پیش کش: بزم رفاعی
خانقاہ رفاعیہ، بڑودہ، گجرات
9978344822
- کتاب: سواد العينين في مناقب غوث ابي العلمين
- مصنف: شیخ ابوالقاسم عبد الکریم الرافعي الشافعي رحمۃ اللہ علیہ
- مترجم خطبہ: مولانا حافظ و قاری ڈاکٹر محمد خان بیابانی رفاعی القادری (کامل الحدیث جامعہ نظامیہ، ریسرچ اسکالر مانو حیدرآباد)
- حسب فرمایش: حضرت مولانا سید شاہ حسام الدین رفاعی ابن حضرت سید شاہ جمال الدین رفاعی مدظلہ العالی (خانقاہ رفاعیہ، بڑودہ، گجرات)
ہم میں کا ہر کوئی یہ جانتا ہیکہ خطبۃ الوداع وہ خطبہ ہے جو نبی پاک صل اللہ علیہ و علی آلہ وصحبہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال اقدس کی جانب اشارہ فرمایا، جو(خطبہ) آپ کی امت کیلئے وداعی وصیتوں پر مشتمل ہے اورحضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ جن کے مقامات بڑے بلند ہیں اور جو اپنے جد مکرم نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہ (کمالات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر) ہیں ان کے مرتبت کے کمالات میں سے ہیکہ آپ نے بھی (اپنے جد مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان ہی سے) اپنے وصال سے قبل کرسی پر ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اپنے وصال کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا اور اپنے مریدین کو آخری وصیتوں سے سرفراز فرمایا. اس خطبہ کو شافعی فقیہ الامام الکبیر الشیخ ابوالقاسم عبد الکریم الرافعي علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب "سواد العينين” میں نقل فرمایا ہے.
ترجمہ خطبۃ الوداع للرفاعی:-
"مجھے خبر دی شیخ عارف ابو ذکریا جمال الدین حمصی نے کہ ان کے شیخ شیخ عارف باللہ امام عزالدین احمد الصیاد جو قطب غوث المحتفل ابوالعباس سید احمد کبیر رفاعی کے نواسے ہیں ان کے جدامجد سیدنا السید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہم نے ام عبیدہ میں کرسی وعظ پر ارشاد فرمایا کہ ان مجالس کے اختتام کا وقت قریب آچکا ہے تو سنو! جو حاضر ہے غائب کو اس کی خبر پہنچا دے کہ جس نے دین کی راہ نیا کام کیا یا نئی بات ایجاد کی اور منفرد بات کہی، مخلوق پر جھوٹ بولتا رہا، شطحیات (ایسی بات جو بظاہر غیر شرعی ہو لیکن کہنے والے کے حسب حال ہو)میں تکلف کیا اور چکنی چپڑی باتوں سے دین کے نام پر لوگوں سے دنیا کماتا رہا اور جان بوجھ کر جھوٹ بولا، اجنبی عورت سے غیر شرعی طور پر خلوت کی، مسلمانوں کے سامان اور اموال کی طرف للچائ نظروں سے دیکھا، بلا وجہ شرعی مسلمان سے بغض رکھا، ظالم کی اعانت کی، مظلوم کی اہانت کی، اولیاء کے مابین تفریق کی، سچے کو جھٹلایا، جھوٹے کی تصدیق کی، بیوقوفوں والا کام کیا اور ان کی بولی بولی تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہیں اس سے دنیا و آخرت میں بری ہوں۔ شیخ منصور بھی ایسے سے بری ہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی بری ہیں۔ اور جو ہم نے کہا اللہ تعالی اس پر نگہبان ہے”۔ ( سواد العینین ص٢٤)