سماج و معاشرہمضامین و مقالاتملکی خبریں

جو سچ کہو ں تو بُرا لگے!!!

ازقلم: مدثر احمد، شیموگہ کرناٹک 9986437327

کرناٹک کے مختلف علاقوں میں اس وقت الگ الگ مذاہب وقوموں کے لوگ اپنے لئے ریزرویشن میں اضافہ اور اپنی ذاتوں کو اُن ذاتوں میں شمار کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں جو حکومتوں سے سب سے زیادہ فائدے حاصل کررہے ہیں۔مثلاً ایس سی ایس ٹی اور اوبی سی میں شامل کرنے کیلئے کئی مذاہب کے لوگ جدوجہد کررہے ہیں۔لیکن مسلمانوں پر اس وقت جوں تک نہیں رینگ رہی ہے،رینگے بھی کیوں،مسلمانوںکے پاس وہ کونسا لیڈر ہے جو مسلمانوں کے حق کیلئے اپنے ساتھ لیکر آگے بڑھے۔پچھلے پندرہ بیس سالوں سے گنے چنے پندرہ بیس لیڈرہی مسلمانوں کی لیڈر شپ کی فہرست میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ مرحوم سی کے جعفر شریف،مرحوم عزیر سیٹھ،مرحوم ایس ایم یحیٰ اور مرحوم ایم ایف خان جیسے نامی گرامی لیڈروں کے گذرجانے کے بعد جو لیڈر شپ مسلمانوں کی رہی ہے وہ اتنی مضبوط نہ سہی لیکن ان سے کام چلایاجارہاتھا۔لیکن آج حالت اس قدر بدتر ہوچکی ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک مضبوط لیڈرہی نہیں ہے،صرف کرناٹک میں ہی نہیں بلکہ ملکی سطح پر بھی یہی حال ہے۔ایک دور تھا کہ کرناٹک میں روشن بیگ،تنویر سیٹھ،یو ٹی قادر،فیروز سیٹھ، سی ایم ابراہیم،ضمیر احمد،نصیر احمد،رحمان خان جیسے لیڈران کی لمبی فہرست تھی،لیکن اب یہ فہرست الگ الگ وجوہات کی بناء پراتنی سکڑ گئی ہے کہ اب ایسا محسوس کیاجارہاہے کہ مسلمانوں کی قیادت ختم ہونے جارہی ہے۔یو ٹی قادرکی بات کہی جائے تو وہ صرف سائوتھ کینراکے حد تک اپنی قیادت پیش کرتے رہے ہیں،خاص کر بیری و شافعی مسلمانوں کے لیڈر مانے جاتے ہیں،اسی طرح سے فیروز سیٹھ کو بلگام کو محدود کردیاگیاہے،شیرکی طرح دھاڑیں مارنے والے اپنی سیاسی بصیرت سے ریاست میں گرجنے والے روشن بیگ کو آئی ایم اے کا گرہن لگ گیا،اس کے بعد سیاسی سازشوں نے انہیں سیاسی اعتبار سے کمزور کردیا،سی ایم ابراہیم کی بات کی جائے تو ان کے پاس زبان ضرورہے لیکن فعل و قول میں تضاد ہے،ان کے پاس مستقل مزاجی نہ ہونے اور اپنی ضرورت کے مطابق سیاست کا استعمال کرنے کی وجہ سے بھی لوگوںکے دلوں سے نکلتے جارہے ہیں،یقیناً ان جملے پنچ لائن ثابت ہوتے ہیں مگر قیادت کے معاملے میں لوگ ان پر کم بھروسہ کرنے لگے ہیں،کبھی جے ڈی ایس میں کبھی کانگریس میں تو کبھی بی جے پی کی تعریف میں کہہ جانے والے جملے سی ایم ابراہیم کی شخصیت پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔رہی بات رحمان خان کی تو وہ یقیناً کانگریس کے قائد ضروررہے،لیکن عام مسلمانوںکی قیادت میں ناکام رہے،بطور رحمان خان کانگریس میں انہیں بہت ملا،لیکن بطور رحمان خان وہ مسلمانوں کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکے،سوائے چند ایک ان کے حامیوں کے۔یہی حال نصیر احمدکا ہے جو بنگلوروکی سطح تک ہی لوگوںمیں جانے پہچانے جاتے ہیں۔اب بات کرتے ہیں ضمیر احمدکی جو کم وقت اپنی سیاسی شناخت تو بنا چکے ہیں لیکن وہ ایک کامل قائد بننے سے رہ گئے ہیں،اپنی حاتم طائی کی صلاحیت کی وجہ سے وہ حاتم تو بنے ہوئے ہیں لیکن لیڈربننے میں ناکام رہے ہیں،اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ سیاسی بصیر ت سے محروم ہیں۔اسی طرح سے جے ڈی ایس کے مسلم لیڈروں کے حالات بھی کچھ الگ نہیں ہیں۔ظفر اللہ خان، بی ایم فاروق،شفیع اللہ جیسے جے ڈی ایس کے قائدین محض پارٹی کی حد تک ہی اپنا نام روشن کرچکے ہیں۔جبکہ بھٹکل جیسے چھوٹے شہرمیں رہنے والے عنایت اللہ شاہ بندری کے پاس ہمت، حکمت اوربصیرت ہے،لیکن انہیں اپنی ہی ملت کی مکمل تائید نہ ہونے کی وجہ سے بھٹکل تک ہی محدود رہ گئے ہیں۔مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کے معاملے میں ایک بھی ایسا قائد نظرنہیں آرہاہے جو ان سنگین حالات میں آگے آئے۔یہی وجہ ہے کہ آج اُمت مسلمہ ہر معاملے میں دوسری قوموں سے پیچھے ہے اور دوسری قوموں سے گھونسے و لاتیں کھانے پر مجبور ہوچکی ہے۔اب تو مسلم قائدین و اُمت کے دانشوروں کو چاہیے کہ وہ ان بدترین حالات میں مسلمانوں کیلئے لائحہ عمل تیار کریں۔ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ حالات پس منظر میں ہیں،ہماری سوچ اُس شعرکی مانند ہے جس میں شاعرکہتاہے
جو سچ کہوں تو بُرا لگے،جو دلیل دوںتو ذلیل ہوں
یہ سماج جہل کی زدمیں ہےیہاں بات کرنا حرام ہے.

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button