سماج و معاشرہ

فیشن کا بڑھتا چلن اور ہماری بے توجہی

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کسی زمانے میں پھٹا ہوا کپڑا پہننا غربت اور مفلسی کی نشانی مانا جاتا تھا۔لیکن آج پھٹے ہوئے کپڑے پہننا امیری اور ماڈرن ہونے کی نشانی بن گیا ہے۔ اتنے کم وقت میں انسانی سوچ میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟اس سوال کا جواب تلاشنے نکلیں گے تو آپ کے سامنے ایسا دفتر کھل جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انسانی سوچ بدلنے کے لیے باضابطہ ایک بڑی فیشن انڈسٹری کام کر رہی ہے۔موجودہ وقت میں اس انڈسٹری کی مالیت 2,97,091کروڑ روپے کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگلے پانچ سال میں یہ مالیت 7,48,398 کروڑ روپے کی ہوجائے گی۔
۱۹ ویں صدی تک عموماً ہر انسان اپنے کپڑوں کا انتخاب خود کرتا تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی دوست،بھائی یا گھر والوں کی فرمائش پر کچھ خاص کپڑے سلوائے جاتے تھے لیکن عموماً ہر انسان اپنے کپڑے اپنی پسند سے ہی پہنتا تھا۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان غیروں کی مرضی سے کپڑے پہنے گا لیکن ایسا ہوا۔بیسویں صدی یوروپ کی صدی ثابت ہوئی۔اہل یوروپ دنیا بھر پر قبضہ جماتے چلے گئے۔ انہیں لوگوں نے فیشن انڈسٹری کے نام پر لوگوں سے ان کی اپنی پسند کا حق چھین لیا۔ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے لوگوں سے بندوق کی نوک پر ان کا حق چھینا ہو؟ اس کام کے لیے انہوں نے نفسیاتی حربہ اختیار کیا۔ٹی وی ،سنیما، میڈیا اور ماڈلوں کے ذریعےعوام میں رائج کپڑوں کو دیہاتی، گنوار اور غیر مہذب دکھایا جانے لگا۔مسلسل پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگ بھی یہ ماننے لگے کہ جو کپڑے وہ لوگ پہنتے ہیں وہ نہایت پرانے اور پچھڑے ہوے زمانے کے ہیں۔اگر مہذب اور تعلیم یافتہ نظر آنا ہے تو اسٹائلش اور برانڈیڈ کپڑے پہننا ہوں گے۔

فیشن انڈسٹری کے ہتھ کنڈے

لوگوں کی عقل پر قبضہ جمانے کے لیے فیشن انڈسٹری نے بڑی زبردست منصوبہ بندی کی۔
1؍اچھے ڈزائنروں کو جمع کیا گیا اور انہیں یوروپین سوچ کے مطابق کپڑے ڈزائن کرنے کا ہدف دیا گیا۔
2؍دوسرے مرحلے میں اچھی قد کاٹھی اور ٹھیک ٹھاک شکل وصورت والے لڑکے، لڑکیوں کو ماڈل بنایا گیا۔
3؍دنیا کے مختلف شہروں میں فیشن شو اور کیٹ واک (Cat walk) کے نام پر ماڈلوں سے ان کپڑوں کی نمائش کرائی گئی۔
4؍زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ٹی وی اور میڈیا کا سہارا لیا گیا۔جس سے فیشن انڈسٹری کا چرچا ہر گھر پہنچا۔
5؍اپنے دائرے کو اور بڑھانے کے لیے لوگوں میں مقبول فلمی اداکار اور اداکاراؤں سے کپڑوں کی تشہیر کرائی گئی۔
6؍مختلف کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں سے بھی اشتہاری مزدور کا کام لیا گیا۔
7؍بڑے اور نامور قلم کاروں سے فیشن کی اہمیت اور افادیت پر لگاتار مضامین لکھوائے گئے۔

عام آدمی کی سوچ پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دو سبب کافی تھے لیکن فیشن انڈسٹری نے کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا جسے استعمال نہیں کیا۔اس طرح آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ پر ملٹی نیشنل کمپنیاں غالب آتی گئیں۔اس طرح انسانوں سے ان کی پسند کا حق چھین لیا گیا۔اب کسے کیا اچھا لگتا ہے یہ وہ نہیں بلکہ ایک ماڈل، ایکٹر، کھلاڑی اور اداکارائیں طے کرتی ہیں جو کسی نہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتہاری مزدور ہوتے ہیں۔کمپنیاں پہلے ان مزدوروں کو پیسہ دے کر لوگوں کو رجھاتی ہیں ۔اس کے بعد اپنے تیار شدہ مال کو اونچے داموں پر بیچ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔دو ہزار روپے میں اچھے کپڑے پہننے والا انسان فیشن کے نام پر دس ہزار کے کپڑے پہننے لگتا ہے وہ بھی پھٹے ہوئے! طرفہ تماشا یہ کہ اسے اپنے اسمارٹ ہونے کا خمار بھی ہوتا ہے۔

فیشن کمپنیوں کی چالاکی

فیشن انڈسٹری کا کھیل صرف کپڑوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انہیں کپڑوں کے ساتھ اپنے دوسرے مال کو بھی بیچنا ہوتا ہے اس لیے نہایت ہوشیاری کے ساتھ کپڑوں میں ایسے ڈزائن بنائے جاتے ہیں جن سے دوسرا مال بھی بیچا جاسکے۔مثلاً فیشن انڈسٹری لڑکیوں کے لیے بغیر آستین کے (Sleeve Less) کپڑے تیار کرتی ہے توکھلے بازوؤں کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے کسی کریم یا پاؤڈر کا اشتہار بھی جاری کرتی ہے۔اس طرح ایک مال کے ساتھ دوسرا مال بھی بیچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔اسی طرح لڑکوں کو کھلے بازو کے کپڑے کی جانب رغبت دلانے کے لیے ایسا اشتہار تیار کیا جاتا ہے جس میں کسی ماڈل/ایکٹر کے ہاتھ میں بریس لیٹ دکھایا جاتا ہے۔اب اپنی عقل کھو چکا نوجوان وہ کپڑا بھی خریدتا ہے اور ساتھ میں بریس لیٹ بھی، تاکہ فیشن ادھورا نہ رہ جائے۔یعنی کمپنیاں پہلے آپ کی نگاہ میں اپنے سامان کو پسندیدہ بناتی ہیں اور اسی کے آڑ میں دوسرے سامان بھی منہ مانگے داموں پر بیچ بھرپور منافع کماتی ہیں۔فیشن کی رنگینی میں ہوش وحواس کھوچکے لوگ کمپنیوں پر اپنی کمائی لٹاتے چلے جاتے ہیں۔

اسلامی نظریہ

انسان کے علاوہ دنیا میں جتنی بھی مخلوق ہے ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ قدرت نے انہیں ایسا جسم دیا ہے جسے کپڑے پہننے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔پوری کائنات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جسے ایسا جسم دیا گیا جسے چھپانے اور ڈھکنے کی ضرورت پڑتی ہے۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب پائے جاتے ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسان فطری طور پر ننگا نہیں رہ سکتا۔اسے کسی نہ کسی طور پر اپنے بدن کو کپڑے سے ڈھکنا ہی ہے۔اب کتنا بدن ڈھکنا ہے اس پر سب کی رائے الگ الگ ہوجاتی ہے۔اسلامی نظریے کے مطابق جسم کےچند اہم حصوں کو چھوڑ کر پورا بدن ڈھکنا ضروری ہے۔ قرآن میں ہے:
يَـٰبَنِىٓ آدَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسً۬ا يُوَٲرِى سَوۡءَٲتِكُمۡ وَرِيشً۬ا‌ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٲلِكَ خَيۡرٌ۬‌ۚ ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ(سورہ اعراف: ۲۶)

اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اورتمہارے لیے زینت بھی ہو۔اور ( ساتھ ہی باطنی لباس تقویٰ بھی اتارا،اور) تقوٰی کا لباس ہی سب سےبہتر ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

اسلامی نظریے کے مطابق لباس کا بنیادی مقصد بدن چھپانا اوراس کے ساتھ زینت حاصل کرنا ہے۔زینت حاصل کرنا عیب وگناہ نہیں ہے جب تک انسانی بدن چھپا رہے۔محض زینت کے لیے جسم دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔مرد کے لیے ناف سے گھٹنوں تک بدن چھپانا اور ڈھکنا فرض ہے جبکہ عورت کے لیے ہتھیلی،چہرہ اور پاؤں چھوڑ کر سارا بدن ڈھکنا ضروری ہے لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ بات نوٹ کیے جانے لائق ہے کہ مردوں کے لباس کے بارے میں دوسرے اہل مذاہب بھی اسلامی نظریے کے آس پاس ہی رہتے ہیں لیکن عورت کے معاملے میں ان کا نظریہ ایک دم خلاف ہے۔وہ لوگ عورت کے جسم کے خاص حصوں کو نمایاں طور پر دکھانا اور ننگا رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ایسے ایسے فیشن ایبل کپڑے تیار کیے جاتے ہیں جس سے عورت کا جسم زیادہ سے زیادہ نظر آئے۔پہلے بغیر آستین (Sleeve Less) کپڑوں کو عام کیا گیا۔اس کے بعد ٹاپ (Tops) کے نام پر ٹانگوں کا کپڑا ختم کیا ۔ بیک لیس (Back Less) کے نام پر کمر کا کپڑا غائب کیا گیا اور سوئنمگ پول (Swimming Pool) کے نام پر انہیں بِکنی پہنا کر تقریباً پورا لباس چھین لیا گیا۔ان سب حرکات کے پیچھے ان کے تجارتی مفاد اور جنسی ہوس کار فرما ہے۔

بچاؤکا راستہ

فیشن انڈسٹری کی سالانہ مالیت دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے اس لیے اس کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہے۔لیکن ارادے پکے اور نیت سچی ہو تو تائید غیبی حاصل ہوتی ہے۔اپنے معاشرے کو بے لگام فیشن سے بچانے کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
1؍ہر شخص اپنے گھر میں اسلامی لباس رائج کرے۔
2؍علما ے کرام اس موضوع پر عقلی اور سائنٹفک انداز میں خطاب کے ذریعے رغبت دلائیں۔
3؍مسلم صنعت کار اس فیلڈ میں انویسٹ مینٹ کریں اور اچھے ڈزائنر کے ذریعے ملبوسات تیار کرائیں۔
4؍غیر شرعی طریقوں سے بچتے ہوئے تشہیری مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔
5؍کوالٹی اور قیمت کا خصوصی دھیان رکھیں۔

ضرورت ہے کہ مسلم صنعت کار اس طرف توجہ دیں تاکہ مسلم مرد و خواتین اغیار کے بے ہودہ لباسوں سے محفوظ رہیں۔ شروعات میں صرف مقامی علاقے پر فوکس کیا جائے، کامیابی ملنے پر دائرہ بڑھایا جائے۔خلوص نیت اور تاجرانہ مہارت کے ساتھ کام کیا جائے تو ان شاء اللہ کامیابی یقینی ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button