ازقلم: پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com., Ph.D (Osm)
قرآن مجید کے مطابق یہود وہ قوم ہے جس نے خودخواہی اور خودپرستی میں اس قدر عرق ہوچکی تھی جس کے سبب وہ نہ صرف نسلی برتری کا شکار تھی بلکہ کجریوں اور سنگین گناہوں کا ارتکاب کرنے کے باوجود یہ زعم باطل تھا کہ اسے جزا و سزا کے کلی و عمومی قانون سے استثناء بھی حاصل ہے۔ قرآن مجید نے بغیر عہدِ خدا وندی کے یہود کے ان باطل عقائد اور من گھڑت باتوں کا قلعہ قمع کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی نجات کا واحد ذریعہ اللہ اور پیغمبر آخر الزماںؐ پر ایمان اور عمل صالح ہے۔ رنگ ، نسل، وطن اور کسی قوم سے وابستگی کا دنیا و عقبی کی کامیابی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا جس نے جان بوجھ کر سرکشی و برائی اور گناہ نے اس کا ہر طرف سے احاطہ کرلیا وہ دوزخی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنے والا ہے اور جس کا قلب نور ایمانی سے منور اور جس کے اعضا و جوارح نیک عمل سے روشن ہیں وہ جنتی ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ جس کا ایمان کامل ہوتا ہے وہ نفس، دنیا پرستی اور شیطان کے قاتلانہ وار سے محفوظ و مامون رہتا ہے اور جس کا ایمان کمزور ہوتا ہے وہ آسانی سے نفسانی خواہشات، دنیاوی مفادات اور شیطانی وساوس کا شکار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی خلجان کا باعث بننے والے سنگین مسائل و مشاکل اور روح فرسا مصائب و آلام اس کا مقدر بن جاتے ہیں جیسا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ آج کہیں بھی ماب لینچنگ ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ آج مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے کل دوسری اقوام کے ساتھ بھی یہی ہوگا، طلاق ثلاثہ پر پابندی لگاکر شریعت محمدی میں مداخلت کی کوشش کی گئی تو لوگوں نے کہا آج مسلمانوں کے پرسنل لا کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے کل دیگر اقوام کے پرسنل لا میں بھی مداخلت کی جائے گی، مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو شہید کیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ آج مسلمانوں کی عبادت گاہیں نشانہ پر ہے کل دیگر اقوام کی عبادتگاہوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا ، وقف ترمیمی بل 2024 جیسا متنازعہ قانون کو پارلیمنٹ میں متعارف کروانے کی بات ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں آج مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہورہا ہے کل دوسری اقوام کی جائیدادوں پر بھی حکومت قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی، عشق و محبت کے نام پر مسلم بچیوں کو مرتد بناکر انہیں دردناک موت دی جاتی ہے تولوگ کہتے ہیں کہ آج مسلم بچیوں کے ساتھ ایسا ہورہا ہے کل دیگر اقوام کی خواتین کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا جائے گا، مسلمانوں کا سماجی و معاشی مقاطعہ کی بات ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ کل یہی معاملہ دیگر اقوام بالخصوص اقلیتوں کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے، جب مسلمانوں کو دانستہ طور پر سیاست سے دور رکھنے کی عملی طور پر کوشش کی جاتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ آج مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جارہا ہے کہ کل دیگر اقوام کو بھی سیاسی طور پر کمزور بنادیا جائے گا، جب مسلمانوں کو تعلیمی وظائف سے محروم کردیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کل دیگر اقوام سے بھی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت چھین لی جائے گی، جب مسلمانوں کی املاک اور جائیدادوں پر بلڈور چلاکر انہیں بے گھر کردیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں آج مسلمانوں کو بے گھر کیا گیا ہے کل دیگر اقوام کو بھی ان کے گھروں سے بے دخل کردیا جائے گا۔ ان تمام چشم کشا حقائق و حالات سے ایک بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالی نے انسانیت کی رشد و ہدایت اور امامت کے لیے پیدا کیا تھا وہ قوم آج اپنی بداعمالیوں کی و جہ سے دیگر اقوام کے لیے درس عبرت بن گئی ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے صدقہ قرار دیا گیا اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ایک مسلمان جنت کا مستحق بن جاتا ہے ۔اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت ایسی ہے جو لوگوں کی راہوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں لذت محسوس کرتی ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو اکثریت ایسی ہے جو اپنے منصب و رتبہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنانے میں خوشی محسوس کرتی ہے۔ مسلم اور غیر مسلم عوامی نمائندوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ غیر مسلم عوامی نمائندے انتخابات سے قبل رائے دہندوں سے انتہائی عاجزی و انکساری اور عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہیں یکسر فراموش کردیتے ہیں جبکہ مسلم عوامی نمائندوں کی یہ نشانی ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے جس طرح رائے دہندوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے ہیں انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلے سے ان کے ساتھ زیادہ حسن سلوک کرتے ہیں۔ لیکن کیا آج ایسا ہورہا ہے؟ بہت کم سیاست داں ایسے ہیں جن میں مومنانہ کردار بدرجہ اتم پایا جاتا ہے جبکہ عوامی نمائندوں کی اکثریت لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کرنے کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہورہا چونکہ ہم نے عبادات کی روح یعنی مومنانہ کردار کو فراموش کردیا ہے ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہؐ فلاں خاتون کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ وہ نماز بہت زیادہ پڑھتی ہے روزے بکثرت رکھتی ہے اور خیر خیرات بہت کرتی ہے مگر ساتھ ہی ہمسائے کو زبان سے تکلیف بھی پہنچاتی ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ وہ عورت دوزخ میں جائے گی کیونکہ نماز، روزہ ، خیر خیرات اگرچہ افضل العبادات ہیں مگر وہ اس گناہ یعنی ایذائے ہمسایہ کی تلافی نہیں کرسکتے۔ اس روایت سے واضح ہوجاتا ہے کہ عبادات کی روح مسلمان کا مومنانہ کردار سے متصف ہونا ورنہ عبادات کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ مذکورہ بالا غیر اسلامی اور غیر انسانی حرکتوں کا ہی وبال ہے کہ وطن عزیز ہندوستان میں سب سے زیادہ ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے والی قوم کا نام مسلمان ہے ۔ آج مسلمانوں کے حالات درج فہرست طبقات و قبائل سے زیادہ بدتر ہوچکے ہیں۔ ان تمام حالات کے ذمہ دار متعصب ذہنیت کے حامل حکمرانوں سے زیادہ خود مسلمانوں کے اعمال قبیحہ ہیںچونکہ قرآن مجید نے واضح بیان فرمادیا کہ اگر تم گناہوں میں غرق ہوجائوگے تو تم پر عذاب کا آنا یقینی ہے اور مسلمانوں کے موجودہ حالات مسلمانوں کی سیاہ کاریوں کا ہی نتیجہ ہیں۔یہ تو نعلین پاک مصطفیؐ کا فیضان ہے کہ اللہ تعالی ہماری سخت گرفت فرماکر ہم پر اجتماعی عذاب نازل نہیں فرمارہا ہے ورنہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب کبھی کسی قوم نے نبی یا رسول کی نافرمانی کی اللہ تعالی نے اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اگر ہمیں ثواب دائمی و غیر متناہی کا مستحق بننا ہے تو ایمان کو مضبوط بنانے اور کثرت سے اعمال صالحہ بجالانا پڑے گا۔ تہذیبی کشمکش کے اس پرفتن دور میں امت مسلمہ کو بے شمار فکری و عملی مسائل درپیش ہیں جو ذہنی خلجان ، فساد و بگاڈ اور زوال و انحطاط کا سبب ہیں۔ ان کا حل رسمی طور پر کانفرنس و سمینار منعقد کرنے میں نہیں بلکہ حتمی نتائج کے لیے مسلمانوں کے اپنے کردار میں تبدیلی لانے میں مضمر ہے جس کے لیے یقین محکم، عمل صالح ، قوتِ کردار ، خوف و خشیت الٰہی اور جوابدہی کا احساس از حد ضروری ہے۔ یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ معاندین و دشمنان اسلام مسلمانوں کو بدنام کرنے ، شریعت میں تبدیلی لانے اور امت مرحومہ کو علمی، مذہبی، اخلاقی، روحانی ،معاشی، سیاسی، ثقافتی ہر لحاظ سے حاشیہ پر ڈالنے کے لیے ہر روز نت نئی سازشیں رچ رہے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت امت مسلمہ کے مسائل کا درد آشنا اور مسیحا بننے ، ان مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے اور اس کو روبہ عمل لانے کی حتمی کوشش کرنے کے بجائے وسائل کا ضیاع، اسراف و فضول خرچی ، کاہلی و عیش پرستی، فضولیات و لغویات میں مشغول اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر سوشیل میڈیا کے ذرائع کا غلط استعمال کرتے ہوئے انسانی معاشرے میں برائیوں کو عام کرنے میں لگی ہوئی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مادیت پرستی نے مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل سے غور و فکر اور تدبر و تعقل کی صلاحیتیںچھین لی ہیں یا انہیں زنگ آلود کردیا ہے۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قومی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک حکومتی ایوانوں اور قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی تباہی کے داستانیں لکھی جارہی ہیں اور امت مرحومہ موجودہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے انسانی معاشرے میں پائیدار و صالح تبدیلی لانے کے لیے تعلیم و تربیت پر توجہات مرکوز کرنے، اپنی فطانت و وسعت نظری کا مظاہرہ کرنے، اپنے کردار کو سنوارنے، اپنی خداداد صلاحیتوں و توانائیوں کا صحیح استعمال کرنے، فکری و علمی فضا کو پروان چڑھانے اور اسلامی احکامات کو عملی طور پر نافذکرنے کے بجائے مزاحیہ مواد، لا یعنی مشاغل، غیر ضروری مباحث اور فحش و عریاں ویڈیوز سوشیل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہیں اور مغرب سے مرعوب ذہن کے ساتھ مسلم نوجوان نسل ذہنی، فکری و عملی طور پر غیر اسلامی تہذیب و کلچر کی دلدادہ بنتی جارہی ہے۔دوسری طرف ایسے لگتا ہے کہ حکمران و مقتدر طبقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے بھی مان لیا ہے کہ ترقی و خوشحالی دراصل مغرب کی تقلید و پیروی کرنے میں ہی مضمر ہے جو امت مسلمہ کی فکری طور پر بانجھ ہونے کی واضح دلیل ہے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