ذی الحجہ مذہبی مضامین

حج کی فضیلت، اجر و ثواب اور حج نہ کرنے پر وعید

ازقلم: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات: دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر(راجستھان)

حج اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم ترین رکن ہے جو زندگی میں ایک بار ہر اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو کہ بیت اللہ تک رسائی کی استطاعت رکھتا ہو حج کی فرضیت کے بعد خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جم غفیر کے ساتھ مدینہ طیبہ سے سفر کر کے اس اہم فریضے کو ادا فرمایا، اس مہتم بالشان عبادت کی ادائیگی پر شرع میں بے شمار اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، اور بغیر کسی عذر کے اسے ترک کرنے پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔
قابلِ مبارک باد اور خوش نصیب ہیں وہ سعید روحیں جنہیں اللہ عز و جل نے اپنے پاک گھر کی زیارت کا شرف بخشا اور ابر رحمت کی برستی ہوئی رم جھم بارشوں سے سیاہ کا ریوں کی جمی ہوئی پرت در پرت اور تہ بہ تہ کائیوں کو دھل کر کسی نو مولود کی طرح اپنے مقدس گھر سے واپس لوٹایا،اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] اور اللہ کے لیے لوگوں کے ذمہ خانۂ کعبہ کا حج کرنا هے ہر اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک رسائی کی استطاعت رکھتا ہو ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے :﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [البقرة: 196] اور تم حج اور عمرے کو مکمل کرو، اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے لھذا تم حج کیا کرو(مسلم شریف کتاب الحج) ایک مرتبہ آپ نے تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض فرمایا ہے، (نسائی شریف)۔
جمہورعلماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حج کا منکر کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ چونکہ حیات مستعار کے لمحوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے، اس لیے جس آدمی پرحج فرض ہواورظاہری کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اسے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں بالکل تاخیرنہیں کرنا چاهئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوشخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جلدی کرے ( ابو داؤد شریف)۔
اسی طرح ایک جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج کرنے میں جلدی کرو کیوں کہ کچھ نہیں معلوم کہ کیا امر پیش آجائے (کنزالعمال)

حج کی فضیلت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا،عرض کیاگیاکہ اس کے بعدکیاہے؟ فرمایا:اللہ کی راہ میں جہاد کرنا،عرض کیاگیا پھر کیاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حج مبرور”( یعنی وہ حج جس میں گناہ نہ کیے گیے ہوں اور ریاکاری نہ ہو)-[رواہ البخاری ومسلم]
نیز حضرت ابوہریرہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "جس نے اللہ کے لیے ٌحج کیا اور اس نے ایسی باتیں نہ کیں جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہیں اور گناہ نہ کیے تو یہ شخص اس طرح ہوگا جیسا اس دن بے گناہ تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا”
اور ایک حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "الحج المبرور لیس له جزاء الاالجنة” کہ حج مبرور کی جزا جنت ہی ہے-
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کو ادا کرو کیونکہ وہ دونوں تنگدستی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے”-[رواہ الترمزی]

حج کا اجر وثواب: اجر وثواب کے اعتبار سےحج کی عبادت اپنی ایک الگ ہی شان رکھتی ہے، چنانچہ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ دو صحابی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حج کے الگ الگ اعمال کا اجر وثواب پوچھنے کی غرض ونیت سے حاضر ہوئے -حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوال کرنے سے پہلے ہی ان کے سوالات دہرا دییے- اور پھر ہر ایک کاترتیب وار جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:
(1)جب کوئی حاجی اپنے گھر سے مسجدحرام کے ارادے سے چلتا ہے تو اس کی سواری کے ہر قدم پر ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک ایک غلطی معاف کی جاتی ہے-
(2)طواف کے بعد کی دورکعتوں کاثواب خاندان بنی اسماعیل کے کسی غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہے-
(3)اور جب حجاج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ رب العزت آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماکر فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرے بندے بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ دنیا کے کونے کونے سے میری جنت کی امید لگاکر میرے پاس آئے ہیں لہٰذا ان کے گناہ اگرچہ ریت کے ذرات، بارش کے قطرات اور سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں، پھر بھی میں انہیں بخش دوں گا، پس ائے میرے بندو! جاؤ بخشے بخشائے واپس چلے جاؤ تم بھی بخش دییے گیے، اور جس کے لیے تم نے بخشش کی سفارش کی ان کی بھی مغفرت کردی گئی-
(4)اور شیطان کو کنکری مارنے کاثواب یہ ہے کہ ہر کنکری کے بدلہ میں کسی بڑے گناہ کی مغفرت ہوتی ہے-
(5)اور قربانی کرنے کاثواب آخرت کے ذخیرہ میں جمع کردیا جاتا ہے-
(6)اور احرام کے بعد حلق کرایاجاتاہے تو حال یہ ہوتا ہے کہ ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے-اور ایک برائی مٹائی جاتی ہے-
(7)اور جب طواف زیارت کیا جاتا ہے تو حال یہ ہوتا ہے کہ حاجی گناہ سے بالکل پاک اور صاف ہوتا ہے، اور ایک فرشتہ اس کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہتا ہے: ” آئندہ کے لیے از سرنو اعمال کرو تمہارے گزشتہ سارے گناہ معاف کردییے گیے ہیں”-[الترغیب والترہیب ۲/۱۱۰]
اور ایک روایت میں ہے کہ حج کے سفر میں ایک روپیہ خرچ کرنے کاثواب دس لاکھ روپیہ خرچ کرنے کے برابر ہے-[کنزالعمال ۵/۵]
حاصل کلام یہ ہے کہ سفر حج میں قدم قدم پر اجر وثواب کے اسباب موجود ہیں-تلبیہ پڑھنا خود ایک ایساعمل ہے کہ آدمی بے اختیار ذکر خداوندی کے روحانی ماحول کے جھرمٹ میں آجاتا ہے اور فرشتوں کی طرف سے اس کو مبارک بادیاں ملنے لگتی ہیں،اس کے بعد بیت اللہ میں حاضر ہوکر دعا مانگنا قبولیت کا اہم موقع ہے نیز حرم شریف کی نیکیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ گنا کردیا ہے،پھر حجراسود کے استلام کی بھی عجیب خوبی رکھی رکھی گیی ہے کہ یہ قدرتی طور پر استلام کرنے والے کے گناہوں کو جزب کرلیتا ہے،حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رکن یمانی اور حجراسود کو چھونا غلطیوں کو مٹادیتا ہے-[ترمذی شریف]
اور یہ دونوں پتھر قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کی دو زبانیں، دو آنکھیں اوردو ہونٹ ہون گے اور یہ اپنے استلام کرنے والوں کے حق میں گواہی دیں گے اور سفارش کریں گے-[الترغیب والترہیب ۲/۱۲۴]
اسی طرح طواف کرنا بھی ایک انتہائی قابل اجر وثواب عمل ہے -ایک موقوف روایت میں نقل کیا گیا ہے کہ طواف کرنے والے کے ہر ہر قدم پر ستر ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں،اور ستر ہزار برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور ستر ہزار درجے بلند کیے جاتے ہیں- [الترغیب والترہیب ۲/۱۲۴]
علاوہ ازیں ایک خاص بات یہ ہے کہ حج کے ایام میں نہ صرف یہ کہ شطواف کرنا اور دیگر عبادات انجام دینا موجب ثواب ہے،بلکہ یہاں اگر کوئی شخص حرم شریف میں بیٹھ کر نیک نیتی کے ساتھ بیت اللہ کی صرف زیارت سے شرفیاب ہو تو وہ بھی ثواب سے محروم نہیں ہوگا-
الغرض سفرحج کا ہر ہر لمحہ نیکیوں کو سمیٹنے کازمانہ ہے -جوشخص اپنے کو اللہ کی خاص رحمت کا مستحق بنانا چاہتاہے اسے چاہییے کہ وہ اس موقعہ کو غنیمت جانے اور ایک ایک لمحہ کو کار آمد بنانے کی کوشش کرے، اور غفلت وکوتاہی کو پاس بھی نہ آنے دے،ایک ایسے موقعہ پر جبکہ رحمت خداوندی کی برسات ہورہی ہو، اس سے فیضیاب نہ ہونا اور سستی میں پڑ کر اوقات کو ضائع کردینا انتہائی محرومی کی بات ہوگی-
بالخصوص سفر حج کےدوران گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرنا انتہائی ضروری ہے،ایک روایت میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت وارد ہے کہ جو شخص حج کے دوران اپنے کانوں آنکھوں اور زبان کی گناہوں سےحفاظت کرے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے-

حجاج سے دعائیں کرائیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ حج کو آنے والے اور عمرہ ادا کرنے والے اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان ہوتے ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر وہ گناہوں کی مغفرت طلب کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی گناہوں کو بخش دے گا-

استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے پر وعید: حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کو ظاہری ضرورت (سفر خرچ اور سواری کاانتظام وغیرہ) یا ظالم بادشاہ (حکومت) یا مہلک مرض جیسی کوئی مجبوری نہ ہو اور وہ (حج کا نصاب ہونے کے باوجود) حج نہ کرے -تو اس کے لیے یہ بات برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر مرے-[رواہ الدارمی]
اللہ کی پناہ! کس قدر سخت وعید ہے استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے پر،اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں پر حج فرض ہو اور انہوں نے بغیر عذرشرعی کے حج نہیں کیا تو ان کے سوء خاتمہ کااندیشہ ہے-
اللّٰہ تعالیٰ ہم سبھی لوگوں کو زیارت حرمین طیبین کی توفیق عنایت فرمائے-(آمین]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے