اصلاح معاشرہ

نوجوانوں کی ذمہ داریاں

تحریر: شاہ نواز ازہری
سربراہ اعلی جامعہ حنفیہ رضویہ،مانک پور شریف کنڈہ پرتاپ گڑھ انڈیا

کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے بڑا ہاتھ نوجوان نسل یعنی طالب علموں کا ہوتا ہے۔ لفظ طالب علم یعنی ایسا شخص جو علم کا طالب ہو اور علم کا طالب شخص کوئی معمولی شخص نہیں ہوتا۔ جس طرح کسی بھی چیز کی طلب انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس چیز کو حاصل کرے اسی طرح علم کے طالب لوگ بھی علم کے معاملے میں بہت حساس ہو جاتے ہیں اور وہ علم کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہیں اور ہر مصیبت کو برداشت کرتے ہیں اور اسی علم کی بناء پر طالب علموں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جنہیں پورا کر کے وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس ملک کے نوجوان اپنا مثبت کردار ادا نہ کریں۔ آج کی نوجوان نسل کل کی قوم ہے اور ہماری نوجوان نسل ہمارے طلباء ہیں۔ طالب علمی کا مرحلہ زندگی کا اہم ترین مرحلہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں انسان جو بوئے گا کل کو وہی کاٹے گا۔ تعلیم سے طالب علم بنتا ہے۔ تعلیم طالب علموں میں حقیقت کی تعمیر ہے۔ تعلیم طالب علموں کو حقائق اور اعداد و شمار کو سمجھنے اور مسائل کو موجودہ حالات میں کیسے حل کیا جا سکتا ہے جاننے میں مدد دیتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ طلباء کی اولین ذمہ داری ایمانداری سے اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرنا ہے اور اس تعلیم سے سیکھ کر اپنی کردار سازی بھی کرنی ہے اور صحیح اور غلط میں تضاد کرنا بھی سیکھنا ہے تا کہ کل کو بہترین فیصلے لئے جا سکیں۔ تعلیم کا مقصد نہ صرف اُسے حاصل کرنا ہے بلکہ اس علم کو آگے بھی پہنچانا ہے اور علم کو آگے پہنچانے کا یہ سلسلہ انسان کو استاد کے مرتبے پر فائز کرتا ہے جو کسی بھی تعریف کا محتاج نہیں ہے۔ طلباء کے پاس علم کا ذخیرہ ضرور موجود ہوتا ہے لیکن ایک اچھے استاد کے بغیر وہ کبھی بھی اس علم کو صحیح معنوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔ جس طرح طلباء پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اسی طرح اساتذہ پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنا علم ایمانداری سے طالب علموں کو دیں۔ علم بانٹنے سے بھی کم نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ استاد کو چاہئے کہ طلباء کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کی کردار سازی بھی کریں۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے اندر علم حاصل کرنے کے شوق کو بڑھائیں۔ استاد اور طالب علم عمارت کے اُن دو ستونوں کی مانند ہیں جن کے بغیر عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ماں باپ بچے کی پرورش کرتے ہیں لیکن ان کی تعلیمی، تربیتی، سماجی اور روحانی تربیت اساتذہ کرتے ہیں۔
سائنسدانوں نے کائنات کی قدیم ترین کہکشاں دریافت کرلیآج کل طلباء غیر معمولی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں اور کھیلوں اور دوسری غیر نصابی سرگرمیوں کے میدان میں انٹرنیشنل لیول پر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں جس میں ان کی اور ان کے اساتذہ کی بہترین حکمت عملی نظر آتی ہے۔ بہت سے طلباء اپنی جیب سے بہت سے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ این جی او اورکھیل  میں بھی اکثر طلباء کا رجحان پایا جاتا ہے۔ آج کل ہم طلباء کو سیاست کے میدان میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ کھل کر عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں اور ان کے حل کے لئے بہترین تجاویز پیش کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ ان طلباء کی بھرپور رہنمائی کریں تو یہ طلباء کل کے بہترین رہنما بن سکتے ہیں۔ ملک میں چلنے والی مسابقاتی پرگرام وکمپٹیشن نیز صفائ مہم میں طلباء بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ وہ سڑکوں سے کوڑا اٹھانے اور درخت لگانے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے اساتذہ اور طالب علموں کے کاندھوں پر بہت اہم ذمہ داریاں عائد ہیں اور کسی بھی پیشے میں سب سے بڑی ذمہ داری اپنے کام کے ساتھ دیانتداری اور محبت پیدا کرنا ہے۔ اس لئے طالب علموں اور اساتذہ کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ علم سے آگاہی طلباء میں شعور پیدا کرے گی اور انہیں نہ صرف اچھا انسان بلکہ اچھا شہری بھی بنائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے