ذی الحجہ مذہبی مضامین

اسلام اور قربانی

ازقلم: محمد چاند رضا مصباحی
متعلم :درجۂ سابعہ ، جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
سکونت :بہرائچ شریف، یو۔پی۔

انسانی زندگی عقیدت و محبت اور پرستش و عبدیت سے عبارت ہے۔وہ اپنے انہیں جذبات کی تسکین اور رضائے الہی کے لیے طرح طرح کی جتن کرتا ہے۔ اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے ۔اسی انسانی فطرت کی تسکین اور حقیقت کے اعتراف کے طور پر مسلمانوں کو عید الاضحی عطا کی گئی جو فطرت کے عین مطابق ہے۔
قربانی کا سلسلہ ابتدائے آفرینش ہی سے رہا ہے، اور ہر مذہب میں اس کا تصور ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے طریقے اور جزئیات میں فرق رہا ہو۔ جس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں یوں بیان فرمایا گیا: وَ لِكُلِّ اُمَّةِِ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيْمِةِ الْاَنْعَامِ.(الحج:٣٤) "ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر کی تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو ان کو عطا فرمایا” ۔

کیوں کہ قربانی کی ابتدا تو حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے ہی میں ہوئی تھی کہ جب ہابیل وقابیل نے اپنے اپنے طور پر قربانی پیش کی تو اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرما لیا اسی کے متعلق اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: وَ اتْلُوْا عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ0 اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرَ. (المائدة:٢٧)
تاہم اسلام کے اندر اس قربانی میں جو سوز و ساز پیدا ہوا وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا عطیہ ہے۔ تاریخ کی اس عظیم قربانی کو اللہ تعالی نے قرآن میں اس طرح سے واضح فرمایا: اے میرے رب ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما تو ہم نے انہیں ایک حلیم بیٹے کی بشارت دی، پھر جب وہ ان کے ساتھ چلنے کے قابل ہو گیا تو فرمایا کہ: اے فرزند عزیز میں نے تمہیں خواب میں ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے تو تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ عرض کیا: اے والد محترم! آپ وہ کام کریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے انشاءاللہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے، پھر جب باپ بیٹے نے سر تسلیم خم کرلیا اور بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور ہم نے ندا دی اے ابراہیم یقیناً آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا ہم ایسے ہی صلہ دیتے ہیں نیکوکار کو، بے شک یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم ذبیحہ فدیہ میں دے کر بچا لیا۔(الصافات: ١۰١،١۰۰)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی محبوب ترین متاع کو ذبح کرنے کا حکم دیا مگر اللہ کو صرف ان کا امتحان مقصود تھا جس میں وہ کامیاب رہے۔ اللہ تعالی کو ان کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے اس سنت کو جاری فرما دیا۔ اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھا، آج ہمیں دنبہ یاد رہا لیکن گفتگو یاد نہ رہی۔ آخر ایسا کیوں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امت مسلمہ سنت ابراہیمی کو بحسن و خوبی انجام دینے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات اختیار کر لیتی ہے تو قربانی جیسی عظیم عبادت میں طرح طرح کی غلطیاں واقع ہوتی ہیں لیکن حد تو تب ہو جاتی ہے کہ جب مسئلۂ اضحیہ سے نا آشنا ہونے کے باوجود رہنمائی کرنے والے کی باتوں کو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ قربانی تو صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے اور سنت ابراہیمی کو بھول جاتے ہیں کہ قربانی کرنے کا اصل مقصد کیا ہے جو کہ رضائے الہی کا حصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان رضائے الہی کی خاطر اس موقع پر مخصوص جانور راہ خدا میں ذبح کرتے ہیں۔ جس کا ثبوت حدیث پاک میں ملتا ہے کہ "صحابہ کرام نے حضور کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، پھر پوچھا کہ اس میں ہمارے لئے کیا(فائدہ) ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی، عرض کیا کہ اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔

لہذا ہمیں قربانی جیسے فعلِ خاص کو نہایت ہی خوش دلی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ "قربانی کے دن ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، بروز قیامت قربانی کا جانور اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے (بارگاہ الہی)میں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے”۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ: "جو شخص خوش دلی کے ساتھ اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے قربانی کرے تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائے گا”۔
قربانی سے مسلمانوں کے اندر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے ہے جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کیا۔ قربانی کا اصل مقصد تو قرب الہی کا حصول ہے ۔ کیوں کہ مشرکین مکہ جب قربانی کرکے اس کا گوشت کھا جاتے اور خون کعبہ کی دیواروں پر یہ سمجھ کر مَل دیتے کہ ہماری قربانی قبول ہو گئی۔ تو اللہ تعالی نے اس باطل خیال کی تردید اور قربانی کی اصل روح بیان کرتے ہوئے فرمایا: لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ. (الحج:٣۷)

” اللہ تعالی کو ان جانوروں کا خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقوی اسے پہنچتا ہے”. دوسری جگہ ارشاد فرمایا: اللہ تو صرف ان کی قربانی قبول فرماتا ہے جو متقی ہیں۔(المائدة:۲۷)
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو قربانی کرنے کی تلقین فرمائی اور خود صاحب شریعت علیہ السلام نے سختی کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوں پر اپنی امت کو بھی اس کی تاکید فرمائی کہ "جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے”، کیوں کہ قربانی ہی سر چشمۂ قوت ہے۔
مولیٰ کریم ہم تمام مسلمانوں کو قربانی میں در پیش آنے والی تمام خرابیوں کا ازالہ کرنے اور سنت ابراہیمی کے عین مطابق قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے نیز شریعت طاہرہ پر کماحقہٗ ثابت قدم رکھے۔(آمین ثم آمین یارب الکریم بحق مولد النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ و سلم)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے