مذہبی مضامین

ایک ہی تھالی کے چٹے، بٹے ہیں

چلیں ہم ایک وقت کے لئے مان بھی لیتے ہیں، اور فرض کرلیتے ہیں، کہ طارق مسعود جی، اندھے شیخ جی (جن کی پیروی سے علامہ تاج الشریعہ نے ہمیں منع فرمایا ہے) نے رجوع اور توبہ کر بھی لیا۔
پہلی بات کیا انہوں نے توبہ کیا اور توبہ کے شرائط کے ساتھ اقبال جرم بھی کیا ؟؟
دوسری بات اگر انہوں نے توبہ بھی کرلیا اور اقبالِ جرم بھی کیا شرائط توبہ کے ساتھ پھر بھی کیا وہ اپنے باطل مذھب دیوبندیت، وہابیت، اہل حدیثیت، یا جو بھی اس سے بھی راجع الی الحق ہوئے؟؟ جواب ہوگا ہرگز نہیں!!!

تیسری بات چلیں ان کو اس بناء پر فقط گمراہ ہی کہا جاتا کہ ایک گمراہ و ضلالت بھرے مذہب کے نادانستہ طور پر پیرو ہیں، مگر ایک منٹ آپ بخوبی جان لیں اور گانٹھ باندھ لیں یہ تمام خبیث اور کفری عبارات کو جانتے ہوئے، ان پر مطلع ہوتے ہوئے بھی اس منھج کے پیرو ہیں ان کے متعلق علماء حق نے یک زبان ہو کر فرمایا "من شک فی کفرہ وعذابہ فقدان کفر” تو کیا رائے ہے؟؟

ارے بس اتنا ہی نہیں اکابرین کے عقائد کی تاویلات بھی بحسن و خوبی کرتے ہوں، اس کا کیا کریں گے؟؟

اگر ان کو کافر نہ مانا جائے تو منافق تو ہیں ہی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں، اگر آپ کو علم ہے تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ منافق کی نماز جنازہ، دعائے استغفار، ان کے قبر پر کھڑے تک ہونے سے رب قدیر نے منع فرما دیا تھا۔تو اصل مدعی یہ ہے کہ اگر نبی کو منع تھا، صحابہ کو منع تھا، پوری امت کو منع تھا، لیکن ایک قوم تھی جن کے لئے سب جائز تھا ہے اور رہے گا۔

اسی قوم کی ذریت سے دو لوگوں کو پیش کرتا ہوں ملاحظہ ہو ایک جناب "ناصر رامپوری” تھانوی صاحب کے بھگت دوسرے "ذیشان مکسبائی” انہیں کے ہم پیالہ و ہم نوالہ، یہ دونوں حضرات اپنی گوں نگوں کارستانیوں کی وجہ سے ہائی لائٹ رہتے ہی ہیں، آج میں ہائی لائٹ کردوں ان کی اس جدید کارگزاری پر کہ ایک حضرت "مولانا طارق مسعود” کے لئے دعا گو ہیں ذیل میں ملاحظہ ہوں ان کے الفاظ کچھ یوں ہیں، "اللہ کریم مفتی طارق مسعود کی مغفرت فرمائے”۔
دوسرے حضرت نے تو "جزاہ اللہ احسن الجزاء” جیسے بالخیر دعاء سے نوازا۔
کیا منافق کے لئے دعا کرنا درست ہے؟ اگر ہے تو ثابت کریں نہیں تو رجوع کریں مگر آپ سے کاہے کی امید اور کیسی توقع ؟؟ پھر سے کوئی تاویلِ فاسد پیش کردیا تو فبہا ورنہ وہ بھی نہیں قوم ہوشیار خبردار !!!

اگر کافر ہیں مفتی طارق جی تب تو ان کا بیڑا غرق ہونے سے کوئی نہ بچا پائے گا، میں تو کہتا ہوں ابھی وقت ہے۔

آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
کل نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

مزید ان دونوں صاحبان پر کیا حکم عائد ہوگا وہ ذی علم و فہم پر چھوڑتا ہوں، علماء اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ بہر حال یہ دونوں اہلِ سنت کے لبادہ میں ایسے نقب زن ہیں کہ ایمان کی ڈاکہ زنی کرتے اور مسلوب کرجاتے ہیں ایمان کو کہ شعور تک نہیں ہوتا، اللہ بچائے ایسے چوروں سے مولی کریم تادمِ زیست حق پر قائم و دائم اور اسی پر خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین۔

ازقلم: محمد اختر رضا امجدی

متعلم جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو یوپی الھند

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے