مضامین و مقالات

موت نے شاید میرے ہی گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے

تحریر: شہزادہ آصف بلال سنگرام پوری

‌ذہن کو فکر کی گہرائیوں میں ڈبونے اور قلب پر شدید رنج و الم کا بار اٹھانے کے بعد کپکپاتی ہوئی زبان سے بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جب سے  ہوش سنبھالا ہے تبھی سے آۓ دن کانوں میں یہی خبر گونجتی ہے اور آنکھوں کو یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ مسلمانوں کا خون کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں ہے اپنی اٹھارہ سالہ اس زندگی کا مشاہدہ یہی ہے کی ہمارے ہی سر کو بلا خوف خطر کہیں بھی کسی بھی وقت قلم کر دیا جاتا ہے ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم تو وہ لوگ تھے جو تین سو تیرہ ہوکر بھی ہزاروں کی لشکر پر بلا ہتھیار غالب آتے تھے ہم آج بھی وہی لوگ ہیں کہ قلب میں جذبۂ ایمان موجود ہو تو ہمارا ایک جوان سینکڑوں پر بھاری ہو لیکن ہم اتنے مجبور کیوں ہوۓ اور ہمیں اس ذلت و رسوائی کا سامنہ کیوں کرنا پڑ رہا ہے ہمارے خون کا ایک قطرہ بھی لوگ بہانے سے خوف کھاتے تھے لیکن آج کیا ہوا کہ ہمارے ہی خون کو بے دریغ بہایا جاتا ہے ارے میں تو اپنی سال ولادت (2002) کو آج بھی یاد کرکے سہم جاتا ہوں  اور مجھے آج بھی گجرات کا سانحہ بے حد رلاتا ہے کہ یا اللہ ایسا ظلم ماؤں کو ان کی آنکھوں کے سامنے انھیں بیوہ بنا جاتا تھا بیویوں کو ان کے شوہروں سے ہمیشہ کیلئے داغ مفارقت دے دی جاتی تھی بھائیوں کو بے موت  مار کر ان کی بہنوں سے جدا کر دیا جاتا تھا ننھے بچوں اور بچیوں کا بے رحمی کے ساتھ گلہ گھونٹ دیا جاتا تھا ظالم ہمارے جوانوں کو آگ کی دہکتی شعلوں کے حوالے کر دیتے تھے حد تو یہ ہے کہ حاملہ عورتوں کے حمل کو پیٹ ہی میں تشدد کے ساتھ ظالم ضائع کر دیتے تھے ایسے میں میرے ذہن میں یہ بات گردش کرتی ہے کہ اگر ہمارے والدین بھی ہماری قوم کے لوگوں کے خون سے سرخ اسی سرزمین گجرات کے ساکن ہوتے تو شاید آج میں یہ کہنے اور سننے کے لئے موجود نہ ہوتا بلکہ ظالم مجھے بھی اپنی دردناک ظلم کا شکار بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیتے
‌یہ معاملہ صرف ایک گجرات ہی کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا المیہ ہے کہ لوگ ہمارے ہی خون سے پیاس بجھا رہے ہیں اور ہمارے ہی سروں کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے یاد کریں (2006) کا وہ واقعہ کہ جو شخص اپنے ہی ملک عراق کا  16 جولائی (1979) سے لیکر 9 اپریل (2003) تک صدر رہا ظالم اسی مرد مجاہد صدر صدام حسین کو سازشوں کا جال بچھا کر اور ان کے صاف و شفاف دامن پر الزام کا داغ لگا کر بالآخر 30 دسمبر (2006) کو  فانسی کے پھندے پر چڑھا دیتے ہیں
مگر صدر صدام حسین کی شخصیت۔۔
                جب تک جیا جہان میں تو شان سے جیا
                 خودداریوں کے ساتھ جیا آن سے جیا
                    ہمت کو اپنی تونے سمٹنے نہیں دیا
                   اس قوم کے وقار کو گھٹنے نہیں دیا
                  ہم خون سے تحریر کرینگے تیری روداد
                        صدام زندہ باد صدام زندہ باد
                                                                    (شبینہ ادیب)
بات یہیں ختم نہیں ہوتی یاد کریں ملک شام کا واقعہ برما اور سیریا کا واقعہ کہ ہمارے گھروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا پورے پورے صوبہ کو آتشکدہ بنا دیا گیا کیا ہماری ہی جانیں اتنی بے مول ہیں کہ ہمیں کو بندوق کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بم و بارود اور دیگر اسلحوں کی خوراک ہمیں ٹھہرے کیا موت ہمارا ہی مقدر بن چکی ہے کہ برسوں سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے قہر ہمیں پہ توڑا جا رہا ہے بے موت ہمیں ہی مارا جا رہا ہے ابھی حال ہی میں ظالموں نے دن کے اجالے میں دلی کے سڑکوں پر غداری کی تہمت لگاکر قتل عام ہمارا ہی کیا ہمارے ہی گھروں کو آگ لگایا حد تو یہ ہے کہ ہمارے حلیہ اور پہناوے سے شناخت کرکے ہمارے خون کو بلا حساب و کتاب بہا کر اپنے نفس کی پیاس و بھوک مٹائ گئی اپنی طمانیت قلبی کی خاطر ہمارے ہی سروں کو تن سے جدا کیا گیا روزانہ اسی بڑھتی ہوئی اموات کا سلسلہ اور جانکاہ سانحات کے بارے میں سوچ کر میری زبان یہ برجستہ کہ اٹھی کہ شاید موت نے میرے ہی گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button