مذہبی مضامین

لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہﷺ

ازقلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
نہالیہ جامع مسجد ، دکھن نارائن پور، کولکاتا۔136
رابطہ نمبر۔ 900712416

دنیا کا کون ایسا مسلمان ہے جو ہوش سنبھالنے کے بعدروضہ رسول پہ حاضری کی تمنا نہ رکھتا ہو یا زیارت حرمین شریفین کا خواہشمند نہ ہو۔چاہے معاشرے کا امیر ہو یا غریب،فقیر ہو یا مسکین،محتاج ہو یا لاچار، حاجت مند ہو یا دولتمند ، چاہے جس طبقہ سے تعلق رکھتا ہو اسکے دل میں روضہ رسول پر حاضری کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے۔حضور اکرم اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اقدس اور ریاض الجنہ کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ہر مسلمان خواہ اس کا ذاتی معاملہ کسی بھی مسلک سے ہو اور خواہ اس کے خیالات کچھ بھی ہو جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کو کسی حد تک قلمبند تو کیا جاسکتا ہے لیکن محسوس وہاں جا کر ہی کیا جا سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کا جن کا ایمان کمزور ہے وہ کیفیت اس بیان پر یقین نہ کریں لیکن حقیقت کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہوتی۔

جیسے ہی کوئی شخص ان کی حدود میں پہلا قدم رکھتا ہے تو وہیں سے اس کے قدم لرزنے لگتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور حضور اکرم ﷺ کے مزار کے سامنے جالیوں کے روبرو پہنچ کر آنکھوں سے آنسو کے قطرات جاری ہو جاتے ہیں اور ایک ایسی دیوانگی کا عالم ہو جاتا ہے جس میں انسان کو اپنی ہی خبر نہیں رہتی اور جب تک کوئی جسمانی یا کوئی طبی مجبوری نہ ہو تو کوئی بھی شخص وہاں سے باہر آنے کا اس وقت تک نام نہیں لیتا جب تک کہ سیکورٹی والے اس کو وہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کردیتے۔اسی طرح کی کیفیت طواف کعبہ کے وقت بھی طاری ہوجاتی ہے اور ہر حاجی ایسی صورتحال میں یہ محسوس کرنے اور کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بد نصیب ہے وہ جنہیں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب نہیں ہوئی ۔ حقیقتا وہ بد نصیب ہے جو وسائل ہونے کے باوجود بھی اپنے اس عظیم فریضہ کو ادا نہیں کرتے۔اب مدینہ منورہ کی چند مخصوص جگہوں کی فضیلت سماعت کیجئے۔

قبر مبارک :
یہ وہ مقدس ومطہر قبرانور ہے جسکے پاس بہتر ہزار فرشتے صبح کو حاضر ہوتے ہیں تو شام کو چلے جاتے ہیں۔ اور شام کو آتے ہیں تو صبح کو چلے جاتے ہیں۔ حق تو یہ ہے فرشتے تو فرشتے صبح سے رات تک عاشقوں اور دیوانوں کا لاکھوں کی تعداد میں اژدہام لگا رہتا ہے عقیدت مند اپنے اپنے انداز میں درود پاک، صلوة و سلام، بھیج رہا ہو تا ہے۔ دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں ،جسم لرزہ براندام ہوجاتا ہے،کانوں میں چاروں طرف صلوٰۃ و سلام اور آہ فغاں کی آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں، آنکھیں اشکبار ہوجایا کرتی ہیں،دنیا کی دیگر فکر و خیالات میں قفل لگ جاتا ہے،اور کیوں نہ ہو! جس کے ذہن و فکر میں مندرجہ احادیث مبارکہ گردش کر رہی ہو (1)” روۓ زمین میں مجھے اس ٹکڑے سے زیادہ کوئی ٹکڑا محبوب نہیں جس میں میری قبر ہوگی (مِشۡكوٰةۡ) (2) اے اللہ! مدینہ کو میرےلئےمحبوب بنا جیسے ہمکو مکہ محبوب ہے ،بلکہ اس سے بھی ذیادہ ( مِشۡكٰوةۡ ) (3) مدینہ کا گردوغبار جزام (کوڑھ ) کے لیےشفا ہے (زرقانی علی المواہب)( 4)قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،مدینے کی مٹی میں ہر بیماری کی شفا ہے ( وفاءالوفا ) تو ان ساری چیزوں کا علم رکھتے ہوئے ظاہر سی بات ہے کہ روضہ رسول پر حاضر ہونے کے بعد اس کی کیفیت ہی کچھ اور ہوا کرتی ہے اور اسی کی منظر کشائی کرتے ہوئے ا‌علیحضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔؀

تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جان منہ میں زبان نہیں بلکہ جسم میں جان نہیں

فقہاء کرام فرماتے ہیں،کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کا وہ حصہ جو جسم پاک سے ملاہوا ہے خانۂ کعبہ اور عرش اعظم سے بھی زیادہ افضل ہے ۔اور فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ مدینہ منورہ کی بستی سے افضل ہے اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ وہاں حج ھوتاہے اور ہر ایک عمل کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے اور اس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آباد کیااور اس کے لیے دعائیں کیں ،اور مدینہ منورہ میں ہر نیک عمل کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے اور اس کو حضور اکرم ﷺ نے آبا کیا اور اسکے لئے دعائیں کیں ۔حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مکہ مکرمہ ہجرت سے پہلے افضل تھا اب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ افضل ہوگیا اور اس کو حضور اکرم صلی ﷺ نے آباد کیا ۔اس لئے کہ مکہ مکرمہ میں فرش والوں کا حج ہوتا ہے اور مدینہ منورہ میں عرش والوں کا حج ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ ستر ہزار فرشتے صبح کو اور ستر ہزار فرشتے شام کو روضہ رسول ﷺپر حاضر ہوتے ہیں۔(مشکوتہ)

جسکے متعلق عاشق صادق اعلیحضرت قدس سرہٗ
فرماتے ہیں۔ طیبہ نہ سہی افضل مکّہ ہی بڑا زاہد: ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہیں۔

ریاض الجنہ :
ریاض الجنہ سے مراد وہ جگہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کی قبر شریف اور ممبر نبوی کے درمیان ہے اس جگہ کی فضیلت احادیث میں مذکور ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے گھر اور ممبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور الحمدللہ ناچیز کوفروری 2019 میں جب روضہ رسول پر حاضری کا شرف ملا تو بچشم خود میں نے درجنوں احادیث مبارکہ مع نقش و نگار سنہری جالیوں کے اوپر تحریر کیا ہوا دیکھا جس میں ایک حدیث پاک یہ بھی تھی ” ترجمہ :- میرے گھر اور اور میرے ممبر کے درمیان جو جگہ ہے،وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ یہ جنت کے باغ ہیں جسے جنت میں منتقل کر دیا جائے گا اور یہ دوسری زمین کی طرح نہیں جو ختم ہو کر فنا ہو جائے گی ۔

