سماج و معاشرہ

عائشہ بہن کی خودکشی اور ہمارا معاشرہ

تحریر: معین الدین فیضانی، راجستھان

سوشل میڈیا کے توسط سے ایک نہایت ہی دردناک المناک ویڈیو وائرل ہوا جیسے دیکھ کر دل پارہ پارہ ہوا جاتا ہے ہے آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے احمد آباد کے رہنے والی عائشہ نامی لڑکی جس کی شادی جالور راجستھان میں عارف نامی شخص سے 2018 میں ہوی شادی کو سال چھ مہینے ہی گزرے تھے کہ جہیز کا مطالبہ شروع ہوگیا اور مسلسل ہوتا رہا یہاں تک کہ عارف نے عائشہ کو اس کےمینکے چھوڑ دیا عائشہ کا باپ جو کہ سلائی کرکے اپنے اہل خانہ کے دو وقت کی روٹی روزی کا انتظام کرتا ہے انہوں نے جیسے تیسے کر کے ڈیڑھ لاکھ روپے کا بندوبست کیا اور عارف کو دے دیا
آخر عیش عشرت کی زندگی بسر کرنے والے نوابوں کے لیے یہ رقم کب تک چلتی ختم ہوگئی اور پھر وہی مطالبہ شروع ہوا اور لڑکی کو اپنے مینکے چھوڑ کر بات چیت تک بند کر دی
بالآخر ایک دن خود لڑکی نے فون کرکے عارف سے بات کی تو اس نے کہا مرجا اور مرنے کا ویڈیو بنا کر مجھے بھیج دے پھرکیا تھا لڑکی اپنی ناقص العقلی کی وجہ سے جذبات کی آؤ میں بہہ گئی یہ وسیع وعریض دنیا اسکے لیے تنگ نظر آنے لگی انسانی معاشرہ سے اسے نفرت سی ہو گئی اور سابرمتی ندی ہی اس کی جائے پناہ مشفق و مہربان لگی اس لبالب بہتی ہوئی ندی کے اپنے آپ کو حوالے کرنے میں عافیت سمجھی
اس کے کنارے کھڑی ہو کر روح لرزانے والے دل دہلانے والا جگر کو پاش پاش کرنے والا ویڈیو جس میں کچھ یوں بیان کیا کہ آج میری زندگی ختم ہونے والی ہے میں اپنے اللہ سے ملو گی اور سب کچھ بیان کروں گی آخر مجھ سے ایسی کونسی غلطی ہوئی ماں باپ بھی اچھے ملے دوست بھی اچھے ملے پیارے ابو جان کیس اٹھا لیجئے اپنوں سے نہیں لڑا جاتا وغیرہ وغیرہ کہتے کہتے کہا اے پیاری ندی تو مجھے اپنے اندر سمالے پھر اس ندی میں چھلانگ لگا دی اللہ الامان والحفیظ
اس واقعہ کو سن کر مجھے سب سے بڑا افسوس یہ ہوا کہ وہ مسلمان تھے اس مذہب کے ماننے والے تھے جس مذہب نہیں لڑکی کا پیدا ہونا گھر میں رحمت اس کی پرورش میں برکت ہے وہ ماں بن جائے تو اس کے قدموں میں جنت رکھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بیٹیوں کی خود تعظیم ہی نہ کی بلکہ آپ نے تمام عالم اسلام کو اس کا درس دیا آپ کی سیرت سے یہ پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں بچیوں کو زندہ درگور ہوتے دیکھا تو حضرت فاطمہ الزّہرا رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے اور اہل مکہ سے مخاطب ہو کر کہا سنو اپنی بیٹیوں کو قتل نہ کرو یہ تمہارے گھر کی زینت اور رحمت ہوتی ہیں
لیکن افسوس کہ ہماری عوام پر اس کا ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا اور ان تعلیمات کو بھلا کر انہوں نے منحوس رسومات کو عام کردیا جس سے برائی کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں
اس جہیز کی لعنت میں اب تک نہ جانے کتنی عائشہاؤں کی جان لے لی اور ہر دن کہیں نہ کہیں بلا تفریق مذہب و ملّت دوشیزائیں جہیز کے بھسینٹ چڑھتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی یہ جہیز اتنا دیو ہیکل جن ہے کہ اس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اس کا کون ذمہ دار ہے ہمارے بے حس معاشرے کی حس کب پیدا ہوگی اس سیلاب بے اماں پر بند کون باندھےگا اس طوفان کا رخ کون موڑے گا غربت کی وجہ سے والدین کی چوکھٹ پر بوڑی ہونے والی دوشیزاؤں کو نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں منسلک کرنے کی تدبیریں کون پیدا کرے گا کوئی آسمان سے اترے گا یا زمین سے نکلے گا کیوں نہیں بنتی کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی جاتی جہیز طلبی بند کرو کی مہم کہاں گئے معززین قوم کہاں سو رہے ہیں سرمایہ دار اٹھو دوستوں اٹھو کمر باندھو اور جہیز کے اس جن کو جو ملوث دوشیزاؤں کا خون پی پی کر موٹا ہوگیا ہے بوتل میں بند کرو کیا ہے کوئی بہادر نوجوان جو یہ اعلان کرے کہ ہم بغیر جہیز کے شادی کریں گے
اس جہیز کی لعنت میں اب تک نہ جانے کتنی عائشہاؤں کی جان لے لی اور ہر دن کہیں نہ کہیں بلا تفریق مذہب و ملّت دوشیزائیں جہیز کے بھسینٹ چڑھتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی یہ جہیز اتنا دیو ہیکل جن ہے کہ اس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اس کا کون ذمہ دار ہے ہمارے بے حس معاشرے کی حس کب پیدا ہوگی اس سیلاب بے اماں پر بند کون باندھےگا اس طوفان کا رخ کون موڑے گا غربت کی وجہ سے والدین کی چوکھٹ پر بوڑی ہونے والی دوشیزاؤں کو نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں منسلک کرنے کی تدبیریں کون پیدا کرے گا کوئی آسمان سے اترے گا یا زمین سے نکلے گا
اللہ تبارک و تعالٰی سے دعا ہے کہ مولی تعالی ایسی نحوسات سے ہماری ملت کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button