تاریخ کے دریچوں سےملکی خبریں

کیرالہ کا تاریخی پس منظر

از قلم: قمر رضا
نورچک عرف نوچا، سیتا مڑھی بہار

ہندوستان کے جنوب میں بحر عرب کے ساحل پر طویل رقبے میں آباد علاقہ کیرلا کے نام سے مشہور و معروف ہے اسکی ایک جانب عرب ہے جب کہ دوسری سمت کرناٹک اور تامل ناڈو آباد ہے ریاست کیرلا میں کالی کٹ اور ملا پرّم اور اس کے آس پاس کا علاقہ مالا بار کے نام سے شہرت یافتہ ہے ۔ اُن علاقوں کے باشندے ملیاباری کہلاتے ہیں تاریخی روایتوں سے بات ثابت ہوچکی ہے کہ کیرلا میں اسلام ابتداء عصری میں آیا ۔ بحر عرب کے راستے کیرلا میں عربوں کی آمد عہدِ قدیم سے جاری تھی ۔ عربی تاجران سمندری راستے کے ذریعہ کیرلا سے گزر تے ہوئے انڈونیشیا تک جایا کرتے تھے ۔ تاجروں کا ایک قافلہ کالی کٹ آیا اور وہاں کے راجا سے اس قافلے کی ملاقات ہوئی ۔ راجا ایمان قبول کرلیا اور خود بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے عرب کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس طرح ہندوستان کا یہ ساحل علاقہ سب سے پہلے اسلام کی روشنی سے منور ہوا اور عرب کے مسلمانوں کیلئے ایک مستقر اور مضبوط ٹھکانہ بن گیا عرب سے تبلیغ اسلام کے لیے کیرلا آنے والے مشہور بزرگوں میں حضرت مالک بن دینار رضی اللہ عنہ ہیں جن کا روضہ کاسر کوڈ میں مرجع خلائق ہے ۔ عرب کے مختلف ممالک سے صوفیاء کرام و علمائے دین تبلیغ اسلام کے لیے آتے جاتے رہے ۔ بعض صوفیاء کرام اپنے مادرِ وطن سے ہجرت کر کے کیرلا میں آ بسے ۔ اس طرح رفۃ رفتہ کیرلا اسلامی تعلیمات ، مذہبی افکار و خیالات اور اسلامی تہذیب و تمدن کا ایک مثالی نمونہ بن گیا۔
کیرلا میں ماضی قریب تک اسلامی تعلیمات مساجد میں دی جاتی ۔ مسجد کے امام و خطیب کے علاوہ ایک مسجد میں چار پانچ عالمِ دین بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے رہا کرتے تھے جہاں مقامی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے اور دیگر علاقوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت، رہائش اور خوردو نوش کا بھی انتظام ہوا کرتا ۔ یہ طریقہ تعلیم کیرلا میں پلّ درس کے نام سے مشہور ہے۔ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر کیرلا میں بھی باضابطہ اور مستقل دینی تعلیم گاہوں کی تعمیر کارجہان پیدا ہوا۔ دھیرے دھیرے بہت سے مستقل تعلیمی مراکز وجود میں آتے گئے
(جامعہ مرکز کا قیام)
کیرلا کے مشہور جلیل القدر عالم دین قمر العلماء ابو الیتام حضرت شیخ ابوبکر باقوی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم و فنون کی فروغ و ارتقاء اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کالی کٹ شہر سے 14 کلو میٹر فاصلے پر قصبہ کارن تھور میں قومی شاہراھ سے متصل پُرامن علمی فضاء مرکز نگر میں ایک عالی شان دینی درسگاہ کی تعمیر کا پلان بنایا اور رحمت الٰہی پر بھروسہ کرتے ہوئے 18 / اپریل 1978 کو عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیت مفتی مکہ المکرمہ حضرت علامہ سید محمد بن علوی مالکی کے ہاتھوں اس مجوزہ تعلیمی مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور اس ادارے کو جامعہ مرکز الثقافہ السنیہ کا نام دیا گیا ۔ رب تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و کرم فرمائی کے تصدیق دیکھتے ہی دیکھتے یہ ادارہ چند ہی سالوں میں آسمانوں کی بلندیوں تک جا پہنچا ۔ ہند و بیرونِ ہند میں اس کی شہرت پھیل گئی اور تمام بلاداسلامیہ میں اس عظیم الشان ادارے کا چرچا ہونے لگا آج بھی یہ ادارہ برق رفتار کے ساتھ ترقیاں منازل کی طرف رواں دواں ہے

جامعہ مرکز الثقافہ السنیہ صرف دینی تعلیمات ہی کا مرکز نہیں ہے بلکہ دینی علوم کے مختلف شعبوں کے ساتھ عصری علوم کے بہت سے اسکول اور کالیجس ہیں ۔ مسلمانوں کی فلاح عامہ اور یتیموں کی کفالت غربا و مساکین کی امداد وغیرہ سے متعلق شیعہ جات موجود ہیں

(شعبہ جات)

جامعہ مرکز کے زیرِ انتظام دینی تعلیم و عصری تعلیمات اور مسلمانوں کے مفاد عامہ و فلاح و بہبود سے متعلق 60 ساٹھ شعبے موجود ہیں۔ جن میں قابل ذکر شعبے معہد ی اعد ادی ، معہد ی ثانوی ، شریعت کالج ، عربی کالج ، کالج آف اسلامک اسٹڈیز۔ شعبہ تخصص ۔ شعبہ اردو ۔ مرکز گارڈن ۔ گلوبل ویلج ، مدرسہ تحفیظ القران ۔ کشمیری ھوم ۔ یتیم خانہ برائے طلباء و طالبات، سیکنڈری اسکول ، ہائر سیکنڈری اسکول گرلز ہائی اسکول۔ انگلش میڈیم سینیئر سیکنڈری اسکول آئی ٹی سی ۔ آرٹس اینڈ کامرس کالج مرکز ہاسپٹل ، یونانی ہاسپیٹل ۔ مرکز نالج سٹی ۔ اہرام کورس ۔ منیجمنٹ اینڈ ٹریننگ سینٹر ۔ ڈیجیٹل لائبریری ۔ اسٹڈی سینٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔ اسٹڈی سینٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان۔ مرکز کالج آف آرٹس اینڈ سائنس کمپیوٹر سینٹر ، کلیات الاذہریہ ۔ دارالاقامہ برائے تحفیظ القران۔ مرکز ہینڈی کرافٹ سینٹر ، اسٹڈی سینٹر اگنو ۔ مرکز بنات کالج ۔ مرکز کیر ھوم کیر ۔ ویسٹ بنگال ۔ پروجیکٹ وغیرہا کئی شعبے ہیں ۔ مزید شعبہ جات کی تجدید کاری و ترقی تیزی سے ہو رہی ہے ۔ جہاں ملک بھر میں مثلاً یوپی ، بہار ، آسام ، گجرات ، جھارکھنڈ ، بنگال ، ہریانہ ، دہلی, کشمیر ، ممبئی ، راجستھان ، انڈمان ، آندھرا پردیش ، کرناٹک ، اور کیرل کے علاوہ بیرون ممالک مثلاً عرب ، امریکہ ، افریقہ ملیشیاء ، سریلنکا کے کل 20000 بیس ہزار سے زائد طلباء طالبات kg سے pg تک انجینئرنگ سے میڈیکل ریسرچ ثقافی سے اسکول گریجویشن کے علاوہ منیجمنٹ ٹیکنالوجی۔ پروفیشنل ٹریننگ کی تعلیم و تربیت ابتداء سے لیکر فراغت تک کے کل 60 سے زائد شعبوں پر مشتمل دینی و عصری علوم و فنون سمیت فلاح عامہ و معاشرتی خدمات کا قافلہ بڑی تیزی کے ساتھ روز بروز اپنی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ۔ قابل تعریف ہے کہ جن ملک بھر سے ایسے نو عمر نادر مفلس یتیم بچے 2000 ہزار سے زائد زیرِ تعلیم ہیں ۔ جنکے سروں سے والدین کا سایہ اٹھ چکا ہے ۔ اُن بچوں کے قیام و طعام ۔ قلم ، کپڑا ، کاپی ، علاج ، و معالجہ و دیگر جملے مصارف کا خود کفیل ارادہ ہے ۔ علاوہ ازیں ریاست جموں کشمیر کے ایسے سیکڑوں غریب و مسکین اور یتیم طلبہ مرکز کی آغوش میں پل رہے ہیں جو ملکی سرحدوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ فساد یا حالات کے سنگینی اور پسماندگی کے سبب دور دراز تک تعلیم کا کوئی معقول بندو بست نہیں تھا ۔ جامعہ مرکز ان کے لیے اعلیٰ رہائش گاہ لذیذ کھانا ، کپڑا، اسکول فیس، امدو رفت ، و دیگر اہم ضروریات کی تکمیل مفت طور پر کی جاتی ہے۔ ھوم کیر کے تحت بھی 1000 ہزار سے زائد شیر خوار یتیم بچے اور بچیوں کی پرورش اور تعلیمی کفالت ، خوردو نوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کا خرچ بھی مرکز ہی برداشت کرتا ہے ۔ بالخصوص شریعت کالج ، دعوہ کالج حفظلقران میں کل 5000 ہزار student زیرِ تعلیم ہیں ۔ 35 سال کی قلیل مدت میں اب تک 250000 پچیس ہزار سے زائد فارغ التحصیل اسلامی اسکالر مبلغین کرام خطباء ، مدرسین ، حفاظ و قراء دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر دینی و دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں

(اھم شعبہ جات کا مختصر تعارف)

کلیاتِ الا زهریہ : یہ ادارہ تین حصوں میں منقسم ہے۔
1 کلیہ اصول الدین
2 کلیہ شریعہ
3 کلیہ لغہ عربیہ
ان تینوں کلیات میں سے ہر ایک کا نصاب تعلیم چار سال ہے یہ نصاب جامعہ ازہری مصر کے بی اے کے مماثل ومساوی اور جامعہ ازہر کے نصاب سے ماخوذ ہے ۔ اُن تینوں کلیات کے فارغین ازہری کہلاتے ہیں ۔یہ ہندوستان کی انفرادی درسگاہ ہے جہاں عالمِ اسلام کی عظیم ترین اسلامی یونیرسٹی کے نصاب و نظام کے مطابق دی جاتی ہے۔ جس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو تا رہتا ہے ۔

(سند کی مقبولیت )

شریعت کالج کے کامل کی سند کو ہند و بیرونِ ہند کی مندرجہ ذیل یونیورسٹیو ں نے تسلیم کیا ہے
1 جامعہ ازہر مصر
2 دہلی یونیورسٹی دہلی
3 ہمدرد یونیورسٹی دہلی
4 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ یوپی
5 اسلامک ايجوکیشن بورڈ آف انڈیا دہلی
6 مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button