گنبد خضریٰ :
حجرہ شریف پردو گنبد تعمیر کیے گئے ہیں ایک تو بڑا گنبد سبز رنگ کا جو مسجد کی چھت پر واضح ہے ۔سب سے پہلے اسے شاہ منصور قلاوون صالحی نے ساتویں صدی کے آخر میں تعمیر کروایا۔886ھ کی آتشزدگی کے بعد اسے سلطان قاتیبائئ نے تعمیر کروایا۔پھر 1233ھ سلطان محمود عثمانی نے تعمیر کروایا۔گویا کہ گنبد خضریٰ کی موجودہ تعمیر کو تقریباً دو سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی مدینہ پاک سے محبت :
حضرت امام مالک کومدینہ پاک سے اس قدر عقیدت و محبت تھی کہ کبھی یہاں سے باہر جانا پسند نہ کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مدینہ شریف سے باہر جاؤں وہی مجھے موت آ جائے اور دیار محبوب میں دفن ہونے سے محروم ہوجاوں ۔آپ نے ساری عمر میں صرف ایک مرتبہ حج فرض ادا کرنے کے لیے مکہ شریف کا سفر کیا۔ اور باقی ساری عمر مدینے میں گزار دی، وہیں وفات ہوئی اور وہیں دفن ہوئے( جذب القلوب)
حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق:- حضور ﷺ کے وصال کے بعد ملک شام میں رہنے لگے ایک رات خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ فر ما رہے ہیں” اے بلال! یہ کیسی جفا ہے کہ میری زیارت کو نہیں آتا "اس پر محبوب کا زخم تازہ ہو گیا عشق رسول کا ایک طوفان سا دل میں بپا ہوگیا زیارت روضئہ رسول کے لئے آنکھیں بے تاب ہو گئیں حاضری کے لیے صبح سویرے ہی رخت سفر باندھا اور روضہ رسول پر پہنچا سلام عرض کرنے کے بعد قبر انور پر اپنے ہونٹوں کو رکھا تو جس تربت والے آقا کے سامنے کھڑے ہوکر اذان دیا کرتے تھے آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرات بہہ رہے تھے۔ ادھر نواسہ مصطفیٰ ﷺ کے پاس کچھ لوگ پہنچے اور آپ کی آمد کا علم دیا ۔ مدینے کے باشندے بھی خبر پاکر جوق در جوق حضرت بلال کے پاس آنے لگے – لوگوں کے خواہش کے مطابق نواسہ رسول نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے اذان دینے کی درخواست کی! حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی مقام پر کھڑے ہو کر درد کرب کی ڈوبی ہوئی آواز میں اذان دینا شروع کیاجس مقام پر محبوب کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے تو مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں کہرام مچ گیا۔ یہی وہ اذان کی آواز تھی کہ جب لوگوں کے کانوں میں پہنچا کر تی تھی تو مسجد نبوی میں پہنچ کر خدا کی عبادت اور نبی کی زیارت سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے تھے ۔آج اذان دینے والا حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تو ہیں ۔لیکن امامت کے فرائض انجام دینے والے آقا نہیں ہیں۔ جب اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی تو لوگ مدینے کی گلی کوچوں سے باہر نکل آئے ہر طرف سے آواز بلند ہونے لگی نبی کا مؤذن بلال آگیا ،بلال آگیا۔ ننھے منے بچوں نے کہا اذان دینے والے تو آگۓ جماعت کرانے والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کب آئینگے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان کے الفاظ ” اَشۡهَدُ اَنۡ لَّاِ لٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ” کہا اور پھر جب ” اَشۡهَدُ اَنَّ مُحَمَّدَالرَّسُوۡلَ اللّٰه ” کہا اور سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جلوہ افروز نہ پایا تو حضرت بلال کے آنکھیں اشکبار ہو گیئں ۔اس لئے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے جب یہ کلمات کہا کرتے تھے تو سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتے تھے ۔ اور آج جب اذان دیا تو اذان والا سامنے نظر نہ آیا تو دل پر چوٹ پڑی اذان کے اگلے کلمات نہ کہہ سکے اور نیچے اتر آئے۔ الحمدللہ ایسا تھا حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا عشق اور محبت جسکی مثال صبح قیامت تک کوئی لا نہیں سکتا۔
آج بھی روضہ رسول پہ حاضری دینے کے بعد قلب و جگر بے چین وبےقرار ہونےلگتا ہے جسم پہ کپکپی طاری ہو جاتی ہے پاؤں لڑ گھرانے لگتاہے ،ذہن وفکر میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے خوف و ہراس کا سما بندھ جاتا ہے پھر دھیرے دھیرے آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں ۔ مزید یہ صدا نکلنے لگتی ہے اگر زندگی ملے تو مدینے میں اور اگر موت بھی آئے تو مدینے میں اور زبان سے بے ساختہ جاری ہو نے لگتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔؀

تیری آرزو میں جینا ،تیری جستجو میں مرنا میری زندگی یہی ہے ، میری زندگی یہی ہے

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں

اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سبھوں کو روضہ رسول ﷺکی حاضری نصیب فرمائے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے