مضامین و مقالات

محرم میں صرف فضائل امام حسین رضی اللہ عنہ پر اقتصار کرنا

تحریر : اسد الرحمن

سیدی امام اہل سنت فرماتے ہیں: ذکر فضائل شریف حضرت سیدنا امام حسین ریحانہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بروجہ جائز روایات صحیحہ معتمدہ معتبرہ سے ضرور نور علی نور ہے مگر صرف اسی پر اقتصار اور ذکر خلفاء کرام رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے دامن کشی خصوصاً لکھنؤ جیسے محل حاجت میں کہ کوفہ ہند ہے ضرور قابل اعتراض واحتراز ہے ((الی ان قال)) کتاب العیون پھر شرح نقایہ علامہ قہستانی اواخر کتاب الکراھیة میں ہے :
"لو اراد ذکر مقتل الحسین ینبغی ان یذکر اولا مقتل سائر الصحابة لئلا یشابه الروافض”

مفھوم؛ اگر کوئی واعظ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو بیان کرنا چاہے تو اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے باقی صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی شہادت کے واقعات لوگوں کو سنائے تا کہ روافض سے مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ صرف شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر اکتفا کرتے جبکہ اہل سنت صحابہ اور اہلبیت دونوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔
(جامع الرموز شرح النقایۃ للقہستانی کتاب الکراھیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲۳)

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: "اذا ذکر الصالحون فحیھلا بعمر”

جب صالحین کاذکر ہوتو عمر فاروق (رضی ﷲ عنہ) کاتذکرہ کرو۔
(مسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۴۸)

اور ذکرشہادت میں حضرت ابوبکر و عمر و عثمان اولادِ امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ (رضی اللہ عنہم اجمعین) کا ذکر اس لئے ترک کرنا کہ ان کے اسماء حضرات عالیہ خلفائے ثلاثہ رضی ﷲ عنہم کے نام پاک ہیں، صریح رفض واوہام زمانہ روافض خذلہم ﷲ کا اتباع ہے کہ مسمی کے باعث اسم سے عداوت ہاتھ باندھ لیتے ہیں اگرچہ وہ نام کسی محبوب کا ہو قاتلھم ﷲ انّٰی یؤفکون۔

(ﷲ تعالٰی انہیں مارے کہ وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)

( القرآن ۹/ ۳۰)

(فتاوی رضویہ ملتقطا جلد 23 صفحہ 731 تا 734 اپلیکیشن)

ابو الحسن محمد شعیب خان
11 اگست 2020

فلاں مہینے میں فلاں کا ذکر ممنوع کا مفروضہ

اہلِ دین نے جب سے یہ مفروضہ قائم کر لیا کہ محرم میں ذکر صحابہ ممنوع۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول میں ذکر شہادت ممنوع۔۔۔۔۔ صفر میں اولیاء کے علاوہ ذکر ممنوع۔۔۔۔۔ تو ایک نیا محاذ کھڑا ہوگیا۔۔۔۔ اور اگر کسی نے اس کے خلاف کر لیا تو اس کو رافضی ناصبی خارجی بدعتی وغیرہ کے القابات سے متصف کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ جو کہ سراسر لاعلمی و زیادتی ہے۔۔۔۔۔ اور نجانے ایسے بے ہودہ و فرسودہ خیالات و اعتقادات کہاں سے اخذ کر لیے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور اس کا خلاف کرنے والوں کو دین کے خلاف تصور کر لیا جاتا ہے۔

ایک بات یہ بھی ذہن میں آتی ہے کہ اہلِ علم نے معاشرتی معاشی سماجی رفاہی معاملات و تقریبا چھوڑ ہی رکھا ہے۔۔۔۔۔ حالانکہ ان موضوعات کی بھی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ اور اگر ایسے موضوعات بیان کیے جائیں تو پھر ربیع الاول محرم اور صفر کا جھگڑا نہیں ہوگا۔۔۔۔ کیونکہ کہ موضوعات ضرورت انسانی ہیں۔۔۔۔ اور اس کی حاجت ہر وقت انسان کو رہتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اہل علم کو علم کی روشنی سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اتوار 27 اکتوبر 2019

یہی قول حق ہے ۔۔رحماء بینھم کی عملی تصویر ہوگی ۔۔پھر تخصیص کی کوئی شرعی دلیل نہیں ۔۔بلکہ تخصیص سے بدعقیدگی کی راہ ہموار ہو رہی ۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے