مذہبی مضامین

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

ازقلم : پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com (Osm)

انسانی تاریخ کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح آشکار کرتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں دائمی کامیابی اور حقیقی سربلندی ہمیشہ انہی نفوس قدسیہ کا مقدر بنی ہے جنہوں نے آزمائشوں کی شدت، معاندانہ قوتوں کی سخت مخالفت، سیاسی و سماجی مزاحمت اور مادی مفادات کی ترغیبات کے علی الرغم اپنے ایمان، عقیدہ، اصولِ حق اور مقصدِ حیات سے ذرہ برابر انحراف نہیں کیا ۔ اسلامی تعلیمات میں اس راسخ الثبات طرزِ عمل کو استقامت سے تعبیر کیا جاتا ہے جو ایمان کی پختگی، یقین کے رسوخ، اخلاقی ثبات، فکری اعتدال اور روحانی کمال کا جامع عنوان ہے۔ استقامت محض مصائب و آلام پر صبر کا نام نہیں ، بلکہ اللہ تعالی کی اطاعت پر دائمی استواری، اوامرِ شرعیہ کی پابندی، نواہی سے دوری، حق و صداقت سے غیر متزلزل وابستگی، عدل و انصاف کی بے لاگ پاسداری اور ہر قسم کے حالات میں اخلاقی و دینی اقدار پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ یہی وہ جوہرِ نایاب ہے جسے قرآن حکیم نے اہل ایمان کی امتیازی صفت قرار دیا، سنت نبویؐ نے دین کا خلاصہ ٹہرایا، اور جس کے باعث انبیائے کرامؐ، صحابہ کرامؓ، اولیائے کاملین ، ائمہ مجتہدین اور ہر دور کے مصلحین امت نے تاریخ انسانیت میں دوامِ عظمت ، رفعت کردار اور خلودِ ذکر حاصل کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ افراد ہوں یا اقوام، ان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی بقا کا راز اسی استقامت میں مضمر ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات سے واضح ہوتا ہے کہ استقامت وہ جامع وصف ہے جو ایمان، عمل اور اخلاق تینوں کو استحکام بخشتا ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی فضیلت نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل، عبودیت کے دوام ،دینی زندگی کے استحکام کا بنیادی تقاضا اور ایمان ِ صادق کا لازمی ثمرہ ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہورہا ہے ۔ ترجمہ: پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ مفسرین کے نزدیک اس آیت پاک میں استقامت سے مراد عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور دعوتِ دین سمیت شریعت کے ہر شعبے میں بلا افراط و تفریط اللہ تعالی کے حکم پر ثابت قدم رہنا ہے۔ مفسرین نے استقامت کو دین پر کامل استواری، فقہاء نے التزامِ احکام، فلاسفہ نے اعتدالِ عقل و کردار اور صوفیہ نے دوامِ اخلاص اور ثبات سلوک کی اساس قرار دیا ہے ۔ قرآن مجید مزید ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اسی پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اس آیت پاک سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایمان کی صداقت کا حقیقی معیار محض زبانی اقرار نہیں، بلکہ حیات انسانی کے اختتام تک شریعت مصطفویؐ پر ثابت قدم رہنا ہے جس کا ثمرہ دنیا و آخرت میں سکینتِ قلب اور بشارتِ ملائکہ ہے۔ احادیث نبویہ میں استقامت کو ایمانِ کامل اور دینی زندگی کے جوہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ہادی برحقؐ نے ایمان کے نظری اور عملی دونوں پہلوئوں کو نہایت جامع انداز میں ایک مختصر مگر ہمہ گیر ارشاد میں سمودیاجس کے راوی حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ ہے۔ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا ترجمہ: کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اسی ایمان پر ثابت قدم رہو۔ شارحین حدیث نے محولہ بالا حدیث پاک کے بارے میں فرمایا کہ یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے اور تمام دینی احکام پر استقامت کی جامع ہدایت دیتی ہے۔ اسلامی فلسفے میں اگرچہ استقامت کو ہمیشہ ایک مستقل اصطلاح کے طور پر زیرِ بحث نہیں لایا گیا، تاہم مسلم فلاسفہ نے اسے تہذیب نفس، اعتدالِ اخلاق، ثبات ارادہ اور کمال شخصیت کے تناظر میں نمایاں مقام دیا ہے۔ ان کے نزدیک انسانی فضیلت اس وقت تک پائیدار نہیں ہوتی جب تک وہ مسلسل ریاضت، عملی التزام اور اخلاقی ثبات کے ذریعہ ملکۂ راسخہ نہ بن جائے۔ ابن مسکویہ کے فلسفۂ اخلاق کے مطابق فضائل انسانی محض علمی ادراک سے حاصل نہیں ہوتے، بلکہ تہذیبِ نفس، اعتدال قوی اور اعمالِ صالحہ کی مسلسل ممارست کے نتیجے میں ملکہ راسخہ کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ یہی دوام عمل اور استحکامِ کردار، انسانی شخصیت کی تکمیل اور اخلاقی استقامت کی حقیقی بنیاد ہے۔ فارابی کے فلسفۂ مدینۂ فاضلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانِ کامل کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ عقلِ عملی اور فضائل اخلاقیہ کی رہنمائی میں عدل و حق پر ثابت قدم رہے، سماجی، سیاسی یا نفسانی محرکات کے باوجود اپنے اخلاقی و عقلی توازن کو برقرار رکھے اور خارجی حالات سے مغلوب نہ ہو۔ ابن سینا کے فلسفۂ نفس کے مطابق کمال انسانی کا مدار عقل نظری و عملی، قوتِ ارادی اور تہذیبِ اخلاق کے باہمی توازن پر ہے۔ یہی اعتدال قوی انسان کو اخلاقی استحکام، نفسانی تزکیہ اور شخصیت کے اعلی مدارج تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہل تصوف نے استقامت کو سلوک الی اللہ کی اساس، مقاماتِ ولایت کا محور اور تمام روحانی احوال کا محافظ قرار دیا ہے۔ صوفیہ کے نزدیک کرامات، مکاشفات اور وجدانی کیفیات کی حقیقی قدر اسی وقت ہے جب سالک شریعت، اخلاص اور دوامِ اطاعت پر ثابت قدم رہے۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے مشہور صوفی بزرگ حضرت امام قشیریؒ فرماتے ہیں ترجمہ:استقامت وہ بلند منزل ہے جس کے ذریعہ تمام امور اپنے کمال اور تکمیل کو پہنچتے ہیں اور اسی کے وجود سے تمام خیرات منظم اور محفوظ رہتے ہیں۔ جس شخص میں استقامت نہیں، اس کی کوئی حقیقی سعی معتبر نہیں، اور جس کی سعی معتبر نہ ہو، اس کے لیے روحانی ترقی بھی ممکن نہیں۔ اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے استقامت پورے نظام سلوک کی بنیاد ہے۔ سالک اگر عبادات، مجاہدات اور اذکار میں دوام اور اعتدال کے ساتھ شریعت کی پابندی اختیار کرے تو وہ مقاماتِ قرب کی طرف گامزن ہوتا ہے ورنہ غیر معمولی روحانی کیفیات بھی اسے حقیقی کامیابی سے ہم کنار نہیں کرسکتیں۔ امام غزالیؒ کے نز دیک استقامت محض ظاہری اعمال پر دوام کا نام نہیں، بلکہ اخلاص، مجاہدۂ نفس، اتباعِ سنت اور دوامِ طاعت کا ایسا جامع وصف ہے جو بندۂ مومن کو معرفتِ الٰہی کے اعلی مدراج تک پہنچاتا ہے۔ آپ ؒکے نزدیک عبادت کی حقیقی قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ اخلاص کے ساتھ مسلسل اد کی جائے، کیونکہ اخلاص کی بقا، قلب کی تطہیر اور معرفتِ الٰہی کا حصول استقامت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ تصریح کرتے ہیں کہ سالک کے لیے سب سے اہم چیز اعمال کی کثرت نہیں بلکہ ان پر ثابت قدمی اور دوام ہے، کیونکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں محبوب ترین عمل وہ ہے جو اخلاص کے ساتھ ہمیشہ جاری رہے۔ اسی طرح امام غزالی ؒاخلاص کے باب میں بیان کرتے ہیں کہ اخلاص کی حفاظت مسلسل محاسبۂ نفس اور استقامت سے وابستہ ہے، اگر بندہ اپنے عمل پر ثابت قدم نہ رہے تو ریا، غفلت اور نفسانی خواہشات اس کے اخلاص کو متزلزل کردیتی ہیں۔ امام غزالیؒ کے افکار کا حاصل یہ ہے کہ استقامت، اخلاص کا محافظ اور معرفتِ الٰہی کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ آپؒ کے نزدیک تصوف کا مقصد وقتی وجدان یا روحانی لذت نہیں ، بلکہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مستقل اطاعت، دوامِ ذکر، تزکیہ نفس اور حسن عمل کی ایسی کیفیت پیدا کرنا ہے جوبندے کو مقامِ احسان تک پہنچے دے۔ مولانا جلال الدین رومیؒ کے ہاں پہاڑ استقامت، ثبات اور وقار کی علامت ہے، جب کہ طوفان آزمائشوں، نفسانی خواہشات اور دنیاوی فتنوں کی تمثیل ہے۔ ان کی تعلیم یہ ہے کہ جس طرح پہاڑ شدید آندھیوں کے باوجود اپنی جگہ قائم رہتا ہے، اسی طرح مومن کو بھی اطاعتِ الٰہی، اتباعِ سنت اور اخلاقِ حسنہ پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ یہی استقامت انسان کو روحانی ارتقاء اور معرفتِ الٰہی سے ہم کنار کرتی ہے۔ مولانا رومیؒ کی اس تمثیل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سالک راہِ حق آزمائشوں کے مقابلے میں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہتا ہے۔ عملی تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا استقامت، حق پسندی اور اصولی ثبات کی وہ درخشاں مثال ہے جس نے یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے ثابت کردی کہ اہل ایمان کی کامیابی وقتی اقتدار، سیاسی غلبہ یا دنیاوی منفعت میں نہیں، بلکہ حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے میں مضمر ہے۔ حضرت سیدنا امام حسینؓ نے جب بیعت یزید سے انکار کیا تو اس کا محرک اقتدار کا حصول نہیں، بلکہ دین محمدیؐ کے بنیادی اصولوں، عدلِ اسلامی اور اخلاقی اقدار کا تحفظ تھا۔ آپؓ نے اپنی جان، اہل بیت اور فقاء کی قربانی دے کر یہ واضح کردیا کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو مومن کا منصب مصلحت پسندی نہیں بلکہ استقامت، ایثار اور حق پر ڈٹ جانا ہے۔ اسی تناظر میں شاعر مشرق علامہ اقبالؒنے واقعہ کربلا کو حق و حریت کی ابدی علامت قرار دیتے ہوئے حضرت سیدنا امام حسینؓ کی استقامت کو ملتِ اسلامیہ کی روح سے تعبیر کیا ہے اور واضح کیا کہ آپؓ کی شہادت محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ ظلم و استبداد کے خلاف دائمی اعلانِ حق ہے، آپؓ کے خون مقدس نے آزادی، عدل، حق پرستی اور انسانی وقار کو ایسی ابدی زندگی عطا کی جو رہتی دنیا تک اہل حق کے لیے مشعل راہ رہے گی۔ عصرِ حاضر کا مسلمان ایک ایسے ہمہ گیر تہذیبی اور فکری بحران سے گزر رہا ہے جہاں اخلاقی انتشار، فکری مغالطے، مادیت ، صارفیت ، سیاسی ناانصافی، ڈیجیٹل گمراہی اور شناختی بحران نے فرد اور معاشرے دونوں کی فکری و روحانی بنیادوں کو متزلزل کردیا ہے۔ ایسے نازک حالات سیرت حسینیؓ سے پوری انسانیت کو یہ پیغام ملتا ہے کہ استقامت محض ایک انفرادی اخلاقی صفت نہیں، بلکہ انسانی شخصیت، دینی شناخت اور اجتماعی استحکام کے تحفظ کا بنیادی اصول ہے۔ آج کے مسلمان کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہماری حقیقی قوت مادی وسائل میں نہیں بلکہ ایمان، خودی، اور اصولی استقامت میں مضمر ہے جس کی ترجمانی علامہ اقبال کا شعر کرتا ہے کہ اہل ایمان کی پہچان حالات کے جبر کے سامنے جھک جانا نہیں، بلکہ حق و صداقت پر ثابت قدم رہنا ہے۔ موجودہ دور کے سنگین حالات امت مسلمہ سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمان سیرت حسینیؓ سے درس حاصل کرتے ہوئے سچائی، دیانت، عدل، امانت، روحانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا محور بنالیں اور معاشرتی دبائو، مادی مفادات، فکری یلغار اور ڈیجیٹل فتنوں کے باوجود ان سے دست بردار نہ ہوں۔ یہی وہ قرآنی و نبوی منہج ہے جو فرد کی دینی شناخت کو محفوظ رکھتا ہے، معاشرے میں عدل و اعتدال کو فروغ دیتا ہے اور امت کو فکری و اخلاقی زوال سے بچانے کی حقیقی ضمانت فراہم کرتا ہے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے