ذی الحجہ مذہبی مضامین

قربانی کے احکام ومسائل

ازقلم: سید احمد حسین مصباحی
متعلم: جماعت فضیلت، الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی
موبائل نمبر : 9839062489

فصل لربك وانحر
(تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو)

اللہ تعالی کی عظمت و رفعت کے سامنے سر نیاز خم کر دیناہی شان بندگی ہے اور اس رب ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنی نیازمندی اور قربانی پیش کرنا ہی عبودیت کا سرمایہ ہے ۔
(حدیث)
قربانی کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر بال کے بدلے نیکی اور خون کے ہر قطرے پر ثواب ہے ۔
ابن ماجہ نے زید بن ارقم سے روایت کی کہ صحابہ نے عرض کی یارسول اللہﷺ بیقربانیاں کیا ہیں فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا ” ہر بال کے مقابل نیکی ہے
عرض کی اون کا کیا حکم ہے فرمایا’’اون کے ہر بال کے بدلے نیکی ہے ۔
( قربانی کی تعریف ) مخصوص جانور کوخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قر بانی ہے ۔
جوشخص ضروریات زندگی کے علاوہ ساڑھے باون تولہ ( ۲۵۳ گرام۱۸۴ ملی گرام چاندی یا ساڑھے سات تولہ (۹۳ گرام ۳۱۲ ملی گرام) سونا یا تنی قیمت کے روپیے یا سامان کا مالک ہوتو و پخص ما لک نصاب ہے اس پر قربانی واجب ہے ( فتاوی عالمگیری )
مسئلہ(۱) قربانی واجب ہونے کے شرائط (۱) اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں (۲)اقامت یعنی مقیم ہونا مسافر پر واجب نہیں (۳)
تو نگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں ما لک نصاب سے وہی مراد ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد ہیں جس سے زکوۃ واجب ہوتی ہے ( ۴ ) حربیت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہواس پر قربانی واجب نہیں ۔ ( بہار شریعت: حصہ پانزدہم )
مسئلہ (۲) قربانی کا وقت دسو میں ذوالحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دورا تیں ان کو ایام نحر
کہتے ہیں۔
مسئلہ (۳) قربانی کے جانورں کی عمر : اونٹ پانچ سال ، گاے دوسال ، بکرا، بکری ایک سال اس سے کم عمر ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو
جائز بلکہ افضل ہے ۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ بچا گرا تابڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔
مسئلہ(۴) جس شخص کے پاس کھیتی کی زمین اتنی ہے کہ اگر اس کو بیچ ڈالے تو نصاب سے کئی گنا زیادہ ہو جائے تو وہ شخص ما لک نصاب ہے اور اس پر قربانی وفطرہ واجب ہے ( فتاوی فیض الرسول ج۲ص۴۴۲)
مسئلہ (۵) قربانی کے شرکا میں سے ایک بد مذہب و بدعقیدہ ہے یا ان میں سے ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت حاصل کر نا ہے تو کسی کی قربانی نہ ہوگی ( بہار شریعت ج ۳ ح ۱۵ص۳۴۳)
مسئلہ (۵) جس پر قربانی واجب ہے وہ اپنے ہی نام سے قربانی کرواے اوراگر ماں ، باپ، بیوی یا گھر کے کسی مرحوم یا مرحومہ کے نام سے کرنا چاہے تو اس کے لیے الگ سے قربانی میں ایک اور حصہ لے لے مسئلہ (۲) دوآدمی مل کر ذبح کر رہے ہوں تو دونوں پر بسم اللہ کہنا
واجب ہے اگر ایک نے ابھی تھوڑے حصہ کو کاٹا تھا کہ مدد کے طور پر قصاب یا کسی اور نے چھری لے کر ذبح کرنا شروع کر دیا تو اس پر بھی بسم اللہ پڑھنا واجب ہے مگر اس خیال سے بسم اللہ چھوڑ دیا کہ جب ایک نے پڑھ لیا ہے تو مجھے پڑھنے کی کیا ضرورت؟ تو جانور حلال نہ ہوا۔
(درمختار ج ۹ص۵۵۱)
مسئلہ(۷) قربانی کا چھڑایا گوشت یا سری، پاے قصاب یا ذبح کرنے والے کواجرت میں دینا جائز نہیں سری یا پاے خود کھائیں یا کسی دوسرے کو بطور ہر میدے میں شرعا اس کا کوئی حقدار نہیں اور یہ جو ذبح کرنے والوں نے مشہوکر رکھا ہے کہ سر ہمارا حق ہے یہ غلط ہے قربانی
کرانے والے کو چاہیے کہ ذبح کرنے والے کو ذبح کرنے کی اجرت دے دے پھر سری ، گوڑی خواہ ذبح کرنے والے کو دے یا کسی اور کو دے دے ( فتاوی فیض الرسول ج۴۷۰۲ )
مسئلہ(۸) غیر مقلد، دیو بندی ، وہابی اور دیگر بد مذہب کی شرکت کے ساتھ قربانی کرنا جائز نہیں ( فتاوی فقیہ ملت ج ۲ ص ۲۴۹)
مسئلہ (۹) اوجھڑی کھا نامکروہ تحریمی ہے کیوں کہ یہ نہایت گندی اور گھناونی چیز ہے اس میں جانور کی غلاظت گوبر وغیرہ جمع رہتی ہے اسے پھینک دے ہاں کسی غیر مسلم کو دینے میں حرج نہیں ( فتاوی فیض الرسول ج ۲ص۴۳۲)
مسئلہ (۹) قربانی کے شرکا میں گوشت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل گوشت کے وزن سے سات حصہ کر کے ہر شر یک کو اس کا حصہ سپر دکر دیا جاے پھر ہر شر یک گوشت کا تین حصہ کرے ایک حصہ فقیروں کے لیے ،ایک حصہ دوست واحباب ،اعز و اقربا کے لیے اور ایک حصہ اپنے
گھر والوں کے لیے رکھے لیکن اس طرح سے تین حصے میں تقسیم کرنا اس کے لیے بہتر ہے ضروری نہیں یعنی اگر گھر کے افراد زیادہ ہوں تو پورا گوشت بھی رکھ سکتا ہے بعض جگہ جو یہ رائج ہے کہ گوشت کو حصہ داروں میں تقسیم کرنے سے پہلے اس میں فقیر اور سکین والا حصہ الگ کر دیتے ہیں اور اس حصہ کو امیر وغریب میں تقسیم کر دیتے ہیں مینا جائز ہے ہاں اگر وہ حصہ اس نیت سے الگ کر دیتے ہیں کہ وہ حصہ امیر اور غریب
سب میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر اسی طرح تقسیم کرتے ہیں تو یہ جائز ہے مگر بہتر نہیں (فتاوی فیض الرسول ج ۲ص ۴۶۸ )
مسئلہ(۱۰) ایک جانور کے سامنے دوسرے جانورکو ذبح کر نامنع ہے ، رات میں ذبح کر نامکروہ ہے ذبح کے وقت تین رگیں کا ٹنا اور ذبح سے
پہلے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے ۔
مسئلہ (۱۱) شہر میں قربانی کی جاے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہو چکے لہذ انمازعید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے اس لیے یہاں طلوع فجر کے بعد ہی سے قربانی ہوسکتی ہے ( بہار شریعت ج ۳ ح ۱۵)
چارقسم کے جانور کی قربانی جائز نہیں (۱) کانا ، جس کا کا نا پن ظاہر ہو(۲) لنگڑا، جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو( ۳ ) بیمار ، جس کی بیماری ظاہر ہو (۴) ایالاغر ( دبلا پتلا ) جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ اور ایسا عیب کہ جس کی وجہ سے جانور کے منفعت میں کمی ہو جاے تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں۔
قربانی کرنے کا طریقہ:
جانور ک و بائیں پہلو پراس طرح لٹائیں کہ قبلہ کواس کا منھ ہواورا پنا داہنا پاؤں اس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیا جاے اور ذبح سے پہلے یہ دعا پڑھی جاے۔
اني وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين قل ان صلاتی و نسکی و محیای
و مماتي لله رب العلمین لا شریک له و بذلک امرت و انا من المسلمين اللهم لک و منک بسم الله الله اکبر
اسے پڑھ کر ذبح کر دے قربانی اپنی طرف سے ہوتو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے
اللهم تقبل مني كما تقبلت من خلیلک ابراهیم علیه السلام و حبیبک محمد ﷺ
اور اگر دوسرے کی طرف سے قربانی ہوتو منی کی جگہ فلاں ابن فلاں کے یعنی جس کی طرف سے قربانی ہے اس کا اور اس کے والد کا نام لے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے