم سے موجودات نے لباسِ وجود پہنا… اُن کا چرچا آسمانوں میں… اُن کا چرچا زمینوں میں… اُن کا چرچا سمندروں میں… اَنبیا و رُسل، فلک و ملک، جن و انس سب اُن کی آمد آمد کے منتظر… اُن کا نامِ نامی، بہارِ زندگی… اُن کا وجودِ گرامی، شبابِ زندگی… اُن کی راتیں، مغفرت کی برسات… اُن کے دن، رَحمت کی پھوار… اُن کا تبسم، طلوعِ فجر… اُن کا غم، غروبِ سحر… اُن کی عنایت، دلوں کی ٹھنڈک… اُن کا کرم، روحوں کی فرحت… اُن کا دیدار، آنکھوں کی روشنی… اُن کا کردار، انسانوں کی معراج… ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم)بڑی سعادت ہے… وہ دل، دل نہیں جو اُن کے لیے نہ سلگے… وہ آنکھ، آنکھ نہیں جو اُن کی یاد میں نہ برسے… وہ سینہ، سینہ نہیں جو اُن کی محبت میں نہ پھکے… وہ زباں، زباں نہیں جو اُن کی مدح و ثنا میں نہ کھلے… ہاں، رَگوں میں خون دوڑ رہا ہے… دل میں جذبات اُمنڈ رہے ہیں؛ دماغ میں خیالات پھوٗٹ رہے ہیں… زباں پر الفاظ مچل رہے ہیں… جسم میں ہلچل مچی ہے… پھر کیوں نہ اُس جانِ جاں(ﷺ) کا ذکر کریں!… ہاں ربّ العالمین خود اُن کا ذکر فرمارہا ہے… اللہ اللہ! وہ ذکر کی کن بلندیوں پر فائز ہیں… اس سے بڑھ کر بلندی اور کیا ہوگی کہ نامِ نامی؛ رب کریم کے حضور اس طرح سرفراز ہوا کہ ہر سرفرازی، اُس سرفرازی کے قدم چومنے لگی… ہمارا کیا منہ؟ ہماری کیا اَوقات، ہماری کیا بساط جو اُن کا ذکر کریں… عقل نہیں جو اُن کی بلندیوں کو پاسکے… دماغ نہیں جو اُس جوامع الکلم کی بات سمجھ سکے… آنکھ نہیں جو اُن کے جلوؤں کو دیکھ سکے… کیا کریں اور کیا نہ کریں؟… دل بے قرار ہے… آنکھیں اَشکبار ہیں… اللہ اللہ! مگر وہ تو غریب نواز ہیں، ہاں ؎

اک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید
صدقے ترے اے صورت سلطان مدینہ
(آمدِ بہار، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ٢٠٢٠،ص ٦-٧)

اللہ اللہ…ان کے ذکر کی برکتیں دیکھیے…
ان کے ذکر سے افکار نکھرنے لگے..کردار مہکنے لگے…زندگیاں دمکنے لگیں…صورتیں چمکنے لگیں…بہاروں میں بہار آگئی…دکھ کے مارے,مارے فرحت کے رقص کرنے لگے…غلاموں کو آزادی مل گئى… نہتوں کو آسرا مل گیا….یہ شان ہے ذکر مصطفیٰﷺ اور رفعت مصطفیٰﷺ کی….

بلغ العلی بکماله
کشف الدجی بجماله
حسنت جمیع خصاله
صلوا علیہ وآله

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے