ازقلم: محمد ایوب مظہر نظامی
علمی، ادبی، ثقافتی، ملی اور مذہبی موضوعات پر سیمینار و سمپوزیم کا انعقاد کرکے ہر مکتب فکر اپنی فکری بیداری کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور عصر حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرتا ہے، مگر خطۂ سیمانچل میں جماعت اہلسنت کی یہ حرماں نصیبی کہہ لیں کہ اس کے قائدین اور علماء نے کبھی بھی اپنے عوام کو یہ تصور ہی نہیں دیا کہ سیمینار و سمپوزیم کا انعقاد بھی انفاق فی سبیل اللہ کے زمرے میں آ سکتا ہے اور ان کے ذریعہ لا ینحل مذہبی و علمی موضوعات کا حل تلاش کرنا بھی ایصالِ ثواب ہے، چنانچہ آج علاقہ سیمانچل بالخصوص خطہ کشن گنج کے طول و عرض میں کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا جہاں عوامی جلسے نہ ہوتے ہو مگر دانشورانِ قوم، حساس علماء اور اہل قلم کو بلا کر کسی موضوع پر سیمینار کا انعقاد ہو ، ایسے "حادثات” کم ہی ہوتے ہیں، علاقۂ سیمانچل میں ایسی لاتعداد ملی، مذہبی اور علمی مسائل ہیں جو اپنے حل کا بیتابی سے انتظار کر رہے ہیں مگر شخصی اور ذاتی مفاد سے باہر نکل کر سوچنے کی کسے فکر ہے؟ ایسے زندہ شعبوں اور در پیش چیلنج سے غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج کئی دہائیوں سے ہم خطۂ سیمانچل میں در پیش داخلی مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکے اور دنیا ہماری فکری انجماد کا مزاق اڑاتی رہی، اگر ہم نے اب بھی اس جہت میں توجہ دی تو سیمینار و سمپوزیم کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ بے شمار علمی، ادبی، ملی اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ ان مختلف موضوعات پر لکھے گئے مقالے کتابی شکل میں شائع ہوکر صدیوں تک ہماری نسلوں کو مستفیض کرتے رہیں گے اور جماعتی بیداری کا عروج بھی ہم اپنی جاگتی آنکھوں سے ملاحظہ کریں گے