سیاست و حالات حاضرہ

اودے پور کا واقعہ اور سوشل میڈیا

تحریر: شہاب حمزہ
8340349807

اودے پور کا واقعہ انتہائی شرمناک اور غیر انسانی فعل ہے ۔اسلام اور شریعت سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔یہ مکمل طور پر غیر انسانی اور غیر اسلامی واقعہ جس کی مذمت بحر طور لازمی ہے ۔ ریاض اور غوث نامی دو شخص نے ایک درزی کنہیا لال کا اس لیے قتل کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ڈال کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی نپور شرما کی حمایت کی اور اسی بات پر ان دونوں نے کنہیا کا قتل کیا اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کیا ۔ ان دونوں نے ایک دوسرے ویڈیو میں اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی اور اس کی وجہ بتائی۔
اول تو یہ کہ اسلام امن اور انصاف کا پیغام دیتا ہے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدس میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں کہ وہ اپنے اور اپنے لوگوں کے اوپر ظلم کرنے والے کو سزا دیں ہوں۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے بے شمار قیدیوں کو رہا کر امن اور انسانیت کا پیغام دیا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی نئے علاقے فتح کیے وہاں کے لوگوں کو امان دیا ہے ۔ طائف کا سفر یاد کریں ظالموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر اذیتیں دیں ۔شریر بچوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا انہیں پتھر مارے گئے ۔جوتے مبارک خون سے بھر گیا ۔ ان ظالموں نے کیا کچھ نہ کہا اور کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کے لیے نہیں ان کے نسلوں کے لیے بھی دعائے خیر کی ۔ کتنا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بوڑھی عورت روزانہ نبی کریم کے اوپر گزرتے ہوئے کوڑا ڈالا کرتی تھی ۔ جب ایک دن نہیں ڈالی تو آپ کو اس بات کی فکر ہوگئی کہ اس بوڑھی عورت کے ساتھ کیا ہو گیا ۔ آپ نے حالات دریافت کی وہ شدید بیمار تھی آپ نے اس کی عیادت کی ۔آج ہم آپ ہی کے امتی اور نام لیوا ہیں ۔ان کے نقش قدم پر چلنا ہمارا ایمانی تقاضہ ہے بلکہ یہی ایمان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف مسلمانوں کے لئے امن و انصاف لے کر آئے تھے بلکہ غیر مسلموں اور تمام مخلوق کے لئے رحمت بن کر آئے تھے ۔اس عظیم الشان سخصیت کے لیے نازیبا باتیں اور اس کی حمایت دونوں ناقابل قبول ہے ۔اور جب بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں تو پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس کی مذمت کی ہے ۔ کوئی ایسا مسلمان نہیں جسے صدمہ نہ ہوا ہو ۔لیکن جب اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سزا نہیں دی بلکہ ان کے لیے دعائیں کیں تو ان کے یہ کیسے نام لیوا ہیں جو غیر اسلامی اور غیر انسانی حرکت کر دے ۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ دونوں قانون کی گرفت میں ہے اور سخت سے سخت سزا کا حقدار ہے جو لازمی طور پر ملنی چاہئے ۔
خبروں کے مطابق کنہیا لال کے آٹھ سالہ بیٹے نے سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو اپلوڈ کیا ہے جس سے اس قدر ہنگامہ ہوا پوری ریاست میں 144 لگائی گئی کئی جگہوں پر کرفیو لگا دی گئی ہے ۔ عجب سا ماحول بن گیا ہے ایک اہم کام اور کیا گیا کہ انٹرنیٹ کی خدمات بند کر دی گئی تاکہ افواہوں کا بازار گرم نہ ہو۔ غور طلب بات ہے کہ جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے، کہیں ماحول خراب ہو ، کشیدگی اور تنازعات جیسی چیزیں دیکھنے کو ملے تو سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی خدمات بند کر دی جاتی ہے ۔ایسے حالات میں انٹرنیٹ بند کرنے کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ علاقے کے عوام سوشل میڈیا سے دور رہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے رابطے مکمل طور پر بند کر دیے جائیں ۔آخر اس کی وجہ کیا ہے یہ غور و فکر کا مقام ہے ۔ جہاں سوشل میڈیا کے بے شمار فائدے ہیں تو نقصانات بھی ہیں ۔انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جس سے بچوں کو دور رکھا گیا ہے ۔ کم عمر والوں کو بہت ساری چیزیں استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔مذکورہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل جس ویڈیو کے سبب پیش آیا ہے اسے ایک آٹھ سالہ بچے نے اپ لوڈ کیا ہے ۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ سوشل میڈیا سے بھی بچوں کو کم عمر والوں کو دور رکھنے کی کوشش کی جائے ؟ آئے دن ملک کے مختلف حصوں میں گاؤں، قصبوں اور شہروں میں غیر ضروری اور متنازعہ پوسٹ پر ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے پیچھے تحقیق کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر ایسے پوسٹ کرنے والے کم عمر کے بچے ہی ہوتے ہیں ۔جن کی نادانی ناسمجھ جذبات کے سبب سماج میں کئی واقعات رونما ہوتے ہیں ۔لہذا ملک کے موجودہ حالات میں یہ لازمی ہے کہ کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے جس طرح انہیں انٹرنیٹ کی بہت ساری چیزوں سے دور رکھا گیا ہے ۔نابالغ بچوں کو نہ سمجھی کی بنیاد پر ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا جا سکتا ہے اور جب ان کی عمر اس لائق ہو جاتی ہے کہ ان میں سمجھداری آجائے تب انہیں ووٹ کا حق دیا جاتا ہے ۔ کیا اسی طرح یہ ضروری نہیں کہ بچوں کو ایک مخصوص عمر تک سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے ؟ یا پھر بچوں کیلئے ایسے سوشل میڈیا کا انتظام ہو جہاں صرف تعلیم و تربیت کی بات ہو سکے۔ ہماری حکومت کو باقاعدہ قانون بنا کر بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کی کوشش ہونی چاہیے ۔ آج کے بچوں کے ذہن و دل پر ہی کل ملک کا انحصار ہے ۔ لہذا یہ ملک کے سنہرے مستقبل کے لئے بے حد ضروری ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے