عقائد و نظریات مذہبی مضامین

رودادِ مناظرہ جھانسی منعقدہ 22/اکتوبر 2024ء بروز منگل

آج شہرِ جھانسی میں گروہِ اہلِ حق اہلسنت و جماعت اور باطل عقائد و نظریات کے متحمل سنی نما نیم رافضی گروہ کے مابین تاریخِ ساز مناظرہ ہوا، جس میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضل و کرم سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جماعتِ اہلِ حق کو فتح و غلبہ حاصل ہوا، اور فریقِ مخالف گروہِ باطل شکست و ریخت سے دوچار ہوکر شرمساری اور ذلت کا طوق پہن کر ناکام و نامراد واپس پلٹا۔ قرآنِ عظیم میں فرمایا گیا ہے:” وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا،،
اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔

اہلِ حق کی جانب سے قائد و سرپرست کی حیثیت سے پیر طریقت رہبرِ راہِ شریعت شیر کالپی حضرت سید میر محمد غیاث الدین میاں صاحب قبلہ’ صاحبِ سجادہ آستانہ عالیہ قادریہ خانقاہ محمدیہ کالپی شریف و خانقاہ سلطانیہ ضیائیہ چورہ شریف ۔۔

اور ۔۔۔۔۔بحیثیتِ متکلم مناظر تاج الفقہا مناظرِ اہلسنت قاطع نجدیت و رافضیت حضرت علامہ مفتی محمد اختر حسین قبلہ قادری علیمی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ۔۔۔۔

اور معاون مناظر کی حیثیت سے مناظرِ اہلسنت جامع معقول و منقول حضرت علامہ مفتی محمد شہزاد صاحب قبلہ قادری’جامعۃ الرضا بریلی شریف۔۔۔ حاضر رہے۔
انکے علاوہ شرکاء مناظرہ میں مفتی محمد اشتیاق احمد صاحب چھتر پور۔ حضرت مفتی محمد افتخار صاحب مورانی پور۔ حضرت مفتی محمد امیر حسن امجدی رضوی جھانسی۔ حضرت مولانا محمد احمد رضا صاحب جھانسی۔ حضرت مولانا محمد محسن صاحب جھانسی۔ حضرت قاری حسنین بقائی صاحب صفی پور شریف۔ حضرت قاری طاہر صاحب جھانسی۔ اور عوام اہلسنت میں شریف بھائی بحیثیتِ صدر اور دیگر انکی کمیٹی کے لوگ بھی شریک رہے۔

ہمارےحریف فریقِ مخالف نے اپنے مؤقف کو چیلنج مناظرہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھاکہ ” حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جملہ اصحابِ رسول میں سب سے افضل ہیں۔۔۔۔۔۔اور ترتیبِ خلافت حق ہے یعنی خلافت میں حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اول ہیں۔۔۔۔۔ اور ترتیبِ امامت اور ولایت میں حضرتِ علی کرم اللہ وجہ الکریم سب سے افضل ہیں،،۔
دوسرا چیلینج اور دعویٰ ۔۔۔۔۔ یہ تھا کہ ” حضرتِ امیر معاویہ بن ابو سفیان کے متعلق علمائے اہلسنت و الجماعت کا جو موقف ہے وہ کف لسان کا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی حضرتِ معاویہ کے فضائل بیان کرتاہے تو کف لسان کا موقف ٹوٹ جاتاہے کیوں کہ مدح اور ذم دونوں پر کف لسان ہے لہذا امیر معاویہ کے متعلق ہمیں جس موقف پر بات کرنی ہے وہ وجہ کف لسان ہے۔۔۔یعنی کن کن وجوہات سے کف لسان ہے،،۔

طےشدہ وقت کے مطابق مناظرہ ٹھیک 1/بجے دن میں شروع ہونا تھا۔ ہماری جماعت کے سبھی نامزد 18/افراد وقتِ مقررہ پر مناظرہ گاہ” پنچ وٹی میرج ہال،، میں پہونچ گئے۔ فریقِ مخالف میں جیسی انکی ہمیشہ کی عادت رہی ہے وقت پر کوئی نہیں پہونچا۔ کافی وقت گزرنے جانے کے بعد دھیرے دھیرے ڈرے سہمے وہ لوگ آ تو گئے مگر چہرے سے گھبراہٹ صاف عیاں تھی، اور اخیر میں انکی نامزد تعداد سبطین حیدر مارہرہ کے پہونچنے پر پوری ہوگئی۔ انتظامیہ نے دونوں فریق کی نامزد لسٹ لیکر نام پڑھکر سنائے اور حاضری درج کرلی اور باقی لوگوں کو مناظرہ گاہ سے باہر کردیا۔

اہلِ حق نے کوئی گفتگو ہو اس سے قبل تلاوتِ کلام الہٰی سے آغاز کرنا بہتر و مناسب سمجھا جیساکہ ہمارے اکابرین و اسلاف کا طریقہ رہاہے، حضور تاج الفقہا کے حکم و ایما پر مفتی محمد شہزاد صاحب نے یہ فریضہ انجام دیتے ہوئے نہایت خوش الحانی اور مسحور کن آواز میں تلاوت کلام اللہ پیش فرمایا۔
کلام اللّٰہ کی تلاوت ہوئی مانو فتح و ظفر کی ضمانت مل گئی، اور کامیابی کی امید یقین میں بدل گئی۔ بعدہ حضور غیاث ملت دام ظلہ نے اچھی قیادت و رہبری کرتے ہوئے اپنے مختصر تعارف پیش فرماکر اپنی طرف سے متکلم مناظر اور معاون مناظر کا اعلان فرمایا۔
حضرت مفتی شہزاد صاحب نے سب سے پہلے گفتگو شروع فرمائی اور فریقِ مخالف سے انکی طرف سے کئےگئے چیلنجز مناظرہ کی تحریر پڑھکر سنائی۔ ابھی آپ نے اپنی بات مکمّل بھی نہ کی تھی کہ حریف متکلم مناظر جو خود کو ازہری بتا رہا تھا بیچ میں ہی ٹپک پڑا اور کسی طرح مناظرہ سے بچ جائے مناظرہ نہ کرنا پڑا اسکے لئے ادھر ادھر کرکے راہِ فرار کی ترکیب سوچنے لگا۔ مناظرہ وہ لوگ کیا کرتے انکی تو ہوا نکل گئی تھی، ایک طرف شیر کالپی کی ہیبت تو دوسری طرف اہلسنت و جماعت کے دونوں شیر حضور تاج الفقہا اور مفتی شہزاد کی دہشت، انکی تو عقل ہی کام نہیں کر رہی تھی۔ مناظرہ کرناٹک میں شرائط مناظرہ طے کرنے میں احمد حسین ڈپلومی اور نار العین میسباحی کی درگت یہ دیکھ اور سن چکے تھے اس لئے کہاں سے بھاگیں؟ کیسے بھاگیں؟ کیا کہیں ؟کیا بولے؟ انکی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کبھی کہہ رہا تھا کہ مناظرہ کا لفظ تحریر میں ہے ہی نہیں، تو کیا مناظرہ کرنا؟ ۔ کبھی کہہ رہا تھا
ہماری طرف سے مناظرہ کا چلینج ہی نہیں کیا گیا ہے۔ صاف و سفید جھوٹ بول رہا تھا، جبکہ تحریر میں سب باتیں صاف طور پر موجود تھیں، مگر اتنا کہہ کر کہاں بچ سکتے تھے؟ حضرت مفتی شہزاد صاحب نے فوراً تحریر پڑھکر سنائی اور سارے حاضرین کو دکھائی۔ اب بدحواسی میں اسے کچھ نہیں سمجھ میں آرہا تھا کہ کیا کریں ، اس لئے عجیب و غریب بچکانہ اور احمقانہ باتیں ادھر ادھر کی کرنے لگا، اسکی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی پر ہنسی بھی آرہی تھی اور غصہ بھی۔کہ کیسے جاہل اور گھامڑ کابڑیے کو یہ لوگ میدان مناظرہ میں اٹھا لائے ہیں جو صریح اور صاف لکھے ہوئے الفاظ کو بھی نہیں سمجھتا ہے تو آگے کیا خاک بحث کرےگا۔ مفتی شہزاد صاحب اسے یوں سمجھا رہے تھے جیسے سامنے کوئی انتہائی غبی الذہن اور کم عقل طالب علم ہو مگر بات اسکے بھیجے میں گھس ہی نہیں رہی تھی سارا مجمع اسکی نادانی پر ہنس رہاتھا خود اسکے لوگ اس پر ہنس رہے تھے۔ بہرحال مفتی شہزاد صاحب سمجھ گئے کہ یہ صرف مناظرہ سے بچنے کی راہ ڈھونڈھ رہا ہے آپ نے فوراً اس شخص کو جس نے چیلنج مناظرہ دیا تھا جس کا نام تحریر میں موجود تھا۔ آپنے پوچھا یہ افضل کون ہے؟ افضل ہی وہ فتنہ پرور شخص تھا جس کی وجہ سے آج معاملہ مناظرہ کی حدتک پہونچا تھا۔ یہ قصائی منڈی جھانسی کی ” مدینہ مسجد،، کا امام و خطیب تھا جو آئے دن صحابۂ کرام پر ہفوات بکتا اور اہلسنت و جماعت کو چیلنج مناظرہ کیا کرتاتھا، جسکے اپنے ہی نہیں بلکہ خود اسکے لوگ بھی گواہ تھے۔ اسنے مائک سنبھالتے ہوئے کہا میں ہی افضل ہوں۔ مفتی صاحب نے پوچھا، چیلنج مناظرہ آپ نے دیا تھا۔ اسنے اپنے متکلم کی حالت دیکھ لی تھی اس لئے کہنے لگے یہ بہت پہلے مئی کی بات ہے اور ابھی میں نے چیلنج مناظرہ نہیں دیا تھا بلکہ میں نے تو بات کرنے کےلئے لوگوں کو بلایا تھا، اسکی جھوٹ بھی یہاں پکڑی گئی۔

سبطین حیدر مارہروی صاحب نے دیکھا کہ معاملہ تو ہاتھ سے نکل رہا ہے اب لگ رہاہے کہ مناظرہ سے بچ نہیں پائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم مناظرہ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ ہم صلح کی نیت سے آئے ہیں میں نے سنا تھا عوام میں کسی بات کو لیکر کچھ انتشار ہے تو میں اسی کو ختم کرنے کےلئے حاضر آیا ہوں ۔ مجھے تو مناظرہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ یہ بھی یہاں صاف جھوٹ بول رہے تھے۔ مفتی شہزاد صاحب نے فرمایا: سید صاحب یہ کوئی ہماری زمین جائداد اور گھر خاندان کا معاملہ نہیں کہ صلح کرلیا جائے ، بلکہ یہ شریعت اور تمام اہلسنت کا معاملہ ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ سبطین صاحب کہنے لگے میں مناظرہ کےلئے نہیں آیا ہوں، اگر مناظرہ ہی کرنا ہے تو پھر کبھی کوئی تاریخ متعین کرکے ہوجائیگا اچھے سے ہم لوگ بھی تیاری لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ بہت دیر سے انکی طرف سے جھوٹ اور مکاری چل رہی تھی اور یہ کسی طرح بھی بحث کےلئے تیار نہ تھے۔ آخرکار حضور تاج الفقہا مفتی اختر حسین صاحب قبلہ نے جب بہت دیر تک یہی سب چلتا رہا تو آپنے متکلم مناظرہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے گفتگو شروع فرمائی۔ حمد و صلاة کے بعد آپ نے فرمایا جب مناظرہ ہونا ہی نہیں تھا تو یہ تحریریں کس لئے لکھی گئی تھیں؟ یہ تحریریں سب جھوٹی ہیں؟۔ اور کیا جو دونوں فریق کے صدر اور انکے علاوہ بھی جولوگ گواہی دے رہے ہیں کہ مناظرہ ہونا طے پایا تھا کیا وہ سب جھوٹے ہیں؟ اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ دونوں فریق کے سارے لوگ جھوٹ بول رہے ہیں تو یہ انتظامیہ پولیس تو جھوٹ نہیں بولے گی؟ کیا ان کی موجودگی میں دونوں فریق نے تاریخِ مناظرہ طے نہیں کیا تھا؟ پولیس پرشاشن سے پوچھیے۔ اگرمناظرہ نہیں ہونا تھا تو اتنا سارا پیسہ جو ان لوگوں نے خرچ کیا۔ مناظرہ کےلئے ہال بک کیا۔ سیکورٹی اور حفاظت کے لئے انتظامیہ کا سہارا لیا۔ انکے علاوہ اپنی طرف سے بھی پرائیویٹ سیکورئی کا انتظام کیا۔ دونوں فریقین اپنے علما کو متعینہ تاریخ میں مدعو کیا۔ سب اپنا اپنا قیمتی وقت نکال کر آئے یہ حضرت سید غیاث میاں صاحب کالپی شریف سے آئے۔ میں اپنا دو پروگرام اور چھوڑ کر آیا۔ حضرت مفتی شہزاد صاحب اپنی درسگاہ چھوڑ کر بریلی شریف سے حاضر ہوئے۔ مفتی اشتیاق صاحب چھتر پور سے تشریف لائے۔ یہ اور باقی علما و مفتیانِ کرام کوئی کہیں سے کوئی کہیں سے سب اپنا اپنا قیمتی وقت نکال کر آئے۔ یہ عوام سب اپنا کاروبار چھوڑ کر آئی۔ آخر کیوں ؟ کیا ایسے ہی بس سب بغیر کچھ بات کیے ہی جمع ہوگئے ہیں؟۔
سب اپنا اپنا قیمتی وقت اور پیسہ وغیرہ خرچ کرکے اسی لئے آئے نا کہ مناظرہ ہونا ہے۔ اتنا پیسہ ان لوگوں نے کیا یوں ہی بیکار میں خرچ کر ڈالا؟۔
اور صلح کیسی؟ حق و باطل میں کوئی صلح نہیں۔
سبطین حیدر صاحب نے مناظرہ سے بچنے کےلئے آخری داو اپنایا اور یہ کہاکہ جتنا پیسہ خرچ ہوا میں سب دینے کےلئے تیار ہوں۔ میں چاہتا ہوں عوام میں انتشار ختم ہوجائے اور سب جتنے کلمہ گو ہیں مل کر رہےہیں۔ مفتی شہزاد صاحب نے اس پر فرمایا: کہ صرف کلمہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کےلئے کافی نہیں بلکہ ضروریات دین و اہلسنت و جماعت کے ضروری مسئلوں پر ایمان و یقین بھی لازمی ہے۔ پھر آپ انکے امام افضل کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ تحریر میں موجود یہ آپکا دستخط اس بات کی واضح علامت نہیں ہے؟ کہ چیلنج مناظرہ آپکی رضامندی سے ہے۔ بہرحال وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا رہا اور چیلنج مناظرہ کا انکار پر انکار کرتا رہا۔ جب عوام نے یہ دیکھا کہ یہ تو اپنی ساری کہی ہوئی باتوں سے یکسر مکر رہاہے۔ تو کسی نے یہ کہہ دیا کہ اسکا ویڈیو کلپ بھی موجود ہے جس میں اس نے مناظرہ کا چیلج کیا ہے۔ اب فریقِ مخالف نے ویڈیو دکھانے مطالبہ کردیا یہ سوچ کر کہ کہاں اتنی جلدی ویوڈ کلپ دکھا پائیں گے؟ آخر کار ہمارے فریق کی عوام شرکاء نے ویڈیو تھوڑی دیر میں تلاش کرلی اور اسے دکھا اور سنا دیا جس میں صرف وہ چیلنج مناظرہ ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ نعوذباللہ من ذالک حضرتِ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ کو صاف طور پر عوام اہلسنت سے کافر کہہ اور کہلوا رہا تھا۔ ویڈیو کا مطالبہ کرکے فریقِ مخالف نے اپنے پاؤں پر مانو کلہاڑی مار لی اب وہ اور زیادہ پھنس چکے تھے۔ حضرت مفتی شہزاد نے فرمایا: کہ اب میں سید سبطین صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی مؤمن کو کافر کہنے اور کہلوانے والوں پر کیا حکم شرع عائد ہوتاہے، اور حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو آپکے نزدیک بھی نہ یہ کہ صرف مؤمن بلکہ صحابی بھی ہیں تو اب آپ ہی بتایئے کہ ایسے شخص پر کیا حکم لگے گا؟ ۔ سبطین صاحب کےنیچے سے مانو زمین کھسک گئی خود کو پھنستا دیکھ چہرے کا رنگ اڑ گیا، فوراً اپنے امام کو توبہ و استغفار اور تجدیدِ ایمان وغیرہ سب کرانے لگ گئے۔ اس کے بعد مفتی شہزاد صاحب نے پھر گرفت کرتے ہوئے فرمایا:چونکہ یہ شریعت کا حکم ہے اس لئے یہ بھی اعلان کریں کہ یہ عوام الناس کو بھی جمعہ میں توبہ و تجدیدِ ایمان کرائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ یہ ویڈیو چونکہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے کی ہے اس لئے اتنے دنوں کی نماز کے بھی دہرانے کا بھی حکم کریں گے۔ اپنی ہار سے بدحواس سبطین حیدر نے فوراً کہا کہ میرے خیال سے اب بات مکمّل ہوچکی ہے اور کھڑے ہوکر سلام پڑھنے لگے اور جلدی جلدی سلام اور دعا کرکے اپنے ہم عقیدوں کے ساتھ میدان مناظرہ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
ہم سب سلام پڑھکر کھڑے رہے حضرت سیدغیات میاں صاحب قبلہ نے دعا فرمائی۔ پھر ہم سب وہیں بیٹھ گئے عوام میں سے کچھ جو ادھر تھے ہماری طرف آکر سب کو سلام و مصافحہ کیا۔ ہماری جماعت کی عوام نے انتہائی خوشی و مسرت کے ساتھ حضور شیر کالپی، تاج الفقہا مفتی محمد اختر حسین قادری اور مفتی محمد شہزاد صاحب کو فتح و نصرت کا ہار پہنایا۔ حضور تاج الفقہا سمیت تمام علماء نے سبھی کو جیت کی مبارکبادی پیش کی اور پھر ہم سب نے چائے ناشتہ کیا۔ آخیر میں مفتی محمد اختر حسین صاحب قبلہ نے مناظرہ کے حوالہ سے وضاحتی بیان دیتے ہوئے پولیس انتظامیہ سمیت سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر ہم سب اپنی منزل کی طرف شاداں و فرحاں روانہ ہوئے۔

یکے از شرکائے مناظرہ: محمد امیر حسن امجدی رضوی، خادم الافتا و التدریس: الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے