کاش نکلے میری جان مدینے میں

پہنچے گا یہ خادم جس ، آن مدینے میں
چومے گا محمدﷺ کے ، قدمان مدینے گا

پہلے تو سلام ان کو ، اور ورد درودوں کا
پھر نعت سناؤں گا ، قرآن مدینے میں

مجھ کو بھی سعادت ہو ،جاۓ گی وہی حاصل
جیسے کہ سناتے تھے ، حسّانؒ مدینے میں

جاؤں گا احد کے میں ، شہداء کے مزاروں پر
دیکھوں گا وہاں باغِ ، سلمان مدینے میں

ہر لمحہ گزاروں گا ، اللہ کی عبادت میں
آرام کو کر دوں گا ، قربان مدینے میں

رہتے ہیں میرے رہبر ، محبوب خدا کے وہ
نبیوں کے ، رسولوں کے ، سلطان مدینے میں

خواہش تو ہے یہ دل میں سرکارﷺ کے قدموں میں
اے کاش میری نکلے یہ ، جان مدینے میں

فیضان یقیں ہے کہ ، آقاﷺ کی عنایت سے
نکلیں گے سب ہی دل کے ، ارمان مدینے میں

از قلم
فیضان علی فیضان

Leave a Comment